🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. ذكر لوط النبى - صلى الله عليه وسلم -
سیدنا لوط علیہ السلام کا ذکر — سیدنا لوط علیہ السلام کا نسب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4096
وأخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القناد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: ولوطٌ النبي صلى الله عليه كان ابن أخي إبراهيم الخليل ﵉ (3) . هذا إسناد صحيح. وفي كتاب إسماعيل بن عبد الكريم عن عبد الصمد بن مَعقِل، قال: سمعت وهب بن مُنبِّه يقول: خرج إبراهيم بامرأته سارة ومعها أخوها لوط إلى أرض الشام (4) . وهو قول ثالث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4052 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا لوط علیہ السلام سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے بھتیجے تھے۔ یہ اسناد صحیح ہے اور اسماعیل بن عبدالکریم کی عبدالصمد بن مغفل سے روایت کردہ کتاب میں یہ ہے کہ وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ہمراہ لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کے بھائی لوط علیہ السلام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ تیسرا قول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4096]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4096 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي: واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، جس کی وجہ "اسباط بن نصر" اور "سدی" (اسماعیل بن عبدالرحمن) ہیں۔
(4) هذا أصبح كتاب تُروى فيه أقوال وهب بن مُنبِّه، وعليه فما قاله وهبٌ هنا هو الصحيح عنه. وقد أخرجه موصولًا من هذه الطريق ابن أبي حاتم في "تفسيره" 6/ 1837 عن أبي عبد الله الطَّهراني، عن إسماعيل بن عبد الكريم، به.
📌 اہم نکتہ: یہ کتاب درحقیقت وہب بن منبہ کے اقوال کی روایت کا مجموعہ بن گئی ہے۔ چنانچہ وہب نے یہاں جو کہا ہے وہی ان سے صحیح ثابت ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ابی حاتم نے "تفسیر" 6/ 1837 میں ابو عبداللہ الطہرانی سے، انہوں نے اسماعیل بن عبدالکریم سے، اسی سند کے ساتھ "موصولاً" روایت کیا ہے۔