المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
394. المؤمن إذا أذنب ذنبا كانت نكتة سوداء فى قلبه
گناہ کرنے پر مومن کے دل میں سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے
حدیث نمبر: 3952
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدَّثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا محمد بن عَجْلان، عن القعقاع بن حَكِيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال:"إنَّ المؤمنَ إذا أذنَبَ ذنبًا، كانت نُكْتةٌ سوداءُ في قلبه، فإن تاب ونَزَعَ واستَغفَر سُقِلَ منها قلبُه، وإن زاد زادَتْ حتى يُغلَقَ بها قلبُه، فذلك الرَّانُ الذي ذَكَرَ الله في كتابه: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (14) ﴾" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3908 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3908 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندہ مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نشان پڑ جاتا ہے، اگر وہ اس سے توبہ کر لے، استغفار کر لے اور اسے چھوڑ دے تو وہ نشان وہاں سے ختم ہو جاتا ہے اور اگر وہ مزید گناہ کرے تو یہ سیاہی بھی بڑھ جاتی ہے حتیٰ کہ اس کا دل مکمل کالا ہو جاتا ہے۔ یہ ہے وہ ” ران “ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یوں کیا ہے: بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (المطففین: 14) ” کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3952]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3952 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل صفوان بن عيسى وشيخه محمد بن عجلان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صفوان بن عیسیٰ اور ان کے شیخ محمد بن عجلان کی وجہ سے "جید" ہے۔
وأخرجه أحمد 13/ (7952) عن صفوان بن عيسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (13/7952) نے صفوان بن عیسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف برقم (6) من طريق أبي خالد الأحمر عن ابن عجلان.
📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (6) پر ابو خالد احمر عن ابن عجلان کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وسُقل، بالسين وبالصاد أيضًا: جُلِيَ.
📝 نوٹ / توضیح: "سقل": یہ سین اور صاد دونوں کے ساتھ آتا ہے، اس کا معنی ہے: "جِلا بخشی گئی" (چمکایا گیا)۔