المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. ذكر ولادة موسى عليه السلام - ، ذكر تربية موسى فى حجر آسية امرأة فرعون
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور فرعون کی بیوی آسیہ کی گود میں ان کی پرورش کا ذکر
حدیث نمبر: 4140
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المُنعِم بن إدريس بن سِنان اليَمَاني، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنبِّه، قال: ذِكْرُ مولد موسى بن عِمران بن قاهَث بن لاوِي بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم، وحديثُ عدوِّ الله فِرعونَ حين كان يَستعبِدُ بني إسرائيلَ في أعمالِه بمصر، وأمرِ موسى والخَضِر، قال وهبٌ: ولما حَمَلتْ أمُّ موسى بموسى كتَمَتْ أمرَها جميعَ الناسِ، فلم يَطَّلِع على حَمْلِها أحدٌ من خلق الله، وذلك شيءٌ سَتَرها (1) الله به لما أراد أن يَمُنَّ به على بني إسرائيل، فلما كانت السنةُ التي يُولَد فيها موسى بن عِمران بعثَ فرعونُ القَوابِلَ وتقدَّم إليهنّ، وفَتَّش النساء تَفتِيشًا لم يُفتِّشْهُنَّ قبلَ ذلك، وحَمَلت أمُّ موسى بموسى، فلم يَنِتَّ بطنُها (2) ، ولم يَتغيَّر لونُها، ولم يفسُد لبنُها، وكُنَّ القوابلُ لا يَعرِضْنَ لها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلِد فيها موسى وَلَدَتْه أمُّه ولا رَقِيبَ عليها ولا قابِلَ، ولم يَطَّلع عليها أحدٌ إلّا أخته مريم، وأوحى الله إليها: ﴿أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ [القصص: 7] ، قال: فكتَمَتْه أمُّه ثلاثةَ أشهر تُرضِعُه في حِجْرها لا يبكي ولا يتَحرّك، فلما خافتْ عليه وعليها عَمِلتْ له تابُوتًا مُطبَقًا ومَهَّدَتْ له فيه، ثم ألقتْه في البحر ليلًا كما أمرها اللهُ، وعُمِلَ التابوتُ على عَمَلِ سُفنِ البحرِ خمسةَ أشبارٍ في خمسةِ أشبارٍ، ولم يُقيَّر، فأقبل التابوتُ يَطفُو على الماء، فألقى البحرُ التابوتَ بالساحِل في جَوف الليل. فلما أصبح فرعونُ جَلَس في مجلسِه على شاطئ النيل، فبَصُرَ بالتابُوت، فقال لمن حولَه من خَدَمِه: ائتُوني بهذا التابوت، فأَتَوه به، فلما وُضِعَ بين يديه فتحُوه، فوَجَدَ فيه موسى، قال: فلما نظر إليه فرعون قال: عِبْرانيٌّ من الأعداء، فأعْظَمَه ذلك وغاظَه، وقال: كيف أخْطى هذا الغلامُ الذَّبحَ وقد أمرتُ القَوابِلَ أن لا يَكتُمْنَ مولودًا يُولَد، قال: وكان فرعون قد استَنْكَح امرأةً من بني إسرائيل يُقال لها: آسيةُ بنتُ مُزاحِم، وكانت من خِيار النساء المعدُودات ومن بنات الأنبياء، وكانت أمًّا للمسلمين تَرحَمُهم وتتصدّق عليهم وتُعطِيهم ويدخُلُون عليها، فقالت لفرعون وهي قاعدة إلى جنبه: