🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. ذكر بلاء أيوب - عليه السلام -
حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4160
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد إملاءً، حدثنا أحمد بن مِهْران حدثنا سعيد بن الحكم بن أبي مريم، حدثنا نافع بن يزيد، أخبرني عُقَيل بن خالد، عن ابن شِهَاب، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ أيوبَ نبيَّ الله لَبِثَ به بَلاؤُه خمسَ عشرة سنةً، فرفَضَه القريبُ والبعيدُ، إلّا رجلَين من إخوانه، كانا من أخَصِّ إخوانِه، قد كانا يَغدُوان إليه ويَرُوحان، فقال أحدُهما لصاحبِه ذاتَ يوم: تَعلَمُ، والله لقد أذنب أيوبُ ذنْبًا ما أذنَبَه أحدٌ من العالمين، فقال له صاحبُه: وما ذاك؟ قال: منذ ثمانيةَ عشرَ سنةً لم يرحمْه اللهُ فيكشفَ عنه ما به، فلما راحا إلى أيوبَ لم يَصبِرِ الرجلُ حتى ذَكَر له ذلك، فقال أيوبُ: لا أدري ما تقول، غيرَ أنَّ الله يعلمُ أني كنتُ أمُرُّ بالرجُلَين يَتنازَعان يَذكُران الله، فأرجعُ إلى بيتي فأُكفِّرُ عنهما كراهيةَ أن يُذكَر اللهُ إلَّا في حَقٍّ، وكان يَخرُج لحاجته، فإذا قضى حاجتَه أمسكتِ امرأتُه بيدِه حتى يَبلُغَ، فلما كان ذاتَ يوم أبطأَ عليها، فأوحَى اللهُ إلى أيوبَ في مكانِه أنِ ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ [ص: 42] ، فاستبطأتْه، فتَلقَّتْه يَنْضُو (1) ، وأقبلَ عليها قد أذهبَ اللهُ ما به من البَلاء، وهو أحسنُ ما كان، فلما رأتْه قالت: أيْ بارَكَ اللهُ فيكَ، هل رأيتَ نبيَّ الله هذا المبتلَى؟ واللهِ على ذاك ما رأيتُ رجلًا أشبَهَ به منكَ إذ كان صحيحًا، قال: فإني أنا هُو، قال، وكان له أنْدَرَانِ: أنْدَرٌ للقمح، وأنْدَرٌ للشعير، فبعث الله سحابتَين، فلما كانت إحداهُما على أندرِ القَمْح أفرغَتْ فيه الذَّهَبَ حتى فاضَ، وأفرغتِ الأُخرى في أنْدَرِ الشعير الوَرِقَ حتى فاضَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4115 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا ایوب علیہ السلام (جو کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے) 15 سال آزمائش میں رہے۔ اس دوران آپ کے قریب و بعید (کے تمام تعلق دار) آپ کو چھوڑ گئے۔ آپ کے صرف دو رشتہ دار جو کہ آپ کے خاص الخاص رشتہ دار تھے، وہ صبح شام آپ کے پاس آتے تھے۔ ایک دن ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم جانتے ہیں کہ یقیناً ایوب علیہ السلام نے کوئی ایسا گناہ کیا ہے جو پوری دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہو گا۔ اس کے ساتھی نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آج سے اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہ کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی آزمائش ختم فرما دی تو جب وہ دونوں شام کے وقت آپ کے پاس آئے تو وہ آدمی وہ بات آپ سے کہنے سے نہ رہ سکا تو سیدنا ایوب علیہ السلام نے اس سے فرمایا: جو کچھ تم نے کہا ہے وہ مجھے تو معلوم نہیں ہے تاہم اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے دو جھگڑنے والے آدمیوں میں فیصلہ کیا تھا، وہ دونوں اللہ کی قسمیں کھا رہے تھے۔ پھر میں اپنے گھر چلا گیا تاکہ ان دونوں کی جانب سے کفارہ ادا کروں کیونکہ مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ ناحق اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی جائے۔ سیدنا ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر جایا کرتے تھے اور فراغت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ آپ کو سہارا دے کر واپس گھر لاتی تھیں۔ ایک دن آپ نے کافی دیر لگا دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ نہانے اور پینے کے لئے ٹھنڈا چشمہ ہے۔ آپ کی زوجہ نے بھی دیر محسوس کی۔ پھر وہ ان سے ملیں تو وہ بھی ان کی طرف متوجہ ہوئے تو ان کی تمام بیماری اللہ تعالیٰ نے ختم فرما دی تھی اور آپ پہلے کی طرح خوبصورت تھے۔ جب آپ کی زوجہ نے آپ کو دیکھا تو بولیں: اے فلاں! اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا ایوب علیہ السلام کو کہیں دیکھا ہے؟ خدا کی قسم! تیری شکل و صورت ان کی صحت کے زمانے کی صورت سے بالکل ملتی جلتی ہے، وہ بولے: میں ہی تو وہ ہوں۔ آپ کے دو کھلیان تھے ایک گندم کا اور ایک جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ان میں سے ایک گندم کے کھلیان پر سایہ فگن ہوا اور اس پر سونا برسایا اور دوسرا بادل جو کے ڈھیر پر آیا اور اس نے اس پر چاندی برسائی۔ حتیٰ کہ وہ بہہ گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4160]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4160 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) الظاهر أنَّ معناها: يتقدَّم الناسَ في مشيه ويسبقهم، من قولهم: نضا الفرسُ الخيلَ: إذا تقدَّمها وسبَقها. وفي سائر مصادر تخريج الحديث: تنظر. حالٌ من المرأة، يعني حال كونها تنظر.
