🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. سؤال موسى رؤية الرب وصعقه عند التجلي
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رب کو دیکھنے کا سوال اور تجلی کے وقت بے ہوش ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4148
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمةَ، قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ إن شاء الله - شكَّ أبو سلمة موسى بن إسماعيل - ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ [الأعراف: 143] ، قال:"ساخَ الجبَلُ" (2) .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے (ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے موسیٰ بن اسماعیل پر شک کیا ہے) آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو اس کو پاش پاش کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں: پہاڑ دھنس گیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حسن بن سفیان، عمران بن موسیٰ جرجانی اور احمد بن علی بن المثنی نے ہدبہ بن خالد کے حوالے سے حماد بن سلمہ سے خزاعی کی طرح حدیث روایت کی ہے اور اس میں ہدبہ کو شک نہیں ہے۔ سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ہارون بن عمران علیہما السلام فصیح اللسان، واضح البیان تھے۔ بہت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ گفتگو کرتے اور بردباری کے ساتھ عالمانہ کلام کیا کرتے تھے۔ ان کا قد سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے لمبا اور ویسے بھی آپ موسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بھی بڑے تھے اور ان سے زیادہ جسیم تھے۔ ان کا رنگ بھی موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ سفید تھا اور ان کی تختیاں بھی زیادہ تھیں جبکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگت کے گول جسامت والے شنوءۃ (علاقے) مردوں کی طرح تھے اور اللہ تعالیٰ نے جس کو بھی نبی بنا کر مبعوث فرمایا، اس کے داہنے بازو پر نبوت کی نشانی رکھی، سوائے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کی مہر نبوت آپ کے کندھوں کے درمیان تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا بھی گیا تو آپ نے فرمایا: یہ مہر جو میرے کندھوں کے درمیان ہے یہ مجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی نشانیاں ہیں کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی آ سکتا ہے نہ رسول۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4148]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4148 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح كسابقه. وقد تقدم برقم (66) و (67) من طريقين عن أبي سلمة موسى بن إسماعيل من غير شك، فالظاهر أنَّ الشكَّ هنا ممّن دون موسى بن إسماعيل، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ حدیث کی طرح صحیح ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ نمبر (66) اور (67) پر ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل سے بغیر کسی شک کے دو طریقوں سے گزر چکی ہے، لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ یہاں شک موسیٰ بن اسماعیل سے نچلے راوی کی طرف سے ہے، واللہ اعلم۔