هذا الوليد أكبرُ من ابن سَنَةٍ، وإنما أَمرْتَ أن يُذبَحَ الوِلْدانُ لهذه السنةِ، فدَعْه يكن قُرّةَ عَين لي ولك، ﴿لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾، أَنَّ هلاكهم على يديه، وكان فِرعونُ لا يُولَد له إلَّا البنات، فاستحياهُ فرعون ورَمَقَه (1) ، وألقى الله عليه محبتَه ورأفتَه ورحمتَه، وقال لامرأته: عسى أن ينفعَك أنتِ، فأما أنا فلا أُريد نَفْعَه. قال وهب: قال ابن عبّاس: لو أنَّ عدوَّ الله قال في موسى كما قالتِ امرأتُه آسية: ﴿عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا﴾ لَنفعَهُ اللهُ به، ولكنه أبى للشَّقاء الذي كتبَه اللهُ عليه. وحَرَّم اللهُ على موسى المَراضِعَ ثمانيةَ أيامٍ ولياليَهنَّ، كلما أُتِي بِمُرضِعةٍ لم يَقبَلْ ثَدْيَها، فرَقَّ له فرعونُ ورحِمَه، وطُلِبتْ له المَراضِعُ. وذَكَر وهبٌ حُزنَ أمِّ موسى وبُكاءَها عليه، حتى كادتْ أن تُبْدِيَ به، ثم تَدارَكَها الله برحمتِه، فرَبَطَ على قلبِها إلى أن بلغها خَبَرُه، فقالت لأُختِه: تَنكَّري واذهبي مع الناس وانظُري ماذا يفعلون به، فدخلت أختُه مع القوابل على آسية بنت مُزاحِم، فلما رأت وَجْدَهم بموسى وحبَّهم له ورِقَّتَهم عليه، قالت: هل أدلُّكم على أهل بيتٍ يَكفُلُونه لكم وهم له ناصحون؟ إلى أن رُدَّ إلى أمِّه، فمَكَث موسى عند أمِّه حتى فَطَمَتْه، ثم ردَّتْه إليه، فنشأ موسى في حِجْر فرعون وامرأتِه يَربِّيانه بأيديهما، واتخَذَاه ولدًا، فبَيْنا هو يلعب يومًا بين يدَي فرعون وبيده قَضِيبٌ له خفيفٌ صغيرٌ يلعب به، إذ رفع القَضِيبَ فضرب به رأسَ فرعون، فغَضِب فِرعون وتَطَيَّر مِن ضَرْبِه حتى همَّ بقتله، فقالت آسيةُ بنت مُزاحِم: أيها الملِك، لا تغضب ولا يَشُقَّنَّ عليك، فإنه صبيٌّ صغير لا يَعقِل جَرِّبه إن شئتَ اجعلْ في هذا الطَّسْتِ جَمْرةً وذَهبًا، فانظُرْ على أيِّهما يَقبِض، فأمَر فِرعون بذلك، فلما مَدّ موسى يدَه ليقبِضَ على الذَّهَب قبض المَلَكُ المُوكَّل به على يدِه فردَّها إلى الجَمْرة، فقبض عليها موسى فألقاها في فيه، ثم قَذَفَها حين وَجَدَ حرارتَها، فقالت آسيةُ لفرعون: ألم أقل لك: إنه لا يَعقِل شيئًا ولا يَعلَمُه، وكَفَّ عنه فرعونُ وصَدَّقها، وكان أَمر بقَتْله، ويقال: إنَّ العُقدة التي كانت في لسان تلك أثرُ تلك الجَمْرةِ التي الْتَقَمَها. قال وهب بن مُنبِّه: ولما بلغ موسى أشُدَّه وبلغ أربعين سنةً آتاهُ الله عِلْمًا وحُكْمًا وفَهْمًا، فَلَبِثَ بذلك اثنتي عشرة سنة، فلما تمَّت له ثلاثون سنة، دعا إلى دِين إبراهيم وشرائعِه وإلى دِين إسحاقَ ويعقوبَ، فآمنت به طائفة من بني إسرائيل، ثم ذَكَرَ القصة بطولها (1) .
