المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. ذِكْرُ وِلَادَةِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ -، ذِكْرُ تَرْبِيَةِ مُوسَى فِي حِجْرِ آسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور فرعون کی بیوی آسیہ کی گود میں ان کی پرورش کا ذکر
حدیث نمبر: 4140
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المُنعِم بن إدريس بن سِنان اليَمَاني، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنبِّه، قال: ذِكْرُ مولد موسى بن عِمران بن قاهَث بن لاوِي بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم، وحديثُ عدوِّ الله فِرعونَ حين كان يَستعبِدُ بني إسرائيلَ في أعمالِه بمصر، وأمرِ موسى والخَضِر، قال وهبٌ: ولما حَمَلتْ أمُّ موسى بموسى كتَمَتْ أمرَها جميعَ الناسِ، فلم يَطَّلِع على حَمْلِها أحدٌ من خلق الله، وذلك شيءٌ سَتَرها (1) الله به لما أراد أن يَمُنَّ به على بني إسرائيل، فلما كانت السنةُ التي يُولَد فيها موسى بن عِمران بعثَ فرعونُ القَوابِلَ وتقدَّم إليهنّ، وفَتَّش النساء تَفتِيشًا لم يُفتِّشْهُنَّ قبلَ ذلك، وحَمَلت أمُّ موسى بموسى، فلم يَنِتَّ بطنُها (2) ، ولم يَتغيَّر لونُها، ولم يفسُد لبنُها، وكُنَّ القوابلُ لا يَعرِضْنَ لها، فلما كانتِ الليلةُ التي وُلِد فيها موسى وَلَدَتْه أمُّه ولا رَقِيبَ عليها ولا قابِلَ، ولم يَطَّلع عليها أحدٌ إلّا أخته مريم، وأوحى الله إليها: ﴿أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ﴾ [القصص: 7] ، قال: فكتَمَتْه أمُّه ثلاثةَ أشهر تُرضِعُه في حِجْرها لا يبكي ولا يتَحرّك، فلما خافتْ عليه وعليها عَمِلتْ له تابُوتًا مُطبَقًا ومَهَّدَتْ له فيه، ثم ألقتْه في البحر ليلًا كما أمرها اللهُ، وعُمِلَ التابوتُ على عَمَلِ سُفنِ البحرِ خمسةَ أشبارٍ في خمسةِ أشبارٍ، ولم يُقيَّر، فأقبل التابوتُ يَطفُو على الماء، فألقى البحرُ التابوتَ بالساحِل في جَوف الليل. فلما أصبح فرعونُ جَلَس في مجلسِه على شاطئ النيل، فبَصُرَ بالتابُوت، فقال لمن حولَه من خَدَمِه: ائتُوني بهذا التابوت، فأَتَوه به، فلما وُضِعَ بين يديه فتحُوه، فوَجَدَ فيه موسى، قال: فلما نظر إليه فرعون قال: عِبْرانيٌّ من الأعداء، فأعْظَمَه ذلك وغاظَه، وقال: كيف أخْطى هذا الغلامُ الذَّبحَ وقد أمرتُ القَوابِلَ أن لا يَكتُمْنَ مولودًا يُولَد، قال: وكان فرعون قد استَنْكَح امرأةً من بني إسرائيل يُقال لها: آسيةُ بنتُ مُزاحِم، وكانت من خِيار النساء المعدُودات ومن بنات الأنبياء، وكانت أمًّا للمسلمين تَرحَمُهم وتتصدّق عليهم وتُعطِيهم ويدخُلُون عليها، فقالت لفرعون وهي قاعدة إلى جنبه: هذا الوليد أكبرُ من ابن سَنَةٍ، وإنما أَمرْتَ أن يُذبَحَ الوِلْدانُ لهذه السنةِ، فدَعْه يكن قُرّةَ عَين لي ولك، ﴿لَا تَقْتُلُوهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ﴾، أَنَّ هلاكهم على يديه، وكان فِرعونُ لا يُولَد له إلَّا البنات، فاستحياهُ فرعون ورَمَقَه (1) ، وألقى الله عليه محبتَه ورأفتَه ورحمتَه، وقال لامرأته: عسى أن ينفعَك أنتِ، فأما أنا فلا أُريد نَفْعَه. قال وهب: قال ابن عبّاس: لو أنَّ عدوَّ الله قال في موسى كما قالتِ امرأتُه آسية: ﴿عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا﴾ لَنفعَهُ اللهُ به، ولكنه أبى للشَّقاء الذي كتبَه اللهُ عليه. وحَرَّم اللهُ على موسى المَراضِعَ ثمانيةَ أيامٍ ولياليَهنَّ، كلما أُتِي بِمُرضِعةٍ لم يَقبَلْ ثَدْيَها، فرَقَّ له فرعونُ ورحِمَه، وطُلِبتْ له المَراضِعُ. وذَكَر وهبٌ حُزنَ أمِّ موسى وبُكاءَها عليه، حتى كادتْ أن تُبْدِيَ به، ثم تَدارَكَها الله برحمتِه، فرَبَطَ على قلبِها إلى أن بلغها خَبَرُه، فقالت لأُختِه: تَنكَّري واذهبي مع الناس وانظُري ماذا يفعلون به، فدخلت أختُه مع القوابل على آسية بنت مُزاحِم، فلما رأت وَجْدَهم بموسى وحبَّهم له ورِقَّتَهم عليه، قالت: هل أدلُّكم على أهل بيتٍ يَكفُلُونه لكم وهم له ناصحون؟ إلى أن رُدَّ إلى أمِّه، فمَكَث موسى عند أمِّه حتى فَطَمَتْه، ثم ردَّتْه إليه، فنشأ موسى في حِجْر فرعون وامرأتِه يَربِّيانه بأيديهما، واتخَذَاه ولدًا، فبَيْنا هو يلعب يومًا بين يدَي فرعون وبيده قَضِيبٌ له خفيفٌ صغيرٌ يلعب به، إذ رفع القَضِيبَ فضرب به رأسَ فرعون، فغَضِب فِرعون وتَطَيَّر مِن ضَرْبِه حتى همَّ بقتله، فقالت آسيةُ بنت مُزاحِم: أيها الملِك، لا تغضب ولا يَشُقَّنَّ عليك، فإنه صبيٌّ صغير لا يَعقِل جَرِّبه إن شئتَ اجعلْ في هذا الطَّسْتِ جَمْرةً وذَهبًا، فانظُرْ على أيِّهما يَقبِض، فأمَر فِرعون بذلك، فلما مَدّ موسى يدَه ليقبِضَ على الذَّهَب قبض المَلَكُ المُوكَّل به على يدِه فردَّها إلى الجَمْرة، فقبض عليها موسى فألقاها في فيه، ثم قَذَفَها حين وَجَدَ حرارتَها، فقالت آسيةُ لفرعون: ألم أقل لك: إنه لا يَعقِل شيئًا ولا يَعلَمُه، وكَفَّ عنه فرعونُ وصَدَّقها، وكان أَمر بقَتْله، ويقال: إنَّ العُقدة التي كانت في لسان تلك أثرُ تلك الجَمْرةِ التي الْتَقَمَها. قال وهب بن مُنبِّه: ولما بلغ موسى أشُدَّه وبلغ أربعين سنةً آتاهُ الله عِلْمًا وحُكْمًا وفَهْمًا، فَلَبِثَ بذلك اثنتي عشرة سنة، فلما تمَّت له ثلاثون سنة، دعا إلى دِين إبراهيم وشرائعِه وإلى دِين إسحاقَ ويعقوبَ، فآمنت به طائفة من بني إسرائيل، ثم ذَكَرَ القصة بطولها (1) .
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے موسیٰ بن عمران بن قاہت بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام کی ولادت کا واقعہ اور اللہ تعالیٰ کے دشمن فرعون کا قصہ جب وہ بنی اسرائیل سے اپنے اعمال میں اپنی عبادت کرواتا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا خضر کا واقعہ مروی ہے۔ چنانچہ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو حمل ہوا (جس سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے) تو انہوں نے یہ معاملہ ہر کسی سے پوشیدہ رکھا اور اپنے حمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کو نہ بتایا اور یہی چیز تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے چھپایا کیونکہ وہ اس کے ذریعے بنی اسرائیل پر احسان کرنا چاہتا تھا۔ جب وہ سال شروع ہوا جس میں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام پیدا ہوئے تو فرعون نے دائیاں بھیجیں جو عورتوں کی اس قدر سختی سے چھان بین کرتیں کہ اس سے پہلے کبھی ایسی تفتیش نہ ہوئی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ حاملہ ہوئیں، حمل میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام تھے تو آپ کی والدہ کا نہ تو پیٹ بڑھا ہوا اور نہ ان کا رنگ بدلا اور نہ ان کے دودھ میں کوئی فرق آیا یہی وجہ ہے کہ دائیاں ان کی جانب توجہ نہیں دیتیں تھیں۔ جب وہ رات آئی جس میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، تو اس رات نہ کوئی وہاں نگران تھا نہ کوئی دائی تھی اور ان (سیدنا موسیٰ علیہ السلام والدہ) کی بہن کے سوا کسی کو بھی اس معاملہ کا پتہ نہ چلا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف الہام فرمایا کہ اسے دودھ پلائیں پھر جب تجھے اس سے اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور نہ ڈر اور غم نہ کر بے شک ہم اسے تیری طرف پھیر لائیں گے اور اسے رسول بنائیں گے آپ کی والدہ نے تین مہینے تک آپ کو دودھ پلایا، آپ نہ روتے تھے اور نہ حرکت کرتے۔ پھر جب ان کی والدہ نے ان کے اور خود اپنے متعلق خوف محسوس کیا تو ان کے لئے ایک مضبوط (واٹر پروف) صندوق بنایا اور اس میں ان کے لئے بستر بچھا کر اس میں لٹا دیا اور پھر یہ صندوق اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رات کے وقت دریا میں ڈال دیا، یہ تابوت کشتی کی طرز پر پانچ بالشت مربع سائز میں بنایا گیا تھا جبکہ اس میں تارکول نہیں ملایا گیا تھا۔ یہ تابوت پانی پر تیرے لگا، دریا نے یہ تابوت رات کے اندھیرے میں ساحل پر پہنچا دیا۔ جب صبح ہوئی تو فرعون دریائے نیل کے کنارے اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تابوت کو دیکھ لیا اور اپنے خدام سے کہا: یہ تابوت میرے پاس لے کر آؤ۔ انہوں نے تابوت لا کر فرعون کے سامنے رکھ دیا، جب اس کو کھولا تو اس میں موسیٰ علیہ السلام موجود تھے۔ جب فرعون نے آپ کو دیکھا تو بولا: یہ تو مجھے میرے دشمنوں میں سے لگتا ہے وہ اس سے بہت گھبرایا اور بہت غصہ میں کہنے لگا: یہ بچہ ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا باوجودیکہ میں نے دائیوں کو حکم دے رکھا ہے کہ کوئی بھی نومولود ان کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے۔ فرعون نے بنی اسرائیل کی خاتون آسیہ بنت مزاحم سے نکاح کر رکھا تھا یہ خاتون بنی اسرائیل کی گنتی کی چند نیک خواتین میں سے ایک تھیں اور بنات انبیاء میں سے تھیں۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے لئے بہت نرم گوشہ تھا۔ یہ ان کا بہت خیال رکھتی تھیں ان پر صدقہ کرتیں اور بہت کچھ عطا کرتی رہتی تھیں اور مسلمان ان کے پاس آیا کرتے تھے، یہ اس وقت فرعون کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرعون سے کہا: یہ بچہ تو ایک سال سے زیادہ عمر کا لگتا ہے جبکہ تو نے اس سال کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے، اس کو چھوڑ دے کہ یہ تیرے اور میرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جائے۔ تم لوگ اس کو قتل مت کرو، ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے یا ہم اسے اپنا بچہ بنا لیں اور ان کو اس کا پتہ بھی نہ تھا کہ ان کی بربادی اسی کے ہاتھوں ہو گی اور فرعون کا کوئی بیٹا زندہ نہ رہتا تھا، صرف بیٹیاں زندہ بچتی تھیں، تو فرعون کے دل میں اس کا حیا آ گیا اور اس نے موسیٰ علیہ السلام کو اٹھا لیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کی محبت، الفت اور شفقت ڈال دی۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ تمہیں کوئی فائدہ دے، بہرحال مجھے اس کا کوئی فائدہ نہیں چاہیے۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ اللہ تعالیٰ کا دشمن بھی اگر موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی بیوی کی طرح کہہ دیتا کہ ” ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ دے “ تو اللہ تعالیٰ اسے بھی فائدہ دے دیتا لیکن اس کو اس کی بدبختی نے ایسا بولنے سے روک دیا جو ازل سے ہی اس کے نصیب میں لکھی جا چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آٹھ دن اور آٹھ راتیں موسیٰ علیہ السلام پر دودھ پلانے والیاں حرام کیں۔ جب بھی کوئی دودھ پلانے کی کوشش کرتی تو آپ اس کا پستان قبول نہ کرتے۔ اس پر فرعون کو بہت ترس اور رحم آیا، اس نے آپ کے لئے دودھ پلانے والیاں منگوائیں۔ سیدنا وہب رضی اللہ عنہ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی پریشانی اور ان کی آہ و بکا کا ذکر کیا ہے (آپ فرماتے ہیں) قریب تھا کہ وہ سب راز افشاء کر دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس کا تدارک فرمایا، اس کے دل کو مضبوط کیا حتیٰ کہ اس تک سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خبر پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنی بہن سے کہا: تو بھیس بدل کر لوگوں کے ہمراہ وہاں پر جا اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کی بہن دوسری دائیوں کے ہمراہ آسیہ بنت مزاحم کے پاس گئی۔ وہاں پر اس نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کی محبت اور شفقت دیکھی تو بولی: میں تمہیں ایک ایسا گھر بتا سکتی ہوں جو نیک جذبات کے ساتھ اس کی کفالت کر سکتے ہیں۔ المختصر کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں کی طرف لوٹا دیا۔ اس طرح سیدنا موسیٰ علیہ السلام دودھ پینے کا پورا عرصہ اپنی ماں کے پاس رہے۔ جب وہ کھانا وغیرہ کھانے کے قابل ہو گئے تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ فرعون کے سپرد کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی بیوی کی گود میں پلتے رہے، وہ دونوں اپنے ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتے رہے اور انہوں نے آپ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس کھیل رہے تھے، آپ کے ہاتھ چھوٹی سی ڈنڈی تھی، جس کے ساتھ آپ کھیل رہے تھے، اچانک آپ نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر میں دے ماری، فرعون نے آپ کی اس مار پر بہت غور و فکر کیا، اور بالآخر آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آسیہ بنت مزاحم بولیں: اے بادشاہ! غصہ مت کیجئے! اور یہ بدبختی اپنے اوپر مت ڈالئے کیونکہ یہ تو چھوٹا ناسمجھ بچہ ہے۔ اگر تو چاہتا ہے تو اس کو آزما لے، میں اس تھال میں سونا اور انگارہ رکھ دیتی ہوں تو دیکھ کہ یہ کس کو اٹھاتا ہے۔ فرعون اس کے لئے تیار ہو گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے سونے کی جانب ہاتھ بڑھایا تو فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا۔ آپ نے وہ انگارہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا۔ پھر جب اس کی تپش محسوس ہوئی تو اسے پھینک دیا۔ سیدنا آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے کہا: میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ یہ ناسمجھ بے عقل بچہ ہے۔ اس طرح فرعون رک گیا اور آسیہ کی بات تسلیم کر گیا ورنہ اس نے تو آپ کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں جو گرہ تھی وہ اسی انگارے کی وجہ سے تھی جو آپ نے اپنے منہ میں ڈالا تھا۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور آپ کی عمر چالیس سال کو پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم، حکمت (نبوت) اور فہم و فراست عطا فرمائی تو آپ وہاں پر 12 سال تک سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کے دین اور شریعت کی تبلیغ کرتے رہے تو بنی اسرائیل کی ایک مختصر سی جماعت آپ پر ایمان لائی۔ پھر اس کے بعد تفصیلی قصہ بیان کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4140]
حدیث نمبر: 4141
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حدثنا محمد بن الصَّبّاح، حدثنا إسماعيل بن زكريا، عن عاصم الأحول، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله اصطَفَى موسى بالكَلام، وإبراهيمَ بالخُلَّة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4098 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4098 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کلام کے لئے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو خلت کے منتخب فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4141]
حدیث نمبر: 4142
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجِي، حدثنا مُسدَّد بن مُسرْهَد، حدثنا المُعتمِر بن سليمان، عن إسماعيل بن أبي خالد [قال: أخبرني عامر] (2) عن عبد الله بن الحارث، عن كعب الأحبار، قال: إنَّ الله ﷿ قسم رؤيتَه وكلامَه بين محمد ﷺ وموسي، فرآه محمدٌ مرتَين، وكَلَّمَه موسى مرتَين (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4099 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4099 - على شرط مسلم
سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان اپنے دیدار اور اپنے کلام کو بانٹ دیا ہے۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا اور موسیٰ علیہ السلام نے دو بار اللہ تعالیٰ سے کلام کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4142]
حدیث نمبر: 4143
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن، حدثنا أبو ظَفَر عبد السلام بن مُطهَّر، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت البُناني، عن أنس بن مالك، أنَّ النبي ﷺ قال:"موسى بن عِمران صَفِيُّ الله" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا موسیٰ بن عمران علیہما السلام ” صفی اللہ “ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4143]
حدیث نمبر: 4144
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد الجَلّاب، حدثنا أحمد بن بِشْر المَرْثَدي، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا حَجّاج، عن أبي مَعْشَر، عن أبي الحُويرِث عبد الرحمن بن معاوية، قال: مكث موسى بعد أن كَلّمه الله أربعين يومًا لا يراه أحدٌ إِلَّا مات (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4101 - إسناده لين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4101 - إسناده لين
ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے بعد سیدنا موسیٰ علیہ السلام چالیس دن تک زندہ رہے اور اس کے بعد وفات تک آپ کو کسی نے نہیں دیکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4144]