المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
400. تفسير سورة { سبح اسم ربك الأعلى } - ذكر السور التى تقرأ فى صلاة الوتر
تفسیر سورۂ سبح اسم ربك الأعلى — وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 3968
وحدثنا أبو الوليد، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا يعلى بن عطاء، عن القاسم بن ربيعة قال: كان سعدُ بن أبي وقَّاص إذا قرأ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ قال: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [الأعلى: 6] ، قال: يتذكر القرآن مخافةَ أن يَنسَى. قال وسمعتُ سعدًا يقرأُ: (ما نَنسَخ من آيةٍ أو تَنسَها) [البقرة: 106] ، قلت: فإنَّ سعيد بن المسيب يقرأ: ﴿أَوْ نُنْسِهَا (2) ﴾، فقال سعد: إنَّ القرآن لم يُنزَّلُ على المسيّب ولا آل المسيب، قال الله ﷿: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [الأعلى: 6] ، وقال: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: 24] (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [88 - تفسير سورة الغاشية] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3924 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [88 - تفسير سورة الغاشية] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3924 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی) پڑھتے تو کہتے: سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰٓی (ہم عنقریب تمہیں پڑھائیں گے پھر تم اسے نہ بھولو گے) آپ بھولنے کے خوف کی وجہ سے قرآن پاک یاد کرتے رہتے تھے (قاسم بن ربیعہ) کہتے ہیں: میں نے سعد رضی اللہ عنہ کو یوں پڑھتے سنا ” مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا “ مں نے کہا: سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ اس کو ” اَوْ نَنْسَاھَا “ پڑھا کرتے تھے۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: قرآن مسیب پر اور اس کی آل پر نازل نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰٓی اور فرمایا: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ (اور اپنے رب کو یاد کرو جب بھول جاؤ) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3968]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3968 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية بزيادة ألف بعد السين، ولا نُراه إلا خطأً، وقد سلف ضبط قراءة سعيد عند الرواية السالفة برقم (2989).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں سین کے بعد الف کے اضافے کے ساتھ ہے، ہمارے خیال میں یہ غلطی ہے۔ سعید کی قرأت کا ضبط گزشتہ روایت نمبر (2989) میں گزر چکا ہے۔
(3) إسناده حسن إن شاء الله من أجل القاسم بن ربيعة. وقد سلف برقم (2989) من طريق شعبة عن يعلى بن عطاء.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند القاسم بن ربیعہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2989) پر شعبہ عن یعلیٰ بن عطاء کے طریق سے گزر چکی ہے۔