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے موسیٰ بن عمران بن قاہت بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی ولادت کا واقعہ اور اللہ تعالیٰ کے دشمن فرعون کا قصہ جب وہ بنی اسرائیل سے اپنے اعمال میں اپنی عبادت کرواتا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا خضر کا واقعہ مروی ہے۔ چنانچہ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حمل ہوا (جس سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے) تو انہوں نے یہ معاملہ ہر کسی سے پوشیدہ رکھا اور اپنے حمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو نہ بتایا اور یہی چیز تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے چھپایا کیونکہ وہ اس کے ذریعے بنی اسرائیل پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ جب وہ سال شروع ہوا جس میں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام پیدا ہوئے تو فرعون نے دائیاں بھیجیں جو عورتوں کی اس قدر سختی سے چھان بین کرتیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسی تفتیش نہ ہوئی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حاملہ ہوئیں، حمل میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام تھے تو آپ کی والدہ کا نہ تو پیٹ بڑھا ہوا اور نہ ان کا رنگ بدلا اور نہ ان کے دودھ میں کوئی فرق آیا یہی وجہ ہے کہ دائیاں ان کی جانب توجہ نہیں دیتیں تھیں۔ جب وہ رات آئی جس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو اس رات نہ کوئی وہاں نگران تھا نہ کوئی دائی تھی اور ان (سیدنا موسیٰ علیہ السلام والدہ) کی بہن کے سوا کسی کو بھی اس معاملہ کا پتہ نہ چلا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلائیں پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور غم نہ کر بے شک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے آپ کی والدہ نے تین مہینے تک آپ کو دودھ پلایا، آپ نہ روتے تھے اور نہ حرکت کرتے۔ پھر جب ان کی والدہ نے ان کے اور خود اپنے متعلق خوف محسوس کیا تو ان کے لئے ایک مضبوط (واٹر پروف) صندوق بنایا اور اس میں ان کے لئے بستر بچھا کر اس میں لٹا دیا اور پھر یہ صندوق اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رات کے وقت دریا میں ڈال دیا، یہ تابوت کشتی کی طرز پر پانچ بالشت مربع سائز میں بنایا گیا تھا جبکہ اس میں تارکول نہیں ملایا گیا تھا۔ یہ تابوت پانی پر تیرے لگا، دریا نے یہ تابوت رات کے اندھیرے میں ساحل پر پہنچا دیا۔ جب صبح ہوئی تو فرعون دریائے نیل کے کنارے اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تابوت کو دیکھ لیا اور اپنے خدام سے کہا: یہ تابوت میرے پاس لے کر آؤ۔ انہوں نے تابوت لا کر فرعون کے سامنے رکھ دیا، جب اس کو کھولا تو اس میں موسیٰ علیہ السلام موجود تھے۔ جب فرعون نے آپ کو دیکھا تو بولا: یہ تو مجھے میرے دشمنوں میں سے لگتا ہے وہ اس سے بہت گھبرایا اور بہت غصہ میں کہنے لگا: یہ بچہ ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا باوجودیکہ میں نے دائیوں کو حکم دے رکھا ہے کہ کوئی بھی نومولود ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی خاتون آسیہ بنت مزاحم سے نکاح کر رکھا تھا یہ خاتون بنی اسرائیل کی گنتی کی چند نیک خواتین میں سے ایک تھیں اور بنات انبیاء میں سے تھیں۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت نرم گوشہ تھا۔ یہ ان کا بہت خیال رکھتی تھیں ان پر صدقہ کرتیں اور بہت کچھ عطا کرتی رہتی تھیں اور مسلمان ان کے پاس آیا کرتے تھے، یہ اس وقت فرعون کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا: یہ بچہ تو ایک سال سے زیادہ عمر کا لگتا ہے جبکہ تو نے اس سال کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، اس کو چھوڑ دے کہ یہ تیرے اور میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے۔ تم لوگ اس کو قتل مت کرو، ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں اور ان کو اس کا پتہ بھی نہ تھا کہ ان کی بربادی اسی کے ہاتھوں ہو گی اور فرعون کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہتا تھا، صرف بیٹیاں زندہ بچتی تھیں، تو فرعون کے دل میں اس کا حیا آ گیا اور اس نے موسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کی محبت، الفت اور شفقت ڈال دی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ تمہیں کوئی فائدہ دے، بہرحال مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں چاہیے۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالیٰ کا دشمن بھی اگر موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی بیوی کی طرح کہہ دیتا کہ ” ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے “ تو اللہ تعالیٰ اسے بھی فائدہ دے دیتا لیکن اس کو اس کی بدبختی نے ایسا بولنے سے روک دیا جو ازل سے ہی اس کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آٹھ دن اور آٹھ راتیں موسیٰ علیہ السلام پر دودھ پلانے والیاں حرام کیں۔ جب بھی کوئی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو آپ اس کا پستان قبول نہ کرتے۔ اس پر فرعون کو بہت ترس اور رحم آیا، اس نے آپ کے لئے دودھ پلانے والیاں منگوائیں۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی پریشانی اور ان کی آہ و بکا کا ذکر کیا ہے (آپ فرماتے ہیں) قریب تھا کہ وہ سب راز افشاء کر دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس کا تدارک فرمایا، اس کے دل کو مضبوط کیا حتیٰ کہ اس تک سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خبر پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنی بہن سے کہا: تو بھیس بدل کر لوگوں کے ہمراہ وہاں پر جا اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بہن دوسری دائیوں کے ہمراہ آسیہ بنت مزاحم کے پاس گئی۔ وہاں پر اس نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت دیکھی تو بولی: میں تمہیں ایک ایسا گھر بتا سکتی ہوں جو نیک جذبات کے ساتھ اس کی کفالت کر سکتے ہیں۔ المختصر کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ اس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام دودھ پینے کا پورا عرصہ اپنی ماں کے پاس رہے۔ جب وہ کھانا وغیرہ کھانے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ فرعون کے سپرد کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پلتے رہے، وہ دونوں اپنے ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتے رہے اور انہوں نے آپ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس کھیل رہے تھے، آپ کے ہاتھ چھوٹی سی ڈنڈی تھی، جس کے ساتھ آپ کھیل رہے تھے، اچانک آپ نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر میں دے ماری، فرعون نے آپ کی اس مار پر بہت غور و فکر کیا، اور بالآخر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آسیہ بنت مزاحم بولیں: اے بادشاہ! غصہ مت کیجئے! اور یہ بدبختی اپنے اوپر مت ڈالئے کیونکہ یہ تو چھوٹا ناسمجھ بچہ ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کو آزما لے، میں اس تھال میں سونا اور انگارہ رکھ دیتی ہوں تو دیکھ کہ یہ کس کو اٹھاتا ہے۔ فرعون اس کے لئے تیار ہو گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے سونے کی جانب ہاتھ بڑھایا تو فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا۔ آپ نے وہ انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر جب اس کی تپش محسوس ہوئی تو اسے پھینک دیا۔ سیدنا آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے کہا: میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یہ ناسمجھ بے عقل بچہ ہے۔ اس طرح فرعون رک گیا اور آسیہ کی بات تسلیم کر گیا ورنہ اس نے تو آپ کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں جو گرہ تھی وہ اسی انگارے کی وجہ سے تھی جو آپ نے اپنے منہ میں ڈالا تھا۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور آپ کی عمر چالیس سال کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم، حکمت (نبوت) اور فہم و فراست عطا فرمائی تو آپ وہاں پر 12 سال تک سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے دین اور شریعت کی تبلیغ کرتے رہے تو بنی اسرائیل کی ایک مختصر سی جماعت آپ پر ایمان لائی۔ پھر اس کے بعد تفصیلی قصہ بیان کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4140]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4140 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): سرّها، وهو تحريف.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں لفظ "سرّها" ہے جو کہ تحریف (غلطی) ہے۔
(2) أي: لم ينتفخ.
📝 نوٹ / توضیح: یعنی: وہ (لاش) پھولی نہیں۔
(1) أي: أتبعه بصرَه يتعهّده وينظر إليه ويرقُبه.
