🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. ذكر نبي الله إلياس وصفته - عليه السلام -
اللہ کے نبی حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر اور ان کی صفات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4164
أخبرني أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا مروان بن جعفر، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: ثم كان إلياسُ نبيُّ الله صاحبَ جِبالٍ وبَرِّيّة، يَخلُو فيها يَعبُدُ ربَّه، وكان ضَخْمَ الرأس خَمِيصَ البطنِ، دَقِيقَ الساقَين، وكان في صَدْره شامةٌ حمراءُ، وإنما رَفَعَه الله إلى أرض (1) الشام، ولم يَصْعَد به إلى السماء، فأَورَثَ اليَسَعَ مِن بعدِه النُّبوةَ (2) . ذكر نبيِّ الله يونس بن مَتّى ﵇، وهو الذي سَمّاه اللهُ ذَا النُّون
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا الیاس علیہ السلام پہاڑوں اور جنگلوں کو دوست رکھنے والے تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پہاڑوں اور جنگلوں میں چلے جایا کرتے تھے۔ آپ کا سر موٹا تھا اور پیٹ دبلا تھا، باریک پنڈلیاں تھیں، آپ کے سر میں سرخ رنگ کی (نبوت کی) نشانی تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ملک شام کی طرف اٹھا لیا تاہم ان کو آسمانوں پر نہیں لے گیا۔ پھر ان کے بعد سیدنا یسع علیہ السلام نبی بنے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4164]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4164 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من (ب) ونسخة على هامش (ز)، ومن المطبوع، ومن "الدر المنثور" للسيوطي 7/ 118، وفي (ز) و (ص) و (ع): رفعه الله بأرض الشام، والمثبت أوجَهُ وأوضح.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب)، نسخہ (ز) کے حاشیے، مطبوعہ نسخے اور سیوطی کی "الدر المنثور" 7/ 118 سے جو متن ثابت کیا گیا ہے وہ درست ہے۔ جبکہ نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "رفعه الله بأرض الشام" (اللہ نے اسے سرزمین شام میں اٹھایا) کے الفاظ ہیں، لیکن جو ہم نے ثابت کیا ہے وہ زیادہ راجح اور واضح ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4059).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، اور اس کے رجال پر کلام نمبر (4059) کے تحت گزر چکا ہے۔