المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ذكر عمر فضائل أبى بكر رضي الله عنهما
حضرت عمرؓ کا حضرت ابو بکرؓ کی بعض فضیلتوں کا ذکر کرنا
حدیث نمبر: 4314
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن الحسن بن عبّاد، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا السَّرِيُّ بن يحيى، حدثنا محمد بن سيرين، قال: ذُكِرَ رجالٌ على عهد عمر، فكأنهم فَضَّلُوا عمر على أبي بكر، قال: فبلغ ذلك عمر، فقال: والله ليلةٌ من أبي بكر خيرٌ من آلِ عُمر، وليوم من أبي بكر خير من آل عمر، لقد خرج رسول الله ﷺ لينطلق إلى الغار ومعه أبو بكر، فجعل يمشي ساعة بين يديه، وساعة خلْفَه، حتى فَطِن له رسول الله ﷺ، فقال:"يا أبا بكر، ما لك تمشي ساعة بين يدي، وساعةً خَلْفي؟" فقال: يا رسول الله، أذكر الطلب فأمشي خلفك، ثم أذكر الرَّصد، فأمشي بين يديك، فقال:"يا أبا بكر، لو كان شيء، أحببت أن يكون بك دوني؟" قال: نعم والذي بعثك بالحقِّ، ما كانت لتكونَ من مُلِمَّةٍ إِلّا أن تكون بي دونَك (1) ، فلما انتهيا إلى الغارِ قال أبو بكر: مكانك يا رسول الله، حتى أستبرئ لك الغار، فدخل واستبرأه، حتى إذا كان في أعلاه ذكر أنه لم يستبرئ الجِحَرةَ، فقال: مكانك يا رسول الله، حتى أستبرئ الجِحَرةَ، فدخل واستبرأ، ثمّ قال: انزِلْ يا رسول الله، فنزل، فقال عمر: والذي نفسي بيده لتلك الليلةُ خيرٌ من آل عُمر (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين لولا إرسال فيه، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4268 - صحيح مرسل
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين لولا إرسال فيه، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4268 - صحيح مرسل
سیدنا محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کچھ لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینا شروع کر دی۔ اس بات کی خبر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک بھی پہنچ گئی۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صرف ایک رات، عمر کی تمام زندگی سے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا صرف ایک دن، عمر کی پوری زندگی سے افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار کی جانب روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے اور کبھی پیچھے چلتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھانپ لیا۔ اور فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کبھی آگے چلتے ہو اور کبھی پیچھے چلتے ہو؟ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجھے خیال آتا ہے کہ میں آپ کا طالب ہوں تو آپ کے پیچھے چلتا ہوں اور جب راستہ کی ناہمواری کے بارے میں سوچتا ہوں تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! اگر میں کسی چیز کے بارے میں چاہوں کہ وہ صرف تجھے ملے، مجھے نہ ملے (تو وہ کیا ہو سکتی ہے؟) عرض کی: جی ہاں۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کوئی بھی حادثہ یا سخت تکلیف اگر آئے تو میں چاہوں گا کہ وہ صرف مجھ تک محدود رہے اور وہ آپ تک نہ پہنچے۔ جب یہ دونوں غار تک پہنچ گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ باہر ہی ٹھہرئیے۔ پہلے میں غار کی صفائی کر لوں۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غار کے اندر جا کر اس کو صاف کیا اور باہر نکل آئے۔ پھر ان کو یاد آیا کہ غار میں ایک سوراخ باقی رہ گیا ہے۔ تو عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ یہیں ٹھہرئیے۔ میں اس سوراخ کو بھی بند کر لوں۔ پھر انہوں نے اندر جا کر اس کو بند کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئیے، تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ” ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وہ رات، عمر رضی اللہ عنہ کی ساری زندگی (کی تمام نیکیوں) سے افضل ہے۔ ٭٭ اگر اس حدیث میں ارسال نہ ہو تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4314]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4314 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: بك دوني، وهو خطأ، وجاء على الصواب في رواية البيهقي في "الدلائل" 2/ 476 عن أبي عبد الله الحاكم.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ لفظ "بک دونی" لکھا ہے جو کہ غلط ہے، درست عبارت وہ ہے جو بیہقی کی "الدلائل" (2/ 476) میں ابو عبداللہ الحاکم کی روایت سے آئی ہے۔
