🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ذكر أخبار سيد المرسلين - صلى الله عليه وآله وسلم -
سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و واقعات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4220
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، قال: قلت لأبي اليَمَان: حدَّثكَ أبو بكر بن أبي مريم الغَسّاني، عن سعيد بن سُوَيد، عن العِرْباض بن سارِيَة السُّلمي، قال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"إني عندَ الله في أوّل الكتاب لَخاتَمُ النبيين، وإنّ آدمَ لمُنْجَدِلٌ في طِينتِه، وسأنبِّئكم بتأويل ذلك: دعوةُ أبي إبراهيم، وبِشارةُ عيسى قومَه، ورُؤْيا أمي التي رأَتْ أنه خرج منها نُورٌ أضاءت له قصورُ الشام" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، شاهدٌ للحديث الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4175 - صحيح
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک میں اللہ کے ہاں مجھے سب سے پہلے خاتم النبیین لکھ دیا گیا تھا جبکہ آدم علیہ السلام کا ابھی خمیر تیار کیا جا رہا تھا اور عنقریب میں تمہیں اس کی تاویل سے آگاہ کروں گا (میں) اپنے باپ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور وہ بشارت ہوں جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو دی تھی اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا ہے جس سے ان کے لئے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور گزشتہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4220]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4220 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): خيار.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں لفظ "خيار" ہے۔
(2) كذا قال المصنف، وهو وهم منه ﵀، فإنَّ خالد بن مَعدان لم يُدرك معاذ بن جبل، ومعلوم أنَّ معاذًا مات في طاعون عمواس سنة (18 هـ)، ولهذا جزم أبو حاتم الرازي والبزار وغيرهما بأنَّ روايته عنه مرسلة، وقد أرسل عن جماعة من الصحابة ممن ماتوا في عصر الخلفاء الراشدين، ولهذا قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 4/ 537: حدَّث عن خلق من الصحابة، وأكثر ذلك مرسل.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف حاکم کا اسے متصل قرار دینا ان کا وہم ہے، کیونکہ خالد بن معدان نے معاذ بن جبل کو نہیں پایا (معاذ رضی اللہ عنہ 18ھ میں طاعونِ عمواس میں وفات پا گئے تھے)۔ ابو حاتم رازی اور بزار نے جزم کے ساتھ اسے "مرسل" کہا ہے۔ امام ذہبی کے مطابق خالد بن معدان کی اکثر روایات مرسل ہیں۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم الغَسّاني، وقد قصَّر في إسناده كما قال البيهقي في "دلائل النبوة" 1/ 83، فلم يذكر فيه عبدَ الأعلى بنَ هلال بين سعيد بن سُويد وبين العرباض، وذكره معاوية بن صالح الثقة كما تقدم برقم (3608)، وعبد الأعلى بن هلال روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، فإسناد رواية معاوية بن صالح حسنٌ على أن له شواهد. أبو اليمان: هو الحكم بن نافع. وأخرجه أحمد 28/ (17163) عن أبي اليمان الحكم بن نافع، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے مگر یہ مخصوص سند ابو بکر بن ابی مریم کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بیہقی کے بقول انہوں نے سند میں ایک راوی عبد الاعلیٰ بن ہلال کو گرا دیا ہے، جبکہ ثقہ راوی معاویہ بن صالح نے اسے نمبر (3608) پر ذکر کیا ہے، لہٰذا معاویہ بن صالح کی سند "حسن" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے (28/ 17163) میں اسے ابو الیمان الحکم بن نافع سے روایت کیا ہے۔
ويشهد لقوله: "دعوة أبي إبراهيم" إلى آخر الحديث ما قبله. ويشهد لقوله: "إني لخاتم النبيين وإنَّ آدم لمنجدلٌ في طينته" حديثا أبي هريرة وميسرة الفجر الآتيان برقم (4254) و (4255)، وهما صحيحان.
🧩 متابعات و شواہد: "دعوتِ ابراہیم" والے حصے کا شاہد سابقہ روایت ہے، جبکہ "میں خاتم النبیین تھا جبکہ آدم ابھی مٹی میں گندھے ہوئے تھے" کے شاہد ابو ہریرہ اور میسرہ الفجر کی احادیث (نمبر 4254، 4255) ہیں جو کہ صحیح ہیں۔