🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. قِصَّةُ قَتْلِ يَحْيَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4196
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا سَلْم (1) بن جُنادة، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: بَعَثَ عيسى ابن مريم يحيى بنَ زكريا في اثني عشر ألفًا من الحَوارِيِّين يُعلِّمون الناسَ، قال: وكان فيما يَنهَونهم عنه نكاحُ ابنةِ الأخ، قال: وكانت لملِكِهم ابنةُ أخٍ تُعجِبُه يريد أن يَتزوّجها، فكانت لها كلَّ يومٍ حاجةٌ يقضيها، فلما بلغَ ذلك أمَّها قالت لها: إذا دخلتِ على الملِكِ فسألَكِ حاجَتَك، فقولي: حاجتي أن تَذبَحَ لي يحيى بنَ زكريا، فلما دخلتْ عليه سألها حاجتَها، فقالت: حاجتي أن تَذبَحَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِيني غيرَ هذا، فقالت: ما أسألُك إلّا هذا، فقال: فلما أبَتْ عليه دعا يحيى بنَ زكريا ودعا بطَسْتٍ، فذبَحَه فنَدَرَت (2) قَطرةٌ من دَمِه على الأرض، فلم تَزَلْ تَغلي حتى بعثَ اللهُ بُخْتنَصَّر عليهم، فجاءتْه عجوزٌ من بني إسرائيل، فدلَّتْه على ذلك الدم، فألقى اللهُ في قلبِه أن يَقتُل على ذلك الدمِ منهم حتى يَسكُن، فقتل سبعين ألفا منهم من سِنٍّ واحدةٍ حتى سَكَنَ (3) .
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو بارہ ہزار حواریوں کے ہمراہ بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں۔ وہ جن باتوں سے انہیں منع کرتے تھے ان میں بھتیجی سے نکاح کرنا بھی شامل تھا۔ ان کے بادشاہ کی ایک بھتیجی تھی جو اسے بہت پسند تھی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا، اور وہ لڑکی ہر روز اپنی کوئی ایک حاجت بادشاہ سے پوری کرواتی تھی۔ جب یہ بات اس لڑکی کی ماں کو معلوم ہوئی تو اس نے بیٹی سے کہا: جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ اور وہ تم سے تمہاری حاجت پوچھے تو کہنا: میری حاجت یہ ہے کہ آپ میرے لیے یحییٰ بن زکریا کو ذبح کر دیں۔ چنانچہ جب وہ بادشاہ کے پاس گئی تو اس نے اس سے حاجت پوچھی، لڑکی نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ آپ یحییٰ بن زکریا کو ذبح کر دیں۔ بادشاہ نے کہا: مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو۔ لڑکی نے کہا: میں آپ سے اس کے سوا کچھ نہیں مانگوں گی۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ اپنی بات پر اڑ گئی تو بادشاہ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو بلوایا اور ایک طشت منگوایا، پھر انہیں ذبح کر دیا، پس ان کے خون کا ایک قطرہ زمین پر گرا جو مسلسل ابلتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کر دیا۔ پھر بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا اس کے پاس آئی اور اسے اس خون کا پتہ بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اس خون کے بدلے ان میں سے لوگوں کو قتل کرے یہاں تک کہ وہ خون پرسکون ہو جائے (ابلنا بند کر دے)۔ چنانچہ اس نے ان میں سے ایک ہی عمر کے ستر ہزار آدمیوں کو قتل کر دیا تب جا کر وہ خون رکا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4196]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكن متنه منكر كما قدمنا بيانه برقم (3183). أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران.» [ترقيم الرساله 4196] [ترقيم الشركة 4173] [ترقيم العلميه 4151]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4196 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: مسلم
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "مسلم" ہو گیا ہے۔
(2) في (ز) و (ب): فدَرّت. ومعنى نَدَرَت سقطت.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "فدَرّت" ہے، جبکہ "نَدَرَت" کا معنی ہے: وہ گر پڑی۔
(3) رجاله لا بأس بهم، لكن متنه منكر كما قدمنا بيانه برقم (3183). أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم) لیکن اس کا متن "منکر" ہے جیسا کہ نمبر (3183) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو معاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر اور اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 15/ 43 وفي "تاريخه" 1/ 586 عن أبي السائب سَلْم بن جُنادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" 15/ 43 اور "تاریخ" 1/ 586 میں ابو السائب سلم بن جنادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4196 in Urdu