🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بيان خلق السماوات والأرض وآدم
آسمانوں، زمین اور سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4041
أخبرنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمَسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا هناد بن السَّرِي، حدثنا أبو بكر بن عياش، عن أبي سعد (1) ، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ اليهود أتت النبي ﷺ، فسألته عن خَلْقٍ السماوات والأرض، فقال:"خلَقَ اللهُ الأرضَ يوم الأحد والاثنين، وخلق الله الجبال يوم الثلاثاء وما فيهنَّ من منافع، وخلَقَ يومَ الأربعاء الشجر والماء والمدائن والعُمران والخراب، فهذه أربعة، فقال ﷿: ﴿قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (9) وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا﴾ إلى آخر الآية قال الله ﷿: ﴿فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ﴾ [فصلت:9 - 10] وخلق يوم الخميس السماء، وخلَقَ يومَ الجمعة النجوم والشمس والقمر والملائكة، إلى ثلاث ساعات بقين منه، فخلَقَ في أول ساعة من هذه الثلاث ساعات الآجال حين يموتُ مَن مات، وفي الثانية ألقى الآفة على كل شيء مما ينتفع به الناسُ، وفي الثالثة آدم وأسكنه الجنة وأمر إبليس بالسجود له، وأخرجه منها في آخر ساعة" ثم قالت اليهود: ثم ماذا يا محمد؟ قال:"ثم استوى على العرش" قالوا: قد أصبت لو أتممت، قالوا: ثم استراح، قال: فغضب النبي ﷺ غضبًا شديدًا، فنزلت: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38) فَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ﴾ [ق: 38 - 39] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3997 - أبو سعيد البقال قال ابن معين لا يكتب حديثه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے متعلق آپ سے سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو اور ان میں جتنے بھی منافع ہیں، سب کو منگل کے دن پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ نے بدھ کے دن درخت، پانی، میدان، آبادیاں اور جنگل پیدا کئے۔ یہ چار دن ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: قُلْ اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَندَادًا ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ وَ جَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَ ٰبرَکَ فِیْھَا وَ قَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ) (حم السجدۃ: 10، 9) تم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو وہ ہے سارے جہان کا رب، اور اس میں اس کے اوپر لنگر ڈالے اور اس میں برکت رکھی اور اس کے بسنے والوں کی روزیاں مقرر کیں یہ سب ملا کر چار دن ہیں ٹھیک جواب پوچھنے والوں کو اور جمعرات کے دن آسمان بنایا اور جمعہ کے دن ستارے، سورج، چاند اور فرشتے بنائے حتیٰ کہ اس دن کی صرف تین ساعتیں باقی رہ گئیں۔ تو ان تین ساعتوں میں سے پہلی ساعت میں موت کا وقت بنایا کہ کون کب مرے گا اور دوسری ساعت میں ہر اس چیز پر آفت پیدا کی جس سے انسان کو کوئی فائدہ ہو سکتا تھا اور تیسری ساعت میں آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا اور ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرے اور اس ساعت کے آخری وقت میں آدم علیہ السلام کو جنت سے نکال دیا۔ پھر یہودیوں نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پھر کیا ہوا؟ آپ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان بنایا۔ انہوں نے کہا: آپ نے بالکل درست فرمایا اگر بات پوری کر دیتے۔ انہوں نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے آرام کیا۔ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید ناراض ہوئے تب یہ آیت نازل ہوئی: وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (ق: 38، 39) اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی، تو ان کی باتوں پر صبر کرو ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4041]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4041 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (ع) و (ب): أبي سعيد، والمثبت من (ز)، وهو سعيد بن المرزبان البقال.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص)، (ع) اور (ب) میں "ابی سعید" ہے، جبکہ (ز) سے ثابت شدہ "سعید بن المرزبان البقال" ہے۔
