المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
73. قصة قتل يحيى - عليه السلام -
حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کا واقعہ
حدیث نمبر: 4196
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا سَلْم (1) بن جُنادة، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: بَعَثَ عيسى ابن مريم يحيى بنَ زكريا في اثني عشر ألفًا من الحَوارِيِّين يُعلِّمون الناسَ، قال: وكان فيما يَنهَونهم عنه نكاحُ ابنةِ الأخ، قال: وكانت لملِكِهم ابنةُ أخٍ تُعجِبُه يريد أن يَتزوّجها، فكانت لها كلَّ يومٍ حاجةٌ يقضيها، فلما بلغَ ذلك أمَّها قالت لها: إذا دخلتِ على الملِكِ فسألَكِ حاجَتَك، فقولي: حاجتي أن تَذبَحَ لي يحيى بنَ زكريا، فلما دخلتْ عليه سألها حاجتَها، فقالت: حاجتي أن تَذبَحَ يحيى بنَ زكريا، فقال: سَلِيني غيرَ هذا، فقالت: ما أسألُك إلّا هذا، فقال: فلما أبَتْ عليه دعا يحيى بنَ زكريا ودعا بطَسْتٍ، فذبَحَه فنَدَرَت (2) قَطرةٌ من دَمِه على الأرض، فلم تَزَلْ تَغلي حتى بعثَ اللهُ بُخْتنَصَّر عليهم، فجاءتْه عجوزٌ من بني إسرائيل، فدلَّتْه على ذلك الدم، فألقى اللهُ في قلبِه أن يَقتُل على ذلك الدمِ منهم حتى يَسكُن، فقتل سبعين ألفا منهم من سِنٍّ واحدةٍ حتى سَكَنَ (3) .
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح إسناده على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4151 - قد مر وأنه على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اور سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو بارہ بارہ ہزار حواریوں میں مبعوث فرمایا۔ یہ لوگوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ ان کی تعلیمات کے مطابق بھائی کی بیٹی یعنی بھتیجی کے ساتھ نکاح کرنا حرام تھا۔ ان کے بادشاہ کی ایک بھتیجی تھی جس کو بادشاہ پسند کرتا تھا اور اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا تو وہ ہر دن اس کی ایک حاجت پوری کیا کرتا تھا۔ یہ بات اس لڑکی کی ماں تک پہنچی تو اس نے اپنی لڑکی کو سمجھاتے ہوئے کہا: جب تو بادشاہ کے پاس جائے اور وہ تیری حاجت پوچھے تو تو کہنا: میری حاجت یہ ہے کہ تم میری خاطر یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ذبح کر دو۔ جب وہ بادشاہ کے پاس گئی، اس نے اس سے حاجت پوچھی، تو اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ تم یحیی بن زکریا کو ذبح کر دو۔ اس نے کہا: اس کے علاوہ کوئی فرمائش کرو۔ اس نے کہا: میری اس کے علاوہ آپ سے اور کوئی فرمائش نہیں ہے۔ جب یہ اپنی ضد پر اڑ گئی تو بادشاہ نے سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو بلوایا اور ایک بڑا تھال منگوایا اور اس میں آپ کو ذبح کر ڈالا، اس تھال میں سے خون کا ایک قطرہ زمین پر گر گیا تو وہ مسلسل تڑپتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط فرمایا۔ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی خاتون نے بخت نصر کو اس خون کی کہانی سنائی، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ ان سے انتقام لے گا، جب تک اس خون کو قرار نہیں آتا اس وقت میں ان کو قتل کرتا رہوں گا۔ چنانچہ صرف ایک سال میں اس نے ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ تب کہیں اس قطرہ خون کو سکون ملا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4196]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4196 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: مسلم
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "مسلم" ہو گیا ہے۔
(2) في (ز) و (ب): فدَرّت. ومعنى نَدَرَت سقطت.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "فدَرّت" ہے، جبکہ "نَدَرَت" کا معنی ہے: وہ گر پڑی۔
(3) رجاله لا بأس بهم، لكن متنه منكر كما قدمنا بيانه برقم (3183). أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، والأعمش: هو سليمان بن مهران.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم) لیکن اس کا متن "منکر" ہے جیسا کہ نمبر (3183) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو معاویہ سے مراد محمد بن خازم الضریر اور اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 15/ 43 وفي "تاريخه" 1/ 586 عن أبي السائب سَلْم بن جُنادة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" 15/ 43 اور "تاریخ" 1/ 586 میں ابو السائب سلم بن جنادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