🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. إن الله تعالى لم يضع داء إلا وضع له دواء
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کا علاج بھی رکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 421
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعْبة. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن النَّضْر الزُّبَيري، حدثنا بكر بن بَكَّار، حدثنا شعبة. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرني أبو عمرو محمد بن جعفر - واللفظ له - حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا عُبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن زياد بن عِلَاقة، سمع أسامةَ بن شَرِيك قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وأصحابُه عنده كأنما على رؤوسهم الطَّير، فسلَّمتُ وقعدتُ، فجاء أعرابٌ يسألونه عن أشياءَ حتى قالوا: أنتداوَى؟ قال:"تَداوَوْا، فَإِنَّ الله لم يَضَعْ داءً إلَّا وَضَعَ له دواءً"، فسألوه عن أشياءَ، فقال:"عبادَ الله، وَضَعَ اللهُ الحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَرَضَ امرَأً ظُلمًا، فذلك حَرِجَ وهَلَكَ" قالوا: يا رسول الله، ما خيرُ ما أُعطيَ الناس؟ قال:"خُلُقٌ حَسَنٌ" (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، والعِلَّة عند مسلم فيه أن أسامة بن شَرِيك لا راوي له غير زياد بن عِلَاقة، وقد روي عن علي بن الأقمر عن أسامة بن شريك (2) ، على أني قد أصَّلتُ كتابي هذا على إخراج الصحابة وإن لم يكن لهم غيرُ راوٍ واحد، ولهذا الحديث طرق سبيلُنا أن نُخرِجَها بمشيئة الله في كتاب الطب.
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے صحابہ آپ کے پاس اس طرح (باادب) بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں؛ میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، پھر کچھ دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف چیزوں کے بارے میں سوال کرنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے پوچھا: کیا ہم علاج کروائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علاج کرواؤ، کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کی دوا نہ بنائی ہو؛ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو دی جانے والی چیزوں میں سب سے بہترین کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسنِ اخلاق۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام مسلم کے نزدیک اس میں علت یہ ہے کہ اسامہ بن شریک سے سوائے زیاد بن علاقہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی، حالانکہ میں نے اس کتاب کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ صحابی کی روایت لی جائے گی اگرچہ ان سے ایک ہی راوی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 421]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 421 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وعبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف في الإسناد الثالث ضعيف، وكذا بكر بن بكار في الإسناد الثاني، لكنهما متابعان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تیسری سند میں مصنف کے شیخ عبد الرحمن بن الحسن ضعیف ہیں، اور اسی طرح دوسری سند میں بکر بن بکار بھی ضعیف ہیں، لیکن (فائدہ یہ ہے کہ) ان دونوں کی دیگر ثقہ راویوں سے "متابعت" ثابت ہے، اس لیے روایت صحیح ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا: أحمد 30/ (18454)، وأبو داود (3855)، والنسائي (5844) و (5850) و (7511) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 30/ (18454)، ابو داود (3855) اور نسائی (5844، 5850، 7511) نے شعبہ بن الحجاج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ مکمل اور مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك أحمد 30/ (18453) و (18455) و (18456)، وأبو داود (2015)، وابن ماجه (3436)، والترمذي (2038)، والنسائي (7512)، وابن حبان (478) و (486) و (6061) و (6064) من طرق عن زياد بن علاقة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام احمد 30/ (18453، 18455، 18456)، ابو داود (2015)، ابن ماجہ (3436)، ترمذی (2038)، نسائی (7512) اور ابن حبان (478، 486، 6061، 6064) نے زیاد بن علاقہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (7618) و (8406) و (8407) من طرق عن زياد.
📌 اہم نکتہ: یہ روایت مصنف کے ہاں آگے نمبر (7618، 8406، 8407) پر زیاد بن علاقہ ہی کے طرق سے دوبارہ آئے گی۔
قوله: "إلّا امرأً اقترض امرأً" أي إلّا من اغتاب أخاه أو سبَّه أو آذاه في نفسه، عبَّر عنها بالاقتراض لأنه يستردُّ منه في العقبى، ويحتمل أن يكون "اقترض" بمعنى: قطع، وقال السيوطي: أي: نال منه وقطعه بالغيبة. قاله السندي في حاشيته على "مسند أحمد".
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "إلّا امرأً اقترض امرأً" کا مطلب ہے: "سوائے اس شخص کے جس نے اپنے بھائی کی غیبت کی، اسے گالی دی یا اسے جانی و مالی اذیت پہنچائی"۔ یہاں غیبت و ایذا کے لیے "اقتراض" (قرض لینے) کا لفظ اس لیے استعمال ہوا کیونکہ آخرت میں اس کا بدلہ چکانا پڑے گا۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ "اقترض" کا معنی "کاٹنا" ہو، جیسا کہ علامہ سیوطی نے فرمایا کہ اس نے غیبت کے ذریعے اسے نشانہ بنایا اور کاٹا۔ یہ تشریح علامہ سندھی نے "مسند احمد" کے حاشیے میں ذکر کی ہے۔