المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. سؤال موسى رؤية الرب وصعقه عند التجلي
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رب کو دیکھنے کا سوال اور تجلی کے وقت بے ہوش ہو جانا
حدیث نمبر: 4150
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: كان هارون بن عِمران فَصِيحَ اللسان بَيِّنَ المَنْطِق، يَتكلَّم في تُؤَدَةٍ، ويقولُ بعِلْمٍ وحِلْمٍ، وكان أطولَ من موسى طُولًا، وأكبرَهما في السِّنِّ، وكان أكثرَهما لَحْمًا وأبيضَهُما جِسْمًا وأغلظَهما ألواحًا، وكان موسى رَجُلًا جَعْدًا آدَمَ طُوالًا كأنه من رجال شَنُوءة، ولم يَبعَثِ اللهُ نبيًّا إلَّا وقد كانت عليه شامَةُ النبوة في يده اليُمْنَى إلَّا أن يكون نبيُّنا محمد ﷺ، فإنَّ شامةَ النبوة قد كانت بين كَتِفَيه، وقد سئل نبيُّنا ﷺ عن ذلك فقال:"هذه الشامةُ التي بين كَتِفَيَّ شامةُ الأنبياءِ قَبْلي، لأنه لا نَبيَّ بعدي ولا رسولَ" (1) .
وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ ہارون بن عمران (علیہ السلام) فصیح زبان اور واضح گفتگو والے تھے، وہ ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے اور علم و بردباری کے ساتھ بات کرتے تھے۔ وہ قد میں موسیٰ (علیہ السلام) سے طویل تھے اور عمر میں ان سے بڑے تھے۔ وہ جسمانی طور پر ان سے زیادہ بھرے ہوئے، رنگت میں زیادہ سفید اور چوڑی ہڈیوں والے تھے۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) گھنگھریالے بالوں والے، گندمی رنگت اور دراز قد تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں۔ اور اللہ نے ایسا کوئی نبی نہیں بھیجا جس کے دائیں ہاتھ پر مہرِ نبوت نہ ہو، سوائے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ نبوت دونوں کندھوں کے درمیان تھی۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مہر جو میرے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، مجھ سے پہلے کے انبیاء (کے ہاتھوں) کی مہر کی طرح ہے (جو یہاں منتقل کر دی گئی) کیونکہ میرے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی رسول“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4150]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4150 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ كما قال الذهبي في غير موضع من "تلخيصه"، من أجل عبد المنعم - وهو ابن إدريس - فهو متروك، وكذَّبه الإمامُ أحمد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں متعدد مقامات پر کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ عبد المنعم (بن ادریس) ہے جو کہ متروک ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
وقد صحَّ في وصف موسى أنه كان جَعْدًا آدم طُوالًا كأنه من رجال شنوءة من قوله ﷺ واصفًا إياه وهو يتحدث عن الليلة التي أُسري فيها به ﷺ كما أخرجه البخاري (3239) وغيره من حديث ابن عبّاس.
📌 اہم نکتہ: موسیٰ علیہ السلام کے حلیہ کے بارے میں صحیح ثابت ہے کہ وہ گھنگریالے بالوں والے، گندمی رنگت اور دراز قد تھے گویا قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں، یہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ثابت ہے جب آپ معراج کی رات کا احوال بیان فرما رہے تھے، جسے بخاری (3239) اور دیگر نے ابن عباس کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
وصحَّ أيضًا في خاتم النبوة بين كتفي النبي ﷺ من حديث أبي رِمثة عند أحمد 11/ (7109)، ومن حديث السائب بن يزيد عند البخاري (190)، ومسلم (2345)، ومن حديث أبي زيد الأنصاري عند أحمد 34/ (20732)، ومن حديث عبد الله بن سرجس عند أحمد 34/ (20770)، ومسلم (2346).
📌 اہم نکتہ: نبی کریم ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا ہونا بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو رمثہ کی حدیث سے احمد 11/ (7109) میں، سائب بن یزید کی حدیث سے بخاری (190) اور مسلم (2345) میں، ابو زید انصاری کی حدیث سے احمد 34/ (20732) میں، اور عبد اللہ بن سرجس کی حدیث سے احمد 34/ (20770) اور مسلم (2346) میں روایت کیا گیا ہے۔
وسيأتي ذكره أيضًا في حديث عائشة الآتي برقم (4222)، وفي حديث سلمان الفارسي في قصة إسلامه برقم (6688)، وفي حديث رُميثة برقم (7102).
🧾 تفصیلِ روایت: اس کا ذکر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں (جو نمبر 4222 پر آ رہی ہے)، سلمان فارسی کے قبولِ اسلام کے قصے والی حدیث میں (نمبر 6688)، اور رمیثہ کی حدیث میں (نمبر 7102) پر بھی آئے گا۔