المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. سلام الأشجار والجبال عليه صلى الله عليه وآله وسلم
درختوں اور پہاڑوں کا نبی کریم ﷺ کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 4285
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرّة، عن عبد الله بن سَلِمة، عن علي، قال: مَرِضتُ فأتى عليَّ النبيُّ ﷺ وأنا أقولُ: اللهم إن كان أجَلِي قد حَضَرَ فأرِحْني، وإن كان مُتأخِّرًا فارفَعْني، وإن كان البلاءُ فصَبِّرني، فقال:"ما قلتَ؟" فأعَدْتُ، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم اشفِهِ اللهم عافِهِ" ثم قال:"قُمْ"، فقمتُ، فما عادَ لي ذلك الوجَعُ بعدُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4239 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4239 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بیمار ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں اس وقت یوں دعا مانگ رہا تھا: اے اللہ! اگر تو میری موت کا وقت آ گیا ہے تو مجھے لے چل اور اگر ابھی موت دور ہے تو مجھے صحت دے دے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہے تو مجھے صبر عطا فرما۔ آپ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ میں نے وہی الفاظ دوبارہ دہرائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو شفا دے دے، اے اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے دے۔ پھر آپ نے کہا: اٹھو۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے بعد دوبارہ مجھے بیماری نہیں آئی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4285]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4285 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل عبد الله بن سَلِمة - وهو المُرادي - وصحَّحه الترمذي وابن حبان وابن حجر في "نتائج الأفكار" 4/ 191.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ سند ان شاء اللہ حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ عبداللہ بن سلمہ (جو المرادی ہیں) کی وجہ سے حسن ہے۔ اسے ترمذی، ابن حبان اور ابن حجر نے "نتائج الافکار" (4/ 191) میں صحیح قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (637) و (638) و (841) و (1057)، والترمذي (3564)، والنسائي (10830)، وابن حبان (6940) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (2/ 637، 638، 841، 1057)، ترمذی (3564)، نسائی (10830) اور ابن حبان (6940) نے شعبہ کے واسطے سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے۔"