📝 نوٹ / توضیح: یعنی: اس نے اپنی نگاہ اس کے پیچھے لگائی تاکہ اس کی نگرانی، دیکھ بھال اور حفاظت کرے۔
(1) إسناده واهٍ كما قال الذهبي في غير موضع من "تلخيصه"، وذلك من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك الحديث، وكذَّبه الإمام أحمد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ امام ذہبی نے "التلخیص" میں کئی مقامات پر فرمایا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبد المنعم بن ادریس" ہے جو متروک الحدیث ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
وأخرجه الواحدي في "التفسير الوسيط" 3/ 390، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 61/ 18 عن أبي الحسن بن أبي نصر السوادي، عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "التفسیر الوسیط" 3/ 390 میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 61/ 18 میں ابو الحسن بن ابی نصر السوادی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والصحيح في خبر موسى وفرعون إسنادًا ما أخرجه النسائي (11263) وغيره ضمن حديث طويل جدًّا يُدعى حديثَ الفُتون، وهو من رواية سعيد بن جُبَير عن ابن عبّاس موقوفًا عليه، وقد تخلَّله إشارة إلى رفع بعض ألفاظه إلى النبي ﷺ، وفي كثير من ألفاظه مغايرة للفظ رواية وهب بن منبّه التي هنا، إلّا أنه مع جَودة إسناده قال الحافظ المزي فيما نقله عنه ابن كثير في "البداية والنهاية" 2/ 196: الأشبه أنه موقوف وكونه مرفوعًا فيه نظر، وغالبه متلقًّى من الإسرائيليات، وفيه شيء يسير مصرَّح برفعه في أثناء الكلام، وفي بعض ما فيه نظر ونكارة، والأغلب أنه من كلام كعب الأحبار.
📌 اہم نکتہ: موسیٰ و فرعون کی خبر کے بارے میں سند کے اعتبار سے وہ روایت زیادہ صحیح ہے جسے نسائی (11263) اور دیگر نے ایک بہت طویل حدیث کے ضمن میں روایت کیا ہے جسے "حدیث الفتون" کہا جاتا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سعید بن جبیر کی روایت ہے جو ابن عباس پر موقوف ہے، اگرچہ اس کے درمیان بعض الفاظ کے نبی کریم ﷺ تک مرفوع ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ اس کے بہت سے الفاظ یہاں موجود وہب بن منبہ کی روایت سے مختلف ہیں۔ اس کی سند عمدہ ہونے کے باوجود حافظ مزی نے (جیسا کہ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" 2/ 196 میں نقل کیا) فرمایا: "قرین قیاس یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، اس کے مرفوع ہونے میں نظر (اشکال) ہے، اس کا اکثر حصہ اسرائیلیات سے لیا گیا ہے، اس میں کچھ معمولی حصہ دورانِ کلام صراحتاً مرفوع ہے، اور اس کے بعض حصوں میں نکارت ہے۔ غالب یہی ہے کہ یہ کعب الاحبار کا کلام ہے۔"
قلنا: وقد جاءت قصة موسى بطولها أيضًا من رواية السُّدِّي، عن أبي مالك الغفاري وأبي صالح بادام، عن ابن عبّاس. وعن مُرَّة الهَمْداني، عن ابن مسعود. وعن ناس من أصحاب رسول الله ﷺ أخرجها الطبري في "تاريخه" 1/ 388 - 431 وخلَّله كثيرًا من الروايات الأخرى ثم يتمم بقوله: رجع الحديث إلى حديث السُّدِّي. وهو موقوف حسن الإسناد أيضًا، فارجع إليهما.
🧾 تفصیلِ روایت: ہم کہتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کا طویل قصہ سدی کی روایت سے بھی آیا ہے جو ابو مالک الغفاری اور ابو صالح بادام کے واسطے سے ابن عباس سے، اور مرہ الہمذانی کے واسطے سے ابن مسعود سے، اور رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ سے مروی ہے۔ اسے طبری نے اپنی "تاریخ" 1/ 388-431 میں روایت کیا ہے اور اس کے بیچ میں بہت سی دوسری روایات لائے ہیں اور پھر یہ کہہ کر بات مکمل کرتے ہیں: "بات سدی کی حدیث کی طرف پلٹتی ہے"۔ یہ روایت بھی موقوف اور "حسن الاسناد" ہے، لہٰذا ان دونوں کی طرف رجوع کریں۔