🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. إن الله تعالى لم يضع داء إلا وضع له دواء
اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کا علاج بھی رکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 422
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن يزيد الرِّيَاحي، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا صالح بن رُسْتُم، عن حُمَيد بن هلال، عن عبد الرحمن بن قُرْط قال: دخلتُ المسجد فإذا حَلْقةٌ كأنما قُطِعت رؤوسُهم، وإذا رجلٌ يحدِّثهم، فإذا هو حُذَيفة، قال: كان الناس يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرّ، وذكر الحديث بطوله (1) . مَتْن هذا الحديث مخرَّج في الكتابين، وإنما خرَّجتُه في هذا الموضع للإصغاء إلى المحدِّث وكيفية التوقير له، فإنَّ هذه اللفظة لم يُخرجاها في الكتابين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 416 - صحيح
عبدالرحمن بن قرط سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ دیکھا جہاں لوگ اس طرح (خاموشی اور ادب سے) بیٹھے تھے گویا ان کے سر قلم کر دیے گئے ہوں، اور ایک شخص انہیں حدیث سنا رہا تھا، معلوم ہوا کہ وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے؛ انہوں نے کہا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا... (پھر مکمل حدیث ذکر کی)۔
اس حدیث کا متن صحیحین میں موجود ہے، یہاں اسے محدث کی بات توجہ سے سننے اور ان کی توقیر کے بیان کے لیے ذکر کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 422]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 422 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رواية علي بن الأقمر عن أسامة بن شريك وقعت عند الطبراني في "الكبير" (495)، في قصة صلاته على جنازة، والسند إليه ضعيف جدًّا. ¤ ¤ وأما العلة التي أشار إليها المصنف في عدم إخراج مسلم له، فقد سلف التعليق عليها عند الحديث (97).
🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن الاقمر کی اسامہ بن شریک سے روایت طبرانی کی "المعجم الکبیر" (495) میں جنازے پر نماز پڑھنے کے قصے میں آئی ہے، مگر اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: جہاں تک اس علت کا تعلق ہے جس کی طرف مصنف نے اشارہ کیا کہ امام مسلم نے اسے کیوں نہیں لیا، تو اس پر مفصل بحث حدیث نمبر (97) کے تعلیق میں گزر چکی ہے۔
(1) حديث حسن، وهذا إسناد أخطأ فيه صالح بن رستم - وهو أبو عامر الخزّاز البصري - وهو قد اختُلف فيه بين موثِّق ومليِّن، وفي الجملة هو حسن الحديث إلّا أنَّ له أوهامًا، وقد وصفه بذلك ابن حبان في "مشاهير علماء الأمصار" (1190) فقال: هو من الحفاظ الذين كانوا يخطئون. قلنا: وهو كذلك، فقد أخطأ في إسناد هذا الحديث فجعله من حديث حميد بن هلال عن عبد الرحمن بن قرط عن حذيفة، وعبد الرحمن بن قرط هذا لا يُعرف في العراقيين إلّا في هذا الحديث من هذا الوجه والمحفوظ في هذا الحديث رواية حميد بن هلال عن نصر بن عاصم عن اليَشكُري - واختُلف في اسمه فقيل: سُبيع بن خالد، وقيل: خالد بن سُبيع، وقيل: خالد بن خالد: أنه أتى الكوفة فدخل المسجد … وذكر الحديث، هكذا رواه عن حميدٍ سليمانُ ابن المغيرة وهو ثقة ثقة، وأما نصر بن عاصم فثقة، وأما اليشكري فقد روى عنه غير واحدٍ وذكره العجلي وابن حبان في الثقات، فمثله حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں صالح بن رستم (ابو عامر الخزاز البصری) سے غلطی ہوئی ہے؛ ان کے بارے میں محدثین کے اقوال مختلف ہیں، مجموعی طور پر وہ "حسن الحدیث" ہیں مگر اوہام کا شکار ہو جاتے تھے۔ امام ابن حبان نے "مشاہیر علماء الامصار" (1190) میں فرمایا کہ وہ ان حفاظ میں سے ہیں جو غلطی کر جاتے تھے۔ یہاں انہوں نے غلطی یہ کی کہ اسے "حمید بن ہلال عن عبد الرحمن بن قرط عن حذفیہ" کی سند سے بیان کیا، جبکہ عبد الرحمن بن قرط عراقیوں میں اس طریق کے علاوہ کہیں معروف نہیں ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: اس حدیث میں "محفوظ" (صحیح) روایت حمید بن ہلال عن نصر بن عاصم عن الیشکری کی ہے (یشکری کے نام میں سبیع بن خالد یا خالد بن سبیع وغیرہ کا اختلاف ہے)۔ اسے سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے روایت کیا ہے جو کہ "ثقہ ثقہ" ہیں۔ نصر بن عاصم ثقہ ہیں اور یشکری کی توثیق عجلی اور ابن حبان نے کی ہے، لہٰذا وہ حسن الحدیث ہیں۔
أخرجه من حديث سليمان بن المغيرة عن حميد عن نصر بن عاصم: أحمد 38/ (23282)، وأبو داود (4246)، والنسائي (7978)، وابن حبان (5963)، وغيرهم. وانظر تمام تخريجه في "المسند".
📖 حوالہ / مصدر: سلیمان بن مغیرہ عن حمید عن نصر بن عاصم کی محفوظ روایت امام احمد 38/ (23282)، ابو داود (4246)، نسائی (7978) اور ابن حبان (5963) وغیرہ نے تخریج کی ہے۔ مکمل تخریج "مسند احمد" میں ملاحظہ کریں۔
ورواه عن نصر بن عاصم أيضًا قتادةُ فيما سيأتي عند المصنف برقم (8537).
🧩 متابعات و شواہد: نصر بن عاصم سے امام قتادہ نے بھی اسے روایت کیا ہے جو آگے نمبر (8537) پر آئے گی۔
وأما حديث صالح بن رستم عن حميدٍ، فسيأتي بطوله برقم (8535) من طريق عباس الدُّوري عن سعيد بن عامر. ¤ ¤ وأخرجه النسائي (7979) عن أحمد بن حرب، عن سعيد بن عامر، بهذا الإسناد.
📌 اہم نکتہ: صالح بن رستم کی روایت آگے نمبر (8535) پر عباس دوری عن سعید بن عامر کے طریق سے مفصل آئے گی۔ اسے امام نسائی (7979) نے بھی احمد بن حرب عن سعید بن عامر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج طرفًا منه ابن ماجه (3981) عن محمد بن عمر بن علي المقدَّمي، عن سعيد بن عامر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا ایک ٹکڑا امام ابن ماجہ (3981) نے محمد بن عمر بن علی مقدمی عن سعید بن عامر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد سلف بنحوه برقم (391) من طريق أبي إدريس الخولاني عن حذيفة وهو مخرَّج عند الشيخين.
🧩 متابعات و شواہد: اسی مفہوم کی روایت پہلے نمبر (391) پر ابو ادریس خولانی عن حذفیہ کے طریق سے گزر چکی ہے، جو بخاری و مسلم میں موجود ہے۔