(2) إسناده ضعيف لضعف أبي سعد - وهو سعيد بن المرزُبان البقَّال - كما نبه عليه الذهبي في "تلخيصه"، وبه، وبه ضعفه أيضًا ابن حجر في "الفتح" 14/ 228. وقد روي عن عكرمة مرسلًا. وهو أشبه من الموصول، ونقل ابن رجب في "فتح الباري" 3/ 407 عن أبي مجلز لاحق بن حميد أنَّ الآية المذكورة نزلت بسبب قول اليهود، ثم قال: وقد ذكر غير واحد من التابعين أنَّ هذه الآية نزلت بسبب قول اليهود: إن الله خلق السماوات والأرض في ستة أيام، ثم استراح في اليوم السابع، منهم عكرمة وقتادة، فهذا كلام أئمة السلف في إنكار ذلك ونسبته إلى اليهود، وهذا يدلُّ على أنَّ الحديث المرفوع المروي في ذلك لا أصل لرفعه، وإنما هو متلقى عن اليهود، ومن قال: إنه على شرط الشيخين، فقد أخطأ. قلنا: يُعرض في ذلك بالحاكم، غير أن الحاكم لم يذكر هنا بأنه على شرط الشيخين واكتفى بتصحيح الإسناد، وقد رُوي موقوفًا على ابن عباس، وهذا مما يؤيد كونه مأخوذًا عن اليهود كما قال ابن رجب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابو سعد (سعید بن مرزبان البقال) کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے، جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں تنبیہ کی ہے، اور ابن حجر نے بھی "الفتح" (14/228) میں اسی وجہ سے اسے ضعیف کہا ہے۔ یہ عکرمہ سے "مرسلاً" بھی مروی ہے، اور یہ موصول کی نسبت زیادہ قرین قیاس ہے۔ ابن رجب نے "فتح الباری" (3/407) میں ابو مجلز لاحق بن حمید سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ آیت یہودیوں کے قول کی وجہ سے نازل ہوئی۔ پھر فرمایا: متعدد تابعین نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے اس قول کی وجہ سے نازل ہوئی کہ "اللہ نے آسمان و زمین چھ دن میں بنائے اور پھر ساتویں دن آرام کیا"۔ ان میں عکرمہ اور قتادہ شامل ہیں۔ یہ ائمہ سلف کا کلام ہے جو اس (یہودی قول) کے انکار اور اسے یہودیوں کی طرف منسوب کرنے پر دلالت کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بارے میں مروی مرفوع حدیث کی کوئی اصل نہیں، بلکہ یہ یہودیوں سے لی گئی ہے۔ اور جس نے کہا کہ یہ شیخین کی شرط پر ہے اس نے غلطی کی۔ ہم کہتے ہیں: یہاں اشارہ حاکم کی طرف ہے، تاہم حاکم نے یہاں یہ نہیں کہا کہ یہ شیخین کی شرط پر ہے بلکہ صرف سند کی تصحیح پر اکتفا کیا ہے۔ اور یہ ابن عباس پر "موقوفاً" بھی مروی ہے، جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ یہ یہودیوں سے ماخوذ ہے جیسا کہ ابن رجب نے کہا۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (765) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (765) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 24/ 94، وفي "تاريخه" 1/ 23، وأبو جعفر النحاس في "الناسخ والمنسوخ" ص 680، وأبو الفرج الثقفي في "فوائده" (21)، وأبو الشيخ في "العظمة" (878)، والواحدي في "أسباب النزول" (769) من طريق هناد بن السَّرِي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے تفسیر (24/94) اور تاریخ (1/23)، ابو جعفر نحاس نے "الناسخ والمنسوخ" (ص 680)، ابو الفرج ثقفی نے "الفوائد" (21)، ابو الشیخ نے "العظمۃ" (878) اور واحدی نے "اسباب النزول" (769) میں ہناد بن سری کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 184 و 210 عن معمر، عن سفيان بن عيينة، عن أبي سعد البقال، عن عكرمة، مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے تفسیر (2/184، 210) میں معمر سے، انہوں نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے ابو سعد البقال سے، انہوں نے عکرمہ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔
وسلف بنحوه عند المصنف برقم (3724) من رواية الحسن بن إسماعيل بن صبيح، عن أبيه، عن ابن عيينة موصولًا. والحسن هذا لم نقف له على ترجمة.
📖 حوالہ / مصدر: مصنف کے ہاں پہلے نمبر (3724) پر اسی طرح حسن بن اسماعیل بن صبیح کی روایت سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن عیینہ سے "موصولاً" روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس حسن کا ترجمہ ہمیں نہیں ملا۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 23 - 24، وأبو الشيخ في "العظمة" (887) من طريق حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، عن عكرمة مرسلًا أيضًا. وحماد ممّن سمع من عطاء قبل اختلاطه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے تفسیر (1/23-24) اور ابو الشیخ نے "العظمۃ" (887) میں حماد بن سلمہ کے طریق سے، انہوں نے عطاء بن سائب سے، انہوں نے عکرمہ سے "مرسلاً" بھی روایت کیا ہے۔ حماد ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے عطاء سے اختلاط سے پہلے سنا ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تاريخه" 1/ 47 و 53 - 54، وفي "تفسيره" 1/ 194، وابن خزيمة في "التوحيد" 2/ 886، والبيهقي في "الأسماء والصفات" (807) من طريق أبي صالح مولى أم هانئ، والطبري في "تفسيره" 24/ 94، وفي "تاريخه" 1/ 47، وأبو عَروبة الحَرَّاني في "الأوائل" (7)، وأبو الشيخ في "العظمة" (881)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/ 50 من طريق عطاء بن أبي رباح، كلاهما عن ابن عبّاس موقوفًا عليه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح طبری نے تاریخ (1/47، 53-54) اور تفسیر (1/194)، ابن خزیمہ نے "التوحید" (2/886) اور بیہقی نے "الاسماء والصفات" (807) میں ابو صالح مولیٰ ام ہانی کے طریق سے؛ اور طبری نے تفسیر (24/94) اور تاریخ (1/47)، ابو عروبہ حرانی نے "الاوائل" (7)، ابو الشیخ نے "العظمۃ" (881) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (1/50) میں عطاء بن ابی رباح کے طریق سے؛ دونوں نے ابن عباس سے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