المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. هلاك قوم شعيب بالريح
قومِ شعیب پر ہوا کے ذریعے عذاب آنا
حدیث نمبر: 4117
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: إِنَّ الله بعث شعيبًا إلى أهل مدين وهم أصحاب الأيكة - والأيكة: الشجرُ المُلْتَفُّ. وكانوا أهل كفر بالله، وبَخْس للناس في المكاييل والموازين، وإفسادٍ لأموالهم، وكان الله تعالى وسَّع عليهم في الرِّزق وبَسَطَ لهم في العيش، استدراجًا منه لهم مع كفرهم به، فقال لهم شعيب: ﴿يَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ﴾ [هود: 84] ، فكان من قول شعيب لقومه وجوابِ قَومِه له ما قد ذَكَرَ اللهُ في كتابه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4073 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4073 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجا تھا اور یہ گنجان سرسبز درختوں کے جھنڈ والے تھے۔ یہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے اور ناپ تول میں کمی اور لوگوں کے مال برباد کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت وسیع رزق دیا تھا اور ان کو زندگی کی تمام آسائشیں عطا کی تھیں۔ حالانکہ یہ لوگ خدا کے منکر تھے۔ سیدنا شعیب علیہ السلام نے ان سے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو، بے شک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ چنانچہ سیدنا شعیب علیہ السلام کی اپنی قوم سے گفتگو اور ان کی قوم کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4117]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4117 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هذا الإسناد واهٍ، كما قال الذهبي في غير موضع من "تلخيصه" من أجل عبد المنعم، فهو متروك الحديث، وكذبه الإمام أحمد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "واہٍ" (سخت کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کئی مقامات پر کہا۔ اس کی وجہ "عبدالمنعم" ہے جو "متروک الحدیث" ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
وأخرج مثله الطبري في "تاريخه" 1/ 326 من قول سفيان الثوري.
📖 حوالہ / مصدر: اسی کی مثل طبری نے "تاریخ" 1/ 326 میں سفیان ثوری کے قول سے بھی روایت کیا ہے۔