🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
394. المؤمن إذا أذنب ذنبا كانت نكتة سوداء فى قلبه
گناہ کرنے پر مومن کے دل میں سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3953
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدَّثنا إسحاق بن الحسن، حدَّثنا أبو حُذيفة، حدَّثنا سفيان، عن أشعثَ بن أبي الشَّعثاء، عن زيد بن معاوية، عن عَلقَمة بن قيس، عن عبد الله بن مسعود قال: ﴿خِتَامُهُ مِسْكٌ﴾ [المطففين: 26] ، قال: خِلْطٌ، وليس بخاتمٍ يُختَم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ 84 - تفسير سورة (إذا السماء انشقَّت) والسجود فيها أما حديثُ السجود فيها، فقد اتَّفق الشيخانِ على حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سَلَمة عن أبي هريرة، ومالكٍ عن عبد الله بن يزيد عن أبي سَلمة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3909 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خِتَامُہٗ مِسْکٌ (اس کی مہر مشک پر ہے) (سے مراد) خلط ملط ہونا ہے، نہ کہ کوئی مہر ہے جس سے مہر لگائی جاتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3953]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3953 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن إن شاء الله، زيد بن معاوية - وهو العبسي الكوفي - روى عنه ثلاثة، ذكره البخاري في "تاريخه" 3/ 406 وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 3/ 572 ولم يأثرا فيه جرحًا أو تعديلًا، ووثقه العجلي وابن حبان. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: زید بن معاویہ (عبسی کوفی) سے تین راویوں نے روایت کی ہے، بخاری نے "التاریخ" (3/406) اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (3/572) میں ذکر کیا ہے مگر جرح یا تعدیل نقل نہیں کی، البتہ عجلی اور ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے۔ ابو حذیفہ سے مراد "موسیٰ بن مسعود نہدی" اور سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "البعث والنشور" (324) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "البعث والنشور" (324) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن المبارك في "الزهد" برواية نعيم بن حماد (277)، وابن أبي الدنيا في "صفة الجنة" (131)، والطبري في "تفسيره" 30/ 106، والطبراني (9062) من طرق عن سفيان الثوري به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن مبارک نے "الزہد" (بروایت نعیم 277)، ابن ابی الدنیا نے "صفۃ الجنۃ" (131)، طبری نے تفسیر (30/106) اور طبرانی (9062) نے سفیان ثوری کے مختلف طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
ورواه أيوب والجراح بن مليح عند الطبري عن أشعث بن أبي الشعثاء فجعلاه من تفسير علقمة بن قيس.
📖 حوالہ / مصدر: ایوب اور جراح بن ملیح نے اسے طبری کے ہاں اشعث بن ابی شعثاء سے روایت کرتے ہوئے اسے علقمہ بن قیس کی تفسیر قرار دیا ہے۔
وروى معناه مسروق عن ابن مسعودٍ فيما أخرجه ابن المبارك في "الزهد" برواية المروزي (1494)، وابن أبي شيبة 13/ 142، وإبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 2/ 558، والطبري 30/ 106، والإسناد إليه صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا مفہوم مسروق نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابن مبارک نے "الزہد" (بروایت مروزی 1494)، ابن ابی شیبہ (13/142)، ابراہیم الحربی نے "غریب الحدیث" (2/558) اور طبری (30/106) میں تخریج کی ہے۔ اور ان (مسروق) تک سند "صحیح" ہے۔
والخِلط: المخلوط بغيره الممزوج به.
📝 نوٹ / توضیح: "الخلط": جو کسی اور چیز کے ساتھ ملا ہوا اور ممزوج ہو۔
(1) يشير إلى حديث أبي سلمة: أن أبا هريرة قرأ لهم ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ فسجد فيها، فلما انصرف أخبرهم أنَّ رسول الله ﷺ سجد فيها. وهذا الحديث قد اتفقا على إخراجه من حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة، البخاري برقم (1074) ومسلم برقم (578) (107)، أما حديث مالك عن عبد الله بن يزيد عن أبي سلمة فقد انفرد مسلم بروايته دون البخاري.
📖 حوالہ / مصدر: ان کا اشارہ ابو سلمہ کی حدیث کی طرف ہے کہ ابو ہریرہ نے ان کے سامنے ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ پڑھی تو اس میں سجدہ کیا، جب فارغ ہوئے تو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سجدہ کیا تھا۔ اس حدیث کو یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ کے طریق سے بخاری (1074) اور مسلم (578/107) نے متفقہ طور پر روایت کیا ہے۔ البتہ مالک عن عبد اللہ بن یزید عن ابی سلمہ کی حدیث مسلم نے بخاری کے بغیر "منفرد" روایت کی ہے۔