المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. ذكر نبي الله يونس بن متى - عليه الصلاة والسلام - وهو الذى سماه الله ذا النون
اللہ کے نبی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر، جنہیں اللہ نے ذوالنون فرمایا
حدیث نمبر: 4165
أخبرني أبو سعيد الأحمسي، حدثنا الحُسين بن حميد، حدثنا مروان بن جعفر، حدثني حُميد بن مُعاذ، حدثني مُدرِك بن عبد الرحمن، عن الحسن بن ذَكْوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب، قال: وكان يُونسُ بن مَتّى الذي سمّاه الله ذا النُّون، فقال: ﴿وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87] ، فاستجابَ اللهُ له فَنَجّاهُ من الغَمّ من ظُلُماتٍ ثلاثٍ: ظُلْمةِ الليل، وظُلْمةِ البحر، وظُلْمةِ بطن الحُوت، وتاب على قومه، وأرسَلَه إلى مئة ألفٍ أو يزيدون، فآمَنُوا فمتَّعهم اللهُ إلى آجالِهمُ التي كَتَبَها لهم، ولم يُهلِكْهُم بالعذاب (3) .
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یونس بن متی علیہ السلام وہی ہیں جن کو ” ذوالنون “ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَادٰٓی فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِٰلہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ (الانبیاء: 87) ” اور ذوالنون کو یاد کرو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوائے تیرے پاکی ہے تجھ کو، بیشک مجھ سے بے جا ہوا “ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول کیا اور انہیں غم سے نجات بخشی۔ تین طرح کے اندھرے تھے: (1) رات کا اندھیرا۔ (2) دریا کا اندھیرا۔ (3) مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ آپ اپنی قوم میں تشریف لائے اور آپ کو ایک لاکھ یا اس سے بھی زائد افراد کی طرف بھیجا گیا، وہ لوگ آپ پر ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نفع دیا، ان کی ان میعادوں تک جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لکھ رکھی تھی اور ان کو عذاب کے ساتھ ہلاک نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4165]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4165 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف جدًّا كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بھی سابقہ کی طرح سخت ضعیف ہے۔
وقد تقدَّم من حديث ابن مسعود مختصرًا بذكر الظلماتِ الثلاث برقم (3486)، وإسناده صحيح. وهو عند ابن أبي شَيْبة 11/ 541 - 543 وغيره مطولًا بذكر قصة يونس مع قومه لما وعدهم العذاب وما حصل مع يونس لما خرجت القُرعة عليه في السفينة، ثم التقام الحوت إياه، ثم نبذه لهم بالعَراء، ورجوعه إلى قومه، ونجاتهم من العذاب لما آمنوا به.
🧾 تفصیلِ روایت: ابن مسعود کی حدیث سے "تین اندھیروں" کے ذکر کے ساتھ یہ مختصر روایت نمبر (3486) کے تحت گزر چکی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: جبکہ ابن ابی شیبہ 11/ 541-543 اور دیگر کے ہاں یہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے جس میں یونس علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ قصہ، عذاب کا وعدہ، کشتی میں قرعہ اندازی کا واقعہ، مچھلی کا انہیں نگل لینا، پھر چٹیل میدان میں اگل دینا، ان کا اپنی قوم کی طرف لوٹنا اور قوم کے ایمان لانے پر عذاب سے نجات پانا مذکور ہے۔