المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
59. ذكر نبي الله يونس بن متى - عليه الصلاة والسلام - وهو الذى سماه الله ذا النون
اللہ کے نبی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر، جنہیں اللہ نے ذوالنون فرمایا
حدیث نمبر: 4168
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان بن مُسلِم وأبو سَلَمة، قالا: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا داود بن أبي هند، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ثَنِيَّةٍ، فقال:"ما هذه؟" قالوا: هذه ثَنِيّةُ كذا وكذا، قال:"كأني أنظُرُ إلى يُونسَ بن متَّى على ناقةٍ خِطامُها لِيفٌ، وعليه جُبّةٌ من صُوف، وهو يقول: لَبَّيكَ اللهم لَبَّيك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4123 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4123 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ (نامی پہاڑی) پر گئے تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: ثنیہ (نامی پہاڑی) ہے۔ آپ نے فرمایا: گویا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی پر سوار ہیں جس کی لگام رسی کی ہے اور انہوں نے اون کا جبہ زیب تن کر رکھا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں:” لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4168]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4168 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح، لكن من رواية داود بن أبي هند عن أبي العالية - وهو رُفَيع بن مهران الرِّيَاحي - عن ابن عبّاس والظاهر أنَّ الوهم فيه من محمد بن غالب - وهو تمتام - فإنه كان له بعض الأوهام، فقد روى هذا الحديثَ عن عفّان زهير بنُ حرب عند أبي يعلى (2542) وعنه ابن حبان (6219)، وبشرُ بنُ موسى الأسدي عند أبي نعيم في "الحلية" 2/ 223 و 3/ 96، فقالا: عن أبي العالية، عن ابن عبّاس .. وقال أبو نُعيم: وكذلك رواه عن عفان أحمدُ بن حنبل وأبو بكر بن أبي شَيْبة والأئمة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ صحیح ہے، لیکن داؤد بن ابی ہند کی روایت سے جو ابو العالیہ (رفیع بن مہران الریاحی) سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ظاہر یہ ہے کہ اس میں وہم "محمد بن غالب" (تمتام) کی جانب سے ہے، کیونکہ انہیں کچھ اوہام لاحق ہو جاتے تھے۔ چنانچہ اسی حدیث کو عفان سے زہیر بن حرب نے (ابو یعلیٰ 2542 اور ابن حبان 6219 میں) اور بشر بن موسیٰ الاسدی نے (ابو نعیم کی "الحلیہ" 2/ 223 اور 3/ 96 میں) روایت کیا ہے تو ان دونوں نے کہا: "عن ابی العالیہ، عن ابن عباس..."۔ ابو نعیم نے کہا: اسی طرح اسے عفان سے احمد بن حنبل، ابو بکر بن ابی شیبہ اور دیگر ائمہ نے بھی روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه الحسن بن موسى الأشيب كما تقدم برقم (3352)، والحجاج بن منهال عند الطبراني (12756)، كلاهما عن حمّاد بن سلمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے حسن بن موسیٰ الاشیب نے (جیسا کہ نمبر 3352 پر گزرا) اور حجاج بن منہال نے (طبرانی 12756 میں) روایت کیا ہے، یہ دونوں حماد بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں۔
وكذلك رواه عن داود بن أبي هند جماعةٌ كما تقدم بيانه برقم (3352)، فهذا هو المحفوظ أنه عن أبي العالية عن ابن عبّاس.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسی طرح اسے داؤد بن ابی ہند سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے جیسا کہ نمبر (3352) میں بیان گزر چکا، لہٰذا یہی "محفوظ" ہے کہ یہ روایت "ابو العالیہ عن ابن عباس" ہے۔
(2) بل قد أخرجه مسلم (166) من طريقين عن داود بن أبي هند، عن أبي العالية، عن ابن عبّاس.
📖 حوالہ / مصدر: بلکہ اسے مسلم (166) نے داؤد بن ابی ہند سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے، وہ ابو العالیہ سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں۔