🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. يوم ولادته صلى الله عليه وآله وسلم يوم الاثنين
رسول اللہ ﷺ کی ولادت پیر کے دن ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4224
أخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك ببغداد والحسن بن يعقوب العَدْل بنَيسابُور، قالا: حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن غَيلان بن جَرير، عن عبد الله بن مَعْبَد الزِّمّاني، عن أبي قَتَادة الأنصاري: أنَّ أعرابيًّا سأل النبيَّ ﷺ عن صوم يوم الاثنين، قال:"ذاك اليومُ الذي وُلِدتُ فيه، وأُنزل عليَّ فيه" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! إنما احتجَّ مُسلمٌ بحديث شُعْبة عن قَتَادة، بهذا الإسناد:"صومُ يومِ عَرَفةَ يُكفِّر السنةَ وما قَبْلَها" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4179 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن کے روزے کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر (وحی کا نزول) شروع ہوا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، امام مسلم نے قتادہ سے شعبہ کی روایت کردہ حدیث میں اسی سند کے ساتھ یہ الفاظ روایت کیے ہیں: عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ ایک سال اور اگلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4224]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4224 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء - وهو الخَفَّاف - فهما صدوقان لا بأس بهما، وقد توبعا. سعيد: هو ابن أبي عَروبة، وقَتَادة: هو ابن دِعامة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن ابی طالب اور عبد الوہاب بن عطاء (الخفاف) دونوں "صدوق" اور "لا بأس بہما" ہیں اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ سعید سے مراد ابن ابی عروبہ اور قتادہ سے مراد ابن دعامہ سدوسی ہیں۔
وأخرجه أحمد 37/ (22541)، وابن حبان (3642) من طريقين عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 37/ (22541) اور ابن حبان (3642) نے سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 37/ (22537) و (22550)، ومسلم (1162)، والنسائي (2790) من طرق عن غيلان بن جَرير، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد، مسلم اور نسائی نے غیلان بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
(3) هو قطعة من الحديث السابق عنده.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ مصنف کے ہاں پچھلی حدیث کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4224 in Urdu