🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه
جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عمرو بن عَوْن. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا خالد بن عبد الله، عن مُطرِّف، عن خالد بن وَهْبان، عن أبي ذرٍّ قال: قال رسول الله ﷺ:"من فارقَ الجماعةَ قِيدَ شِبْرٍ، فقد خَلَعَ رِيْقةَ الإسلام من عُنقِه" (3) . تابعه جريرُ بن عبد الحميد الضّبي عن مطرِّف:
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جماعت کو ایک بالشت کے برابر بھی چھوڑا، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار پھینکا۔
اس کی متابعت جریر بن عبدالحمید نے بھی کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 406]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 406 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن وهبان، ثم إنه منقطع هنا بينه وبين مطرِّف، بينهما فيه أبو الجهم كما عند غير المصنف، وأبو الجهم هو الذي تفرَّد بالرواية عن خالد بن وهبان، واسمه سليمان بن الجهم مطرف: هو ابن طريف الحارثي. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 35/ (21560 - 21562)، وأبو داود (4758) من طرق عن مطرف، عن أبي الجهم، عن خالد بن وهبان به وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، مگر یہ سند خالد بن وہبان کی "جہالت" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں سند میں خالد اور مطرف کے درمیان "انقطاع" بھی ہے، کیونکہ دیگر ائمہ کے ہاں ان کے درمیان ابو الجہم (سلیمان بن الجہم) کا واسطہ موجود ہے جنہوں نے خالد بن وہبان سے روایت کرنے میں تفرد کیا ہے، جبکہ مطرف سے مراد مطرف بن طریف حارثی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 35/ (21560 - 21562) اور ابو داود نے (4758) میں مطرف عن ابی الجہم عن خالد بن وہبان کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له بلفظه حديثا ابن عمر والحارث الأشعري التاليان وهما صحيحان.
🧩 متابعات و شواہد: انہی الفاظ کے ساتھ حضرت ابن عمر اور حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہم کی اگلی دو احادیث اس کے لیے شاہد ہیں اور وہ دونوں "صحیح" ہیں۔
وفي معناه في الباب غير ما حديث، انظرها عند حديث ابن عمر في "مسند أحمد" 9/ (5386).
🧾 تفصیلِ روایت: اس باب میں ہم معنی اور بھی کئی احادیث ہیں جنہیں "مسند احمد" 9/ (5386) میں حضرت ابن عمر کی حدیث کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
قِيد شبر: أي: قدر شبر.
📝 نوٹ / توضیح: "قید شبر" کا مطلب ہے ایک بالشت کی مقدار کے برابر۔
والرِّبقة، قال ابن الأثير في "النهاية": الرِّبقة في الأصل: عُرْوة في حبل تُجعل في عنق البهيمة أو يدها تمسكها، فاستعارها للإسلام، يعني: ما يشدُّ به المسلم نفسه من عرى الإسلام، أي: حدوده وأحكامه وأوامره ونواهيه.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "الربقہ" کے بارے میں علامہ ابن الاثیر "النہایہ" میں فرماتے ہیں کہ: "الربقہ" اصل میں اس رسی کے حلقے کو کہتے ہیں جو جانور کی گردن یا ہاتھ میں اسے قابو کرنے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ یہاں اسے اسلام کے لیے بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے، یعنی اسلام کے وہ حلقے یا کڑیاں جن سے ایک مسلمان خود کو وابستہ رکھتا ہے، مراد اسلام کی حدود، احکام، اوامر اور نواہی ہیں۔