المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
398. الشاهد يوم عرفة والمشهود يوم القيامة
یومِ عرفہ شاہد ہے اور قیامت کا دن مشہود
حدیث نمبر: 3961
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا ابن أبي عمر، حدَّثنا سفيان، عن أبي حمزة الثُّمَالي، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: إنَّ ممّا خَلَقَ اللهُ لَلَوحًا محفوظًا من دُرَةٍ بيضاءَ، دَفَّتاهُ من ياقوتةٍ حمراء، قلمُه بر، وكتابُه نورٌ، يَنظُر فيه كلَّ يوم ثلاثَ مئة وستين نظرةً - أو مرةً - ففى كلِّ نظرة منها يَخلُق ويَرزُق ويُحيي ويُميت، ويُعِزُّ ويُذِلُّ، ويفعلُ ما يشاء، فذلك قولُه: ﴿كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ﴾ [الرحمن: 29] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا حمزة الثُّمالي لم يُنقَم عليه إلَّا الغلوُّ في مذهبه فقط! [86 - تفسير سورة الطارق] ﷽
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا حمزة الثُّمالي لم يُنقَم عليه إلَّا الغلوُّ في مذهبه فقط! [86 - تفسير سورة الطارق] ﷽
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک سفید موتی سے لوح محفوظ بنائی، جس کی دونوں جانبیں سرخ رنگ کے یاقوت کی ہیں، اس کی قلم نور کی ہے اور اس کی لکھائی نور کی ہے، وہ اس میں روزانہ 360 مرتبہ نظر فرماتا ہے اور ہر مرتبہ میں پیدا کرتا، رزق دیتا، زندہ کرتا، مارتا، عزت دیتا، ذلت دیتا اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا: کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ (الرحمن: 29) ” اسے ہر دن ایک کام ہے۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ ابوحمزہ الثمالی پر کسی نے اعتراض نہیں کیا سوائے اس کے جس نے اپنے مذہب میں غلو کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3961]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3961 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي حمزة الثمالي. وقد سلف برقم (3813).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابو حمزہ ثمالی کی وجہ سے "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ یہ پہلے نمبر (3813) پر گزر چکی ہے۔