المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. دعاء إسحاق - عليه السلام -
سیدنا اسحاق علیہ السلام کی وہ دعا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمائی تھی
حدیث نمبر: 4094
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا أبو غسان النَّهْدي، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن التّمِيمي، عن ابن عباس، قوله: ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ﴾ [البقرة:124] ، قال: مناسك الحج (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وشواهدها كثيرة قد خرَّجتُها في كتاب"المناسك". ذكر لوطٍ النبي ﷺ قد اتفقت الروايات في أنه من بيت إبراهيم ﷺ، ثم اختلفوا أهو من ولده أو من ولد أخيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4050 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وشواهدها كثيرة قد خرَّجتُها في كتاب"المناسك". ذكر لوطٍ النبي ﷺ قد اتفقت الروايات في أنه من بيت إبراهيم ﷺ، ثم اختلفوا أهو من ولده أو من ولد أخيه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4050 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ اِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ (البقرۃ: 124) کے بارے میں فرمایا: (اس سے مراد) مناسک حج ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے بہت سارے شواہد موجود ہیں جن کو میں نے کتاب المناسک میں نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4094]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4094 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده محتمل للتحسين من أجل التميمي: واسمه أربدَة، وقد سلف بيان حاله عند الحديث (925).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے (یعنی حسن کے قریب ہے)۔ 🔍 فنی نکتہ: یہ (راوی) تمیمی کی وجہ سے ہے، جن کا نام "اربَدہ" ہے، اور ان کے احوال حدیث (925) کے تحت گزر چکے ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 526، وفي "تاريخه" 1/ 284 من طريق أبي إسحاق السبيعي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 526 اور "تاریخ" 1/ 284 میں ابو اسحاق السبیعی کے طریق سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2707) من طريق أبي الطفيل عامر بن واثلة، عن ابن عباس، ضمن حديثه الطويل في قصة الذبح، وإسناده صحيح. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 526، وفي "تاريخه" 1/ 283 - 284 من طريق قتادة، قال: كان ابن عباس يقوله. ورجاله ثقات لكن قتادة لم يدرك ابن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 4/ (2707) نے ابو الطفیل عامر بن واثلہ کے طریق سے، ابن عباس سے، ذبح کے طویل واقعے کے ضمن میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند "صحیح" ہے۔ نیز طبری نے "تفسیر" 1/ 526 اور "تاریخ" 1/ 283-284 میں قتادہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ایسا کہتے تھے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن قتادہ نے ابن عباس کا زمانہ نہیں پایا (یعنی منقطع ہے)۔
وانظر ما تقدم برقم (3092).
📝 نوٹ / توضیح: پیچھے نمبر (3092) پر جو گزرا اسے دیکھ لیں۔
(1) كذا جاء في نسخنا الخطية: مدين درجات، واستظهر في (ص) فوق كلمة "درجات" أنها "ذريات".
📝 نوٹ / توضیح (متن): ہمارے قلمی نسخوں میں الفاظ "مدین درجات" آئے ہیں، جبکہ نسخہ (ص) میں لفظ "درجات" کے اوپر ظاہر کیا گیا ہے کہ شاید یہ "ذریات" (اولاد) ہو۔
(2) إسناده واهٍ كما تقدَّم بيانه برقم (4056).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (سخت ضعیف) ہے جیسا کہ نمبر (4056) پر بیان ہو چکا ہے۔