🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. دعاء إسحاق - عليه السلام -
سیدنا اسحاق علیہ السلام کی وہ دعا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمائی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4093
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا أبو الحسن بن البراء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن منبِّه، قال: حديث إسحاق حين أمر الله إبراهيم أن يذبحه: وهبَ الله لإبراهيم إسحاق في الليلة التي فارقته الملائكة، فلما كان ابن سبع سنين أوحى الله إلى إبراهيم أن يذبحه ويجعله قُربانًا، وكان القُربان يومئذ يُتقبَّل ويُرفَع، فكتم إبراهيمُ ذلك إسحاق وجميع الناس وأسره إلى خليلٍ له يُقال له: العازَرُ الصِّدِّيق، وهو أول من آمَنَ بإبراهيم وقوله، فقال له الصديق: إنَّ الله لا يبتلي بمثل هذا مثلك، ولكنه يريد أن يُجرِّبَك ويَختبرك، فلا يَسُوءنَّ بالله ظَنُّك، فإنَّ الله يجعلك للناس إمامًا، ولا حول ولا قوة لإبراهيم وإسحاق إلّا بالله الرحمن الرحيم؛ فذكر وهب حديثًا طويلًا. إلى أن قال وهبٌ: وبلغني أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لقد سَبَقَ إسحاق الناسَ إلى دعوةٍ ما سبقه إليها أحدٌ، وليقومن يوم القيامة فليشفَعَن لأهل هذه الدعوة، وأقبل الله على إبراهيم في ذلك المقام، فقال: اسمع مني يا إبراهيم، يا (1) أصدق الصادقين، وقال لإسحاق: اسمع مني يا أصبَرَ الصابرين، فإني قد ابتليتكما اليوم ببلاء عظيم لم أبتل به أحدًا من خلقي: ابتليتك يا إبراهيم بالحريق فصبرت صبرًا لم يصبر مثله أحدٌ من العالمين، وابتليتك بالجهاد في وأنت وحيدٌ وضعيفٌ فصدَقْتَ وصبرت صبرًا وصِدْقًا لم يصدق مثله أحدٌ من العالمين، وابتليتك يا إسحاق بالذَّبح، فلم تبخل بنفسك، ولم تُعظم ذلك في طاعةِ أبيك، ورأيتَ ذلك هيِّنًا صغيرًا في الله، بما ترجو من حُسن ثوابه، ويُسرِّيهِ (1) حسن لقائه، وإني أعاهدكما اليوم عهدًا لا أَخِيسُ به، أما أنت يا إبراهيم، فقد وَجَبَتْ لك الخُلّة على نفسي، فأنت خليلي من بين أهل الأرض دون رجال العالمين، وهي فَضيلةٌ لم ينلها أحدٌ قبلك ولا بُدَّ أحدٌ بعدك، فخَرَّ إبراهيم ساجدًا تعظيمًا لِما سَمِعَ من قول الله مُتشكِّرًا الله، وأما أنت يا إسحاق فتمنَّ علي بما شئت، وسَلْني واحتكم أُوتِكَ سؤالك، قال: أسألك يا إلهي أن تصطفيني لنفسك، وأن تُشفِّعَني في عبادك المُوحِّدين، فلا يلقاك عبدٌ لا يُشرك بك شيئًا إلا أجرته من النار، قال له ربه: قد أوجبتُ لك ما سألت وحتّمتُ لك وِلايتك، ما وعدتكما على نفسي وعدًا لا أُخْلِفُه، وعهدًا لا أَخِيسُ به، وعطاءً هنيئًا ليس بمردود (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4049 - عبد المنعم بن إدريس لا شيء
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کا قصہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح کریں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سیدنا اسحاق علیہ السلام عطا فرمائے، جس رات فرشتے ان سے جدا ہوئے۔ پھر جب سیدنا اسحاق علیہ السلام سات سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اس کو ذبح کر کے ان کی قربانی پیش کریں۔ ان دنوں قربانی کی قبولیت کی یہ نشانی تھی کہ اسے اٹھا لیا جاتا تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات سیدنا اسحاق علیہ السلام اور تمام لوگوں سے پوشیدہ رکھی اور صرف اپنے ایک بہت قریبی دوست کو یہ راز بتایا۔ آپ کا یہی دوست سب سے پہلے آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا۔ اس گہرے قریبی دوست نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی آزمائش میں ہرگز نہیں ڈالے گا، البتہ وہ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان ہرگز نہ کیجئے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں کا امام اور پیشوا بنانا چاہتا ہے اور کوئی ہمت اور طاقت نہیں ہے ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کی، اس اللہ کے سوا جو رحمن اور رحیم ہے۔ پھر سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی یہاں تک کہ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا اسحاق علیہ السلام ایک دعا کی طرف تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور کوئی بھی اس میں سبقت نہ کر سکا۔ یہ قیامت کے دن اس دعا کے اہل لوگوں کی شفاعت کریں گے اور اسی مقام پر اللہ تعالیٰ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو گا اور فرمائے گا: اے اصدق الصادقین! (یعنی اے سب سچوں سے بڑے سچے) میری بات سن اور سیدنا اسحاق علیہ السلام سے فرمائے گا: اے اصبر الصابرین (یعنی اے تمام صبر کرنے والوں سے برے صبر کرنے والے) میری بات سنو! میں نے تم دونوں کو بہت بڑی آزمائش میں ڈالا، ایسی آزمائش میں تم سے پہلے اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں ڈالا۔ اے ابراہیم! میں نے تمہیں آگ کی آزمائش میں ڈالا، جس پر تم نے ایسا صبر کیا کہ اس جیسا صبر دنیا میں کوئی نہ کر سکا اور تمہیں اپنی ذات کے متعلق جہاد میں مبتلا کیا حالانکہ تو اکیلا اور ضعیف تھا لیکن اس کے باوجود تم نے سچائی اختیار کی اور ایسا صبر کیا کہ اس کی مثل دنیا میں کوئی بھی صبر اور سچائی اختیار نہ کر سکا اور اے اسحاق علیہ السلام! میں نے تمہیں ذبح کی آزمائش میں ڈالا لیکن تم نے اپنی جان کا بخل نہیں کیا اور تم نے اپنے والد کی فرمانبرداری میں اس معاملہ کو بہت بڑا نہیں سمجھا بلکہ تم نے اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہلکا پھلکا اور چھوٹا جانا جیسا کہ وہ امید کرتا ہے کہ حسن ثواب کی اور اس کی ملاقات پر وہ خوش ہوتا ہے۔ میں آج تم دونوں سے ایک وعدہ کرتا ہوں جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ اے ابراہیم علیہ السلام! تمہارے لئے میرے اوپر جنت واجب ہے، ساری دنیا میں تم میرے دوست ہو اور یہ ایسی فضیلت ہے جو نہ تو تم سے پہلے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ تمہارے بعد کسی کو ملی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام سن کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سجدہ شکر ادا کیا اور اے اسحاق علیہ السلام! تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہارا سوال پورا کروں گا۔ سیدنا اسحاق علیہ السلام نے عرض کی: یا الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے لئے چن لے اور تو اپنے توحید پرست بندوں کے حق میں میری شفاعت کو قبول فرما۔ چنانچہ تیری بارگاہ میں جو بھی آئے اور وہ مشرک نہ ہو تو اس کو دوزخ سے اپنی پناہ عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: تم نے جو سوال کیا ہے میں نے اس کو قبول کر لیا ہے اور میں تجھے تیری ولایت کی ضمانت دیتا ہوں کہ میں نے تم سے اپنے اوپر جس چیز کا وعدہ کیا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور تم سے ایسا عہد کیا ہے جس کو روکوں گا نہیں اور ایسی عطاء کروں گا جو واپس نہیں لی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4093]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4093 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز): أي، بدل: يا، وكلاهما صحيح في النداء.
📝 نوٹ / توضیح (لغت): نسخہ (ز) میں "یا" کے بجائے "أی" (اے) کا لفظ ہے، اور ندا (پکارنے) کے لیے یہ دونوں الفاظ صحیح ہیں۔
(1) أي: يكشِفُ عنه الخوف ويزيله.
📝 نوٹ / توضیح (لغت): (عربی لفظ کی تشریح) یعنی وہ اس سے خوف کو دور کر دے گا اور اسے ختم کر دے گا۔
(2) إسناده واهٍ من أجل عبد المنعم بن إدريس فهو لا شيء كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقال: ووهب إن صح وهب، فمن أين له هذه الخرافات إلّا من كتب تداولها اليهود الذين بدلوا التوراة، فما ظنك بغيرها؟!
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (سخت ضعیف) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبدالمنعم بن ادریس" ہے، جو کہ "لا شئ" (کچھ بھی نہیں/غیر معتبر) ہے، جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا۔ 📌 قول ذہبی: ذہبی فرماتے ہیں: اور وہب بن منبہ (اگر یہ وہب سے ثابت بھی ہو) تو ان کے پاس یہ خرافات کہاں سے آئیں سوائے ان کتابوں کے جو یہودیوں کے ہاتھوں میں تھیں جنہوں نے تورات کو بدل دیا تھا، تو ان کے علاوہ دیگر کتابوں کا کیا حال ہوگا؟!
وقد صح عن وهب بن منبه ما يشير إلى أنَّ الذَّبيح إسحاق فيما رواه عنه الطبري في "تفسيره" 12/ 37 من طريق عبد الصمد بن معقل بن منبه، عن عمه وهب بن منبه، حيث ذكر خبر بشارة إبراهيم وسارة بغلام حليم هو إسحاق، وإسناده حسن، وهذا مصيرٌ منه إلى أن الغلام الحليم المذكور في الآية هو إسحاق الذي جاءت الآيات بعد ذلك بأنه صاحب قصة الذبح.
📖 حوالہ / مصدر: وہب بن منبہ سے صحیح طور پر وہ بات ثابت ہے جو اشارہ کرتی ہے کہ ذبیح "اسحاق" ہیں (نہ کہ اسماعیل)۔ اسے طبری نے "تفسیر" 12/ 37 میں عبدالصمد بن معقل بن منبہ سے، انہوں نے اپنے چچا وہب سے روایت کیا ہے، جہاں انہوں نے ابراہیم اور سارہ کو "غلام حلیم" (بردبار لڑکے) کی بشارت کا ذکر کیا اور وہ اسحاق ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 📌 استدلال: یہ وہب کی طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ آیت میں مذکور "غلام حلیم" سے مراد اسحاق ہیں، اور یہی وہ لڑکا ہے جس کے بارے میں بعد کی آیات بتاتی ہیں کہ وہ ذبح کے قصے کا کردار ہے۔