المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. يوم ولادته صلى الله عليه وآله وسلم يوم الاثنين
رسول اللہ ﷺ کی ولادت پیر کے دن ہوئی
حدیث نمبر: 4224
أخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك ببغداد والحسن بن يعقوب العَدْل بنَيسابُور، قالا: حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن غَيلان بن جَرير، عن عبد الله بن مَعْبَد الزِّمّاني، عن أبي قَتَادة الأنصاري: أنَّ أعرابيًّا سأل النبيَّ ﷺ عن صوم يوم الاثنين، قال:"ذاك اليومُ الذي وُلِدتُ فيه، وأُنزل عليَّ فيه" (2) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! إنما احتجَّ مُسلمٌ بحديث شُعْبة عن قَتَادة، بهذا الإسناد:"صومُ يومِ عَرَفةَ يُكفِّر السنةَ وما قَبْلَها" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4179 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4179 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: بے شک یہ وہ دن ہے کہ اس میں میری ولادت ہوئی ہے اور اسی دن مجھ پر وحی آئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سند کے ہمراہ شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کے واسطے قتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال اور اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4224]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4224 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء - وهو الخَفَّاف - فهما صدوقان لا بأس بهما، وقد توبعا. سعيد: هو ابن أبي عَروبة، وقَتَادة: هو ابن دِعامة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن ابی طالب اور عبد الوہاب بن عطاء (الخفاف) دونوں "صدوق" اور "لا بأس بہما" ہیں اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ سعید سے مراد ابن ابی عروبہ اور قتادہ سے مراد ابن دعامہ سدوسی ہیں۔
وأخرجه أحمد 37/ (22541)، وابن حبان (3642) من طريقين عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 37/ (22541) اور ابن حبان (3642) نے سعید بن ابی عروبہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 37/ (22537) و (22550)، ومسلم (1162)، والنسائي (2790) من طرق عن غيلان بن جَرير، به. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح احمد، مسلم اور نسائی نے غیلان بن جریر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
(3) هو قطعة من الحديث السابق عنده.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ مصنف کے ہاں پچھلی حدیث کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