المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
52. ذكر وفاة هارون بن عمران فإنه مات قبل موسى عليهما السلام
حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 4153
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وَهْب بن مُنبِّه، قال: ونَعَى الله هارون لموسى حين أراد الله أن يَقبِضَه، فلما نعاهُ له حَزِنَ، فلما قُبض جَزِعَ جزعًا شديدًا، وبكى بكاءً طويلًا، فلما تَمادى في ذلك، أقبلَ الله عليه يُعزِّيه ويَعِظُه فقال له: يا موسى، ما كان يَنبَغي لك أن تَحِنَّ إلى فَقْدِ شيءٍ معي، ولا أن تستأنِسَ بِغَيري، ولا أن تَشُدَّ رُكنَك إلَّا بي، ولا أن يكون جَزَعُك هذا وبكاؤك الآن على هارون إلّا لي، وكيف تَستَوحِش إلى شيءٍ من الأشياء وأنت تسمع كلامي؟ أم كيف تَحِنُّ إلى فَقْد شيءٍ من الدنيا بعدَ إذ اصطفيتُك برسالاتي وبكلامي؟ وذكر مُناجاةً طويلة. قال: وقُبض هارون وموسى ابن سبعَ عشرةَ ومئة سنةٍ قبل أن ينقضيَ التِّيْهُ بثلاث سنين، وقُبض هارون وهو ابن عشرين ومئة سنة، فبقي موسى بعده ثلاث سنين حتى تمَّ له مئة وعشرون سنةً، وبنو إسرائيل مُتفرِّقون عليه، يَجتمِعُون له مرةً ويتفرقون أخرى (1) .
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا ہارون علیہ السلام کو وفات دینے کا ارادہ کیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو ان کی وفات کی اطلاع (پہلے ہی) دے دی تھی۔ جب ان کی وفات ہوئی تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے اور آپ بہت روئے۔ جب آپ کو کچھ قرار آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے موسیٰ علیہ السلام! میرے ہوتے ہوئے آپ کو کسی چیز کے کھونے پر اس قدر پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ میرے علاوہ کسی اور سے اس قدر انس بھی نہیں رکھنا چاہئے اور آپ کو ہمیشہ میری جانب ہی متوجہ رہنا چاہئے اور اس موقع پر آپ کو ہارون علیہ السلام کے لئے اس قدر آہ و بکا نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ میرا کلام سنتے ہوئے آپ کسی بھی چیز سے مانوس کیسے رہ سکتے ہیں۔ یا آپ دنیا کی کوئی چیز کھو جانے پر کیسے رو سکتے ہیں جبکہ میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا ہے اور بہت طویل مناجات کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اور مقام تیہ کی مدت پوری ہونے سے تین سال قبل جب سیدنا ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا تو اس وقت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی عمر 117 سال تھی جبکہ سیدنا ہارون علیہ السلام کی عمر، ان کی وفات کے وقت 120 سال تھی۔ آپ کے انتقال کے بعد تین سال تک مزید سیدنا موسیٰ علیہ السلام مقام تہیہ میں رہے۔ حتیٰ کہ آپ کی عمر بھی 120 سال مکمل ہو گئی اور بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے۔ کبھی تو آپ کی بات پر اکٹھے ہو جاتے اور کبھی پھر بکھر جاتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4153]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4153 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ كما جزم به الذهبي في غير موضع من "تلخيصه"، وذلك من أجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك الحديث، وكذَّبه الإمام أحمد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کئی مقامات پر اس کا جزم (یقین) کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عبد المنعم بن ادریس" ہے، جو کہ متروک الحدیث ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