🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
399. تفسير سورة الطارق
تفسیر سورۂ الطارق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3963
أخبرني إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّنْعاني، أخبرنا محمد بن جُعشُم (2) ، حدَّثنا سفيان، عن خُصَيف، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ﴾ قال: المطر ﴿وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ﴾ قال: ذات النَّبات (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 87 - تفسير سورة (سبِّح اسم ربك الأعلى)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3919 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما: وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ (الطارق: 11) آسمان کی قسم! جس سے مینہ اترتا ہے کے متعلق فرماتے ہیں (اس سے مراد) بارش ہے۔ اور: وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (الطارق: 12) اور زمین کی جو اس سے کھلتی ہے۔ (سے مراد) بیل بوٹیوں والی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3963]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3963 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ب) إلى: جعثم. ومحمد بن جعشم هذا: هو محمد بن شرحبيل بن جعشم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں یہ تحریف ہو کر "جعثم" بن گیا ہے۔ یہ محمد بن جعشم دراصل "محمد بن شرحبیل بن جعشم" ہیں۔
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل خصيف - وهو ابن عبد الرحمن الجزري - وقد توبع. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند خصیف (ابن عبد الرحمن جزری) کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔ سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 365، وكذا الطبري 30/ 148، وأبو الشيخ في "العظمة" (746)، والثعلبي في "تفسيره" 10/ 180 - 181 من طريق سفيان الثوري، بهذا الإسناد - وسقط في مطبوع الثعلبي سفيان من الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے تفسیر (2/365)، طبری (30/148)، ابو الشیخ نے "العظمۃ" (746) اور ثعلبی نے تفسیر (10/180-181) میں سفیان ثوری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ثعلبی کے مطبوعہ نسخے میں سند سے سفیان کا نام ساقط ہو گیا ہے۔
وأخرجه إبراهيم الحربي في "غريب الحديث" كما في "تغليق التعليق" 4/ 365، والضياء المقدسي في "المختارة" 12/ (115) من طريق إسرائيل، عن سماك بن حرب، عن عكرمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابراہیم الحربی نے "غریب الحدیث" (جیسا کہ "تغلیق التعلیق" 4/365 میں ہے) اور ضیاء مقدسی نے "المختارۃ" (12/115) میں اسرائیل کے طریق سے، انہوں نے سماک بن حرب سے، انہوں نے عکرمہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