المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
400. تفسير سورة { سبح اسم ربك الأعلى } - ذكر السور التى تقرأ فى صلاة الوتر
تفسیر سورۂ سبح اسم ربك الأعلى — وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 3964
حدثني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدَّثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدَّثنا أبي وعمرُو بن الرَّبيع بن طارق وسعيدُ بن أبي مريم قالوا: حدَّثنا يحيى بن أيوب، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ ما يقرأ في الوِتْر في الركعة الأولى ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، وفي الثانية ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، وفي الثالثة ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ و ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرجه البخاريُّ وحده عن ابن أبي مريم (2) ، وإنما تعرف هذه الزيادةُ من حديث يحيى بن أيوب فقط (3) . وقد رُوي بإسناد آخرَ صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3920 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرجه البخاريُّ وحده عن ابن أبي مريم (2) ، وإنما تعرف هذه الزيادةُ من حديث يحيى بن أيوب فقط (3) . وقد رُوي بإسناد آخرَ صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3920 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتروں کی پہلی رکعت میں (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی) پڑھتے اور دوسری میں (قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ) اور تیسری میں چاروں قل پڑھا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ابن ابی ابراہیم کے واسطے سے نقل کیا ہے جبکہ یہ اضافہ صرف یحیی بن ایوب کی روایت سے ثابت ہے اور یہ حدیث ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3964]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3964 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي - وكذا يحيى بن عثمان بن صالح فهو صدوق حسن الحديث، وقد توبع فيما سلف برقم (1146) و (1157). وانظر الحديثين التاليين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند یحییٰ بن ایوب (غافقی) اور یحییٰ بن عثمان بن صالح (جو صدوق حسن الحدیث ہیں) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت گزشتہ روایات نمبر (1146) اور (1157) میں موجود ہے۔ اگلی دو حدیثیں بھی دیکھیں۔
(2) هذا ذهول من الحاكم ﵀، فإنَّ البخاري لم يخرج هذا الحديث لا من طريق ابن أبي مريم ولا غيره.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ حاکم رحمہ اللہ کا "ذہول" ہے، کیونکہ بخاری نے اس حدیث کو نہ تو ابن ابی مریم کے طریق سے روایت کیا ہے اور نہ ہی کسی اور طریق سے۔
(3) بل ومن حديث غيره كما سيأتي عند المصنف لاحقًا من حديث خصيف عن عبد العزيز بن جريج عن عائشة، ومن حديث سليمان بن حسان عن حيوة بن شريح عن عياش القتباني عن يزيد بن رومان عن عروة عن عائشة عند محمد بن نصر المروزي في "قيام الليل" كما في "نتائج الأفكار" لابن حجر 1/ 514. وسليمان بن حسان قال أبو حاتم: صحيح الحديث، وقال العقيلي في ترجمته من "الضعفاء" وأخرج له هذا الحديث: لا يتابع على حديثه.
📖 حوالہ / مصدر: بلکہ دوسروں کی حدیث سے بھی، جیسا کہ مصنف کے ہاں آگے خصیف عن عبد العزیز بن جریج عن عائشہ کی حدیث آئے گی۔ اور سلیمان بن حسان عن حیوہ بن شریح عن عیاش قتبانی عن یزید بن رومان عن عروہ عن عائشہ کی حدیث سے بھی، جو محمد بن نصر مروزی کی "قیام اللیل" (جیسا کہ ابن حجر کی "نتائج الافکار" 1/514 میں ہے) میں ہے۔ سلیمان بن حسان کے بارے میں ابو حاتم نے کہا: صحیح الحدیث ہے، اور عقیلی نے "الضعفاء" میں اس کا ترجمہ لکھا اور اس کی یہ حدیث ذکر کر کے کہا: اس کی حدیث پر متابعت نہیں کی جاتی۔