🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
410. شأن نزول سورة ( والضحى )
سورہ والضحیٰ کے نزول کا پس منظر (شانِ نزول)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3989
أخبرنا إسحاق بن محمد الهاشمي بالكوفة، حدَّثنا محمد بن علي بن عفَّان العامرِي، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن زيد بن أَرقمَ قال: لما نزلت ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ إلى ﴿وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (4) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ﴾ قال: فقيل لامرأة أبي لهبٍ: إنَّ محمدًا قد هَجَاكِ، فأتتْ رسول الله ﷺ وهو جالسٌ في المَلأ، فقالت: يا محمدُ، عَلَامَ تَهجُوني؟ قال: فقال:"إني واللهِ ما هَجَوتُكِ، ما هجاكِ إِلَّا الله" قال: فقالت: هل رأيتَني أحمِلُ حطبًا، أو رأيتَ في جِيدِي حبلًا من مَسَد؟! ثم انطَلَقَت، فمَكَثَ رسولُ الله ﷺ أيامًا لا يُنزَّلُ عليه، فأتته فقالت: يا محمدُ، ما أرى صاحبَك إلا قد وَدَّعك وقَلَاك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَالضُّحَى (1) وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى (2) مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾ (1) . هذا إسناد صحيح كما حدَّثَناه هذا الشيخُ، إلا أني وجدتُ له عِلَّةً:
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سورۃ لہب: تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَ مَا کَسَبَ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍ وَّ امْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ فِیْ جِیْدِھَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا (اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا، اب دھنستا ہے لپٹ مارتی آگ میں وہ اور اس کی جورو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسا ۔ نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی سے کہا گیا: محمد نے تیری مذمت کی ہے۔ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آ کر بولی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میری مذمت کیوں کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! تیری مذمت میں نے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیری مذمت کی ہے۔ اس نے کہا: کیا تم نے مجھے دیکھا ہے، میں لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتی ہوں، یا تو نے دیکھا ہے میرے گلے میں کھجور کی شال کا رسا ہے۔ پھر وہ چلی گئی، پھر کئی دن گزر گئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئی اور بولی: اے محمد! میرا خیال ہے کہ آپ کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: وَالضُّحٰی وَ الَّیْلِ اِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی چاشت کی قسم، اور رات کی جب پردہ ڈالے، کہ تمہیں تمہارے رب نے نہ چھوڑا، اور نہ مکروہ جانا ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ ہمارے شیخ نے بیان کی ہے مگر یہ کہ مجھے اس میں علت مل گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3989]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3989 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ضعيف وإن كان ظاهر إسناده لا بأس به، إلّا أنَّ له علةً كما قال المصنف، فأغلب الظن أنَّ شيخه قد أخطأ في جعله من حديث أبي إسحاق - وهو السَّبيعي - عن زيد بن أرقم، والصواب فيه ما سيأتي بإثره عند المصنف من حديث أبي إسحاق عن يزيد بن زيد، ويزيد هذا مجهول لا يُعرَف كما قال الذهبي في ترجمته من "ميزان الاعتدال".
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "ضعیف" ہے اگرچہ بظاہر اس کی سند میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس میں ایک "علت" ہے جیسا کہ مصنف نے کہا۔ غالب گمان یہ ہے کہ ان کے شیخ نے غلطی کی ہے کہ اسے ابو اسحاق (سبیعی) عن زید بن ارقم کی حدیث بنا دیا۔ درست وہ ہے جو مصنف کے ہاں اس کے فوراً بعد آرہا ہے جو ابو اسحاق عن "یزید بن زید" کی حدیث ہے، اور یہ یزید "مجہول" اور غیر معروف ہے جیسا کہ ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں اس کے ترجمہ میں کہا ہے۔
وأصح منه ما سلف برقم (3416) من حديث أسماء بنت أبي بكر.
📖 حوالہ / مصدر: اس سے زیادہ صحیح اسماء بنت ابی بکر کی حدیث ہے جو پہلے نمبر (3416) پر گزر چکی ہے۔