🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. هجرة عثمان مع رقية رضي الله عنهما إلى الحبشة
حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4295
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا الهيثَم بن خالد، حدثنا أبو غسان النَّهْدي، حدثنا الأجلح بن عبد الله، عن الشَّعْبي، عن جابر بن عبد الله، قال: لما قَدِمَ جعفرُ بن أبي طالب مِن أرضِ الحَبَشة، قال رسول الله ﷺ:"ما أدري بأيِّهما أنا أفرَحُ: بفتحِ خَيْبر، أم بقُدُومِ جعفر" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4249 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں فتح خیبر کی خوشی مناؤں یا جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4295]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4295 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح أنه عن الشَّعْبي - وهو عامر بن شَراحِيل - مرسلٌ كما سيأتي برقم (5006)، لكن روي ما يشهد له. الهيثم بن خالد: هو ابن يزيد ورّاق أبي نعيم، وأبو غسان النَّهْدي: هو مالك بن إسماعيل.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ شعبی (عامر بن شراحیل) سے مرسل ہے جیسا کہ آگے (رقم 5006) پر آئے گا، البتہ اس کے شواہد مروی ہیں۔ ہیثم بن خالد سے مراد "ابن یزید وراقِ ابی نعیم" ہیں اور ابو غسان النہدی سے مراد "مالک بن اسماعیل" ہیں۔
وسيأتي موصولًا كذلك برقم (5005) من طريق الحسن بن الحسين العُرَني عن الأجلح.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ روایت اسی طرح موصولاً (متصل سند کے ساتھ) آگے (رقم 5005) پر حسن بن الحسین العرنی عن الاجلح کے طریق سے آئے گی۔
ويشهد له حديث أبي جحيفة عند الطبراني في "الكبير" (1470) و 22/ (244) وفي "الأوسط" (2003) وفي "الصغير" (30)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے جو طبرانی کی "الکبیر" (1470 اور 22/ 244)، "الاوسط" (2003) اور "الصغیر" (30) میں موجود ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