المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. من فارق الجماعة واستذل الإمارة لقي الله ولا حجة له
جو شخص جماعت سے الگ ہوا اور امارت کی توہین کی، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 416
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الفاكِهي بمكة، حدثنا أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة، أخبرني أبو هانئ، أنَّ أبا علي الجَنْبي عمرو بن مالك، حدَّثه عن فَضَالة بن عُبيد، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"ثلاثةٌ لا تَسأَل عنهم: رجل فارقَ الجماعة وعصى إمامَه فمات عاصيًا، وأَمَةٌ أو عبدٌ أَبَقَ من سيِّدِه فمات، وامرأةٌ غاب عنها زوجُها وقد كَفَاها مُوْنةَ الدنيا فتبَرَّجَت بعده؛ فلا تَسأَلْ عنهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2) ، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلَّة. الحديث الثامن على أن الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بجميع رواته (2) ، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلَّة. الحديث الثامن على أن الإجماع حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 411 - على شرطهما ولا أعلم له علة
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے بارے میں (ان کی ہلاکت کے سبب) مجھ سے نہ پوچھو (یعنی وہ برباد ہونے والے ہیں): ایک وہ شخص جو جماعت سے الگ ہوا اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی نافرمانی کی حالت میں مر گیا؛ دوسرا وہ غلام یا لونڈی جو اپنے مالک سے بھاگ گیا اور اسی حال میں مرا؛ اور تیسری وہ عورت جس کا شوہر غائب (سفر پر) ہو اور اس نے اس کے دنیاوی اخراجات کا پورا انتظام کر رکھا ہو مگر وہ اس کے پیچھے بناؤ سنگھار کر کے (غیر مردوں کے سامنے) ظاہر ہو؛ پس ان کے بارے میں نہ پوچھو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 416]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اس کے تمام راوی قابلِ احتجاج ہیں لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 416]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 416 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. حيوة: هو ابن شريح، وأبو هانئ: هو حميد بن هانئ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور "حیوہ" سے مراد حیوہ بن شریح اور "ابو ہانئ" سے مراد حمید بن ہانئ ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (23943)، وابن حبان (4559) من طريق عبد الله بن يزيد أبي عبد الرحمن المقرئ بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 39/ (23943) اور امام ابن حبان نے (4559) میں عبد اللہ بن یزید ابو عبد الرحمن المقرئ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
(2) هذا ذهول من المصنف، فإنَّ أبا هانئ من أفراد مسلم، وعمرو بن مالك الجنبي لم يخرجا له شيئًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں مصنف (امام حاکم) سے سہو (بھول) ہوا ہے، کیونکہ ابو ہانئ ان راویوں میں سے ہیں جن سے صرف امام مسلم نے روایت لی ہے (بخاری نے نہیں)، جبکہ عمرو بن مالک الجنبی وہ راوی ہیں جن سے بخاری اور مسلم میں سے کسی نے بھی کوئی روایت نہیں لی۔