المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
421. تفسير سورة والعاديات
تفسیر سورہ والعادیات
حدیث نمبر: 4011
أخبرنا محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا إسرائيل، أخبرني عبد الكريم الجَزَري، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا﴾ قال: هي الخيلُ ﴿فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا﴾ قال: الرجلُ إِذا أَوْرَى زَنْدَه ﴿فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا﴾ قال: الخيلُ تصبِّحُ العدوَّ ﴿فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا﴾ قال: الترابُ ﴿فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا﴾ قال: العدوُّ ﴿إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ﴾ قال: الكَفُورُ (1) . [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3967 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3967 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ الْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ” قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی “ کے متعلق فرماتے ہیں: (اس سے مراد) گھوڑے ہیں۔ فَالْمُوْرِٰیتِ قَدْحًا ” پھر پتھروں سے آگ نکالتے ہیں سم مار کر “ فرماتے ہیں: آدمی جب چقماق سے آگ نکالے۔ فَالْمُغِیْرٰتِ صُبْحًا ” گھوڑے جو صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں “۔ فَاَثَرْنَ بِہٖ نَقْعًا ” پھر اس وقت غبار اڑاتے ہیں (آپ فرماتے ہیں نقعا سے مراد) مٹی ہے۔ فَوَسَطْنَ بِہٖ جَمْعًا ” پھر دشمن کے بیچ لشکر میں جاتے ہیں “ اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوْدٌ ” بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔“ (لکنود کا مطلب) لکفور ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4011]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4011 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأورده السيوطي في "الدر المنثور" 8/ 106 وزاد نسبته إلى عبد بن حميد.
📖 حوالہ / مصدر: سیوطی نے "الدر المنثور" (8/106) میں اسے ذکر کیا ہے اور عبد بن حمید کی طرف نسبت کا اضافہ کیا ہے۔