📝 نوٹ / توضیح: ظاہر یہ ہے کہ اس کا معنی ہے: وہ چلنے میں لوگوں سے آگے بڑھ جاتے اور سبقت لے جاتے، یہ عربوں کے قول "نضا الفرسُ الخيلَ" سے ماخوذ ہے (جب گھوڑا دوسروں سے آگے نکل جائے)۔ تاہم تخریج کے باقی مصادر میں لفظ "تنظر" (دیکھتی تھی) ہے، جو کہ عورت سے حال واقع ہو رہا ہے، یعنی اس حال میں کہ وہ دیکھ رہی تھی۔
(2) رجاله لا بأس بهم، لكنه اختُلف في وصل هذا الخبر وإرساله عن عُقيل بن خالد، فوصله نافع بن يزيد عنه، وخالف نافعًا فيه يونسُ بنُ يزيد - وهو الأَيلي - عند عبد الله بن المبارك في "الزهد" برواية نُعيم بن حماد (179)، فرواه عن عُقيل عن الزُّهْري مرسلًا، وقال ابن كثير في "البداية والنهاية" 1/ 511: غريبٌ رَفْعُه جدًّا، والأشبه أن يكون موقوفًا. قلنا: لكن صحَّحه الحافظُ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1849).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی خرابی نہیں (لا بأس بہم)، 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن عقیل بن خالد سے اس خبر کے "موصول" یا "مرسل" ہونے میں اختلاف ہے۔ نافع بن یزید نے اسے موصول (متصل) بیان کیا ہے، جبکہ یونس بن یزید (الایلی) نے ان کی مخالفت کی ہے (جو عبد اللہ بن المبارک کی "الزہد" بروایت نعیم بن حماد 179 میں ہے)، انہوں نے اسے عقیل سے، انہوں نے زہری سے "مرسل" روایت کیا ہے۔ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" 1/ 511 میں فرمایا: "اس کا مرفوع ہونا بہت غریب (نادر) ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ یہ موقوف ہو"۔ ہم کہتے ہیں: لیکن حافظ ابن حجر نے "مختصر زوائد البزار" (1849) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2898) من طريق عبد الله بن وهب، عن نافع بن يزيد، بهذا الإسناد. إلّا أنه قال في روايته: كان به البلاء ثماني عشرة سنة. وكذا جاء عند جميع من خرجه، وكذلك جاء في رواية يونس بن يزيد عن عُقيل، فالظاهر أنَّ هذا هو الصحيح، والله أعلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2898) نے عبد اللہ بن وہب کے طریق سے نافع بن یزید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ انہوں نے اپنی روایت میں کہا: "انہیں یہ بیماری اٹھارہ (18) سال رہی"۔ اور جن لوگوں نے اس کی تخریج کی ہے ان سب کے ہاں ایسے ہی آیا ہے، اور یونس بن یزید عن عقیل کی روایت میں بھی ایسا ہی ہے۔ لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ (18 سال والا قول) ہی صحیح ہے، واللہ اعلم۔
قوله: "اركض برجلك"، أي: اضرِبِ الأرض برجلك.
📝 نوٹ / توضیح: قولِ باری تعالیٰ: "اركض برجلك" کا مطلب ہے: اپنا پاؤں زمین پر مارو۔
والمُغتَسَل: الماء.
📝 نوٹ / توضیح: "المُغتَسَل" سے مراد پانی ہے۔
والأندر: البَيْدر، وهو الموضع الذي يُداسُ فيها الحبُّ.
📝 نوٹ / توضیح: "الأندر" کا مطلب کھلیان (بیدر) ہے، یعنی وہ جگہ جہاں غلہ (دانے) کو گاہا جاتا ہے۔
والوَرِق: الفضة.
📝 نوٹ / توضیح: "الوَرِق" سے مراد چاندی ہے۔