المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
60. مكث يونس فى بطن الحوت أربعين يوما
حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں چالیس دن قیام
حدیث نمبر: 4173
أخبرنا أبو محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَراء، حدثنا عبد المُنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب: أنَّ يونس بن مَتَّى كان عبدًا صالحًا، وكان في خُلُقه ضِيقٌ، فلما حُمّلَت عليه أثقالُ النبوة - ولها أثقالٌ لا يَحمِلُها إلَّا قليلٌ - تَفسَّخَ تحتها تَفسُّخَ الرُّبَعِ تحت الحِمْل، فقَذَفها من يَدَيه وخرج هارِبًا منها، يقول اللهُ ﷿ لنبيه محمد ﷺ: ﴿فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ﴾ [الأحقاف: 35] ، وَ ﴿فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَى وَهُوَ مَكْظُومٌ﴾ [القلم: 48] ، أي: لا تُلْقِ أمري كما ألقاهُ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4128 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4128 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا یونس بن متی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نیک بندے تھے، آپ ذرا کمزور بدن تھے۔ جب آپ پر نبوت کا بوجھ ڈالا گیا (یہ بوجھ بہت کم لوگ اٹھا سکتے ہیں) تو وہ بوجھ کے نیچے دب گئے۔ آپ نے وہ بوجھ پھینک دیا اور بھاگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف: 35) ” تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔“ اور فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَ لَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ اِذْ نَادٰی وَ ھُوَ مَکْظُوْمٌ (القلم: 48) ” تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا “ یعنی تم ایسا رویہ نہ اپنانا جیسا انہوں نے اپنایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4173]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4173 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ، كما قال الحافظ الذهبي في غير موضع من "تلخيصه" وذلك لأجل عبد المنعم بن إدريس، فهو متروك، وكذّبه الإمام أحمد. لكن روي عن وهب بن مُنبِّه - من طريق أخرى لا بأس بها.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے جیسا کہ حافظ ذہبی نے "التلخیص" میں کئی مقامات پر کہا ہے، اس کی وجہ "عبد المنعم بن ادریس" ہے جو متروک ہے اور امام احمد نے اس کی تکذیب کی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لیکن یہ وہب بن منبہ سے ایک دوسرے طریق سے مروی ہے جس میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہا)۔
وأخرجه محمد بن إسحاق في "المبتدأ والمبعث والمغازي" برواية رواية يونس بن بُكير عنه (154)، ومن طريق ابن إسحاق أخرجه الطبري في "تفسيره" 17/ 77، وأبو نُعيم في "الحلية" 4/ 50، قال: حدثني ربيعة بن أبي عبد الرحمن، قال سمعتُ وهب بن مُنبِّه، فذكره. وإسناده حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن اسحاق نے "المبتدأ والمبعث والمغازی" (بروایت یونس بن بکیر 154) میں روایت کیا ہے۔ اور ابن اسحاق کے طریق سے اسے طبری نے "تفسیر" 17/ 77 میں اور ابو نعیم نے "الحلیہ" 4/ 50 میں روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: "مجھے ربیعہ بن ابی عبد الرحمن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے وہب بن منبہ کو سنا..." پھر ذکر کیا۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند حسن ہے۔
وقوله: تفسَّخَ، أي: انسلخ منها وتجرَّد عنها.
📝 نوٹ / توضیح: قولِ متن: "تفسَّخَ" کا مطلب ہے: اس سے کھال اتر گئی اور وہ اس سے ننگا ہو گیا۔
وتَفسُّخَ الرُّبَع، أي: كتفسُّخِ الفَصِيل - وهو ولد الناقة المولود في الربيع - تحت الحِمل الثَّقِيل.
📝 نوٹ / توضیح: "تَفسُّخَ الرُّبَع" کا مطلب ہے: جیسے اونٹ کے بچے (جو ربیع میں پیدا ہوا ہو) کا بھاری بوجھ کے نیچے دب کر (یا کمزوری سے) ادھڑ جانا۔