🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
420. تفسير سورة الزلزلة - فضيلة سورة: {إذا زلزلت}
تفسیر سورہ الزلزلہ - سورہ "اذا زلزلت" کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو بكر الشافعي، قالا: حدَّثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سفيان بن حُسين، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء الرَّحَبي قال: بَيْنا أبو بكر الصِّديق يَتغدَّى مع رسول الله ﷺ إذْ نَزَلت هذه الآية: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾، فأمسك أبو بكر وقال: يا رسول الله، أكلُّ ما عَمِلنا من سوءٍ رأيناه؟ فقال:"ما تَرونَ مما تكرهون، فذلك ما تُجزَونَ، يُؤخَّرُ الخيرُ لأهله في الآخرة" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3966 - مرسل
ابواسماء الرحبی کا بیان ہے کہ ایک دفعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ناشتہ کر رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (الزلزلۃ: 7، 8) جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا، اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رک گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم نے جو بھی برا عمل کیا، وہ دیکھیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: جو تم تکالیف دیکھتے ہو یہ تمہارا بدلہ ہے اور نیکیاں، نیک لوگوں کے لئے آخرت کے لئے ذخیرہ کر لی جاتی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4010]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4010 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، محمد بن مسلمة الواسطي لين الحديث، إلا أنه متابع، فقد عزا السيوطي هذا الحديث في "الدر المنثور" 8/ 593 إلى إسحاق بن راهويه وعبد بن حميد، وهما من طبقة محمد بن مسلمة يرويان عن يزيد بن هارون، فالغالب أنهما روياه عن يزيد فبذلك تسقط العهدة عن محمد بن مسلمة، وتبقى العلة في إرساله، فإنَّ أبا أسماء الرحبي تابعي لم يدرك النبيَّ ﷺ ولا أبا بكر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف" ہے۔ محمد بن مسلمہ واسطی لین الحدیث ہیں، لیکن وہ "متابع" ہیں (کیونکہ سیوطی نے "الدر المنثور" 8/593 میں اسے اسحاق بن راہویہ اور عبد بن حمید کی طرف منسوب کیا ہے جو محمد بن مسلمہ کے طبقے کے ہیں اور یزید بن ہارون سے روایت کرتے ہیں، لہٰذا غالب گمان یہی ہے کہ انہوں نے بھی یزید سے روایت کیا ہوگا، تو محمد بن مسلمہ کی ذمہ داری ختم ہو گئی)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ اس کے "مرسل" ہونے کی علت باقی رہتی ہے، کیونکہ ابو اسماء رحبی تابعی ہیں، انہوں نے نہ نبی ﷺ کو پایا اور نہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو۔
ثم إنه قد اختُلف فيه على أيوب، فقد رواه الهيثم بن الربيع، عن سماك بن عطية، عن أيوب - وهو السختياني - عن أبي قلابة - وهو عبد الله بن زيد الجرمي - عن أنس. أخرجه من هذا الطريق الطبري في "تفسيره" 30/ 268، والعقيلي في "الضعفاء" (1905)، والطبراني في "الأوسط" (8407)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (9351)، والضياء في "المختارة" 6/ (2243 - 2246).
🔍 فنی نکتہ / علّت: پھر اس میں ایوب پر اختلاف ہوا ہے؛ چنانچہ اسے ہیثم بن ربیع نے سماک بن عطیہ سے، انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، انہوں نے ابو قلابہ (عبد اللہ بن زید جرمی) سے، انہوں نے انس سے روایت کیا ہے۔ اسے اس طریق سے طبری نے تفسیر (30/268)، عقیلی نے "الضعفاء" (1905)، طبرانی نے "الاوسط" (8407)، بیہقی نے "شعب الایمان" (9351) اور ضیاء نے "المختارۃ" (6/2243-2246) میں روایت کیا ہے۔
والهيثم بن الربيع قال أبو حاتم: شيخ ليس بالمعروف، ووهمه العقيلي في حديثه هذا، وكذا غلَّطه فيه الطبريُّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہیثم بن ربیع کے بارے میں ابو حاتم نے کہا: "یہ شیخ معروف نہیں ہے"، اور عقیلی نے اس حدیث میں اسے وہم کا شکار قرار دیا ہے، اور اسی طرح طبری نے اسے غلطی پر قرار دیا ہے۔
والصواب - كما قال الطبري والعقيلي - ما رواه إسماعيل ابن عليّة وعبد الوهاب الثقفي عند الطبري 25/ 32 و 30/ 268 عن أيوب قال: قرأت في كتاب أبي قلابة عن أبي إدريس: أنَّ أبا بكر كان يأكل … فذكره. وأبو إدريس - وهو عائذ الله بن عبد الله الخولاني - من أئمة التابعين، إلّا أنه لم يدرك السماع من أبي بكر، فروايته مرسلة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: درست وہ ہے (جیسا کہ طبری اور عقیلی نے کہا) جو اسماعیل بن علیہ اور عبد الوہاب ثقفی نے (طبری 25/32، 30/268 میں) ایوب سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ابو قلابہ کی کتاب میں ابو ادریس سے پڑھا کہ: ابو بکر کھا رہے تھے... پھر ذکر کیا۔ ابو ادریس (عائذ بن عبد اللہ خولانی) ائمہ تابعین میں سے ہیں، مگر انہوں نے ابو بکر سے سماع نہیں پایا، لہٰذا ان کی روایت "مرسل" ہے۔
وأصل الحديث قد روي عن أبي بكر من غير هذا الوجه، انظر ما سيأتي عند المصنف برقم (4499).
📖 حوالہ / مصدر: حدیث کی اصل ابو بکر سے اس کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، مصنف کے ہاں آگے نمبر (4499) پر دیکھیں۔