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسل، لأنَّ محمد بن سيرين لم يُدرك عمر بن الخطاب. وقد رُوي هذا الخبر من وجوه أخرى.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ روایت حسن لغیرہ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے رجال "ثقہ" ہیں لیکن یہ مرسل ہے، کیونکہ محمد بن سیرین نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ البتہ یہ خبر دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 476 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (2/ 476) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن بطة في "الإبانة" 9/ 531 و 834 من طريق أحمد بن عبد الله بن يونس، عن السري بن يحيى، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن بطہ نے "الابانۃ" (9/ 531 اور 834) میں احمد بن عبداللہ بن یونس عن السری بن یحییٰ کے طریق سے (اسی سند کے ساتھ) روایت کیا ہے۔
ويشهد له مرسل عبد الله بن أبي مُلَيكة عند أحمد في "فضائل الصحابة" (22)، والأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 25، والفاكهي في "أخبار مكة" (2410)، واللالكائي في "شرح أصول الاعتقاد" (2425)، وابن عساكر في تاريخ دمشق 30/ 81. ورجاله ثقات. ورُوي نحو هذه القصة أيضًا من حديث عمر بن الخطاب موصولًا عند أبي بكر الدينوري في "المجالسة" (2238)، وأبي الليث السمرقندي في "تفسيره" 2/ 58 - 59، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2426)، والبيهقي في "الدلائل" 2/ 476 - 477، وابن عساكر 30/ 79 - 80. وأورده الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 672، وقال: هو منكر، وآفته من عبد الرحمن بن إبراهيم الراسبي، فإنه ليس بثقة مع كونه مجهولًا. قلنا: وفيه أيضًا فُرات بن السائب، وهو متروك الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: عبداللہ بن ابی ملیکہ کی "مرسل" روایت اس کی تائید (شاہد) کرتی ہے جو امام احمد کی "فضائل الصحابہ" (22)، ازرقی کی "اخبار مکہ" (2/ 25)، فاکہی کی "اخبار مکہ" (2410)، لالکائی کی "شرح اصول الاعتقاد" (2425) اور ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (30/ 81) میں موجود ہے۔ اور اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اسی قصے کی مثل حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے "موصولاً" (متصل سند کے ساتھ) بھی مروی ہے، جسے ابوبکر الدینوری نے "المجالسہ" (2238)، ابواللیث السمرقندی نے "التفسیر" (2/ 58-59)، لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (2426)، بیہقی نے "الدلائل" (2/ 476-477) اور ابن عساکر (30/ 79-80) نے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اسے امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 672) میں ذکر کیا اور فرمایا: "یہ منکر ہے، اور اس کی آفت (علت) عبدالرحمٰن بن ابراہیم الراسبی ہے، کیونکہ وہ مجہول ہونے کے ساتھ ساتھ ثقہ بھی نہیں ہے۔" 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: اس سند میں "فرات بن السائب" بھی ہے اور وہ "متروک الحدیث" ہے۔
ورويت قصة تفتيش أبي بكر الصديق الغاز قبل دخول رسول الله ﷺ فيه من وجوه متعددة فيها مقال كلها، انظرها في "الشريعة" للآجري (1275 - 1277)، وأقوى منها مرسلا ابن سيرين وابن أبي مليكة.
🧾 تفصیلِ روایت: رسول اللہ ﷺ کے داخل ہونے سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا غار کو ٹٹولنا (صاف کرنا) متعدد سندوں سے مروی ہے، لیکن ان سب میں "کلام" (مقال/ضعف) ہے۔ انہیں آجری کی کتاب "الشریعہ" (1275-1277) میں دیکھیں۔ 📌 اہم نکتہ: ان سب میں سب سے قوی روایات ابن سیرین اور ابن ابی ملیکہ کی "مرسل" روایات ہیں۔
والمُلمّة: النازلة الشديدة من نوازل الدهر.
📝 نوٹ / توضیح: "المُلمّۃ" کا معنی ہے: زمانے کی مصیبتوں میں سے کوئی سخت مصیبت (آفت)۔
والجِحَرَة: جمع جُحر، وهو كل شيء يحتفره الهوام والسِّباع لأنفسها.
📝 نوٹ / توضیح: "الجِحَرَۃ": یہ جُحر (بل) کی جمع ہے، اور یہ ہر وہ سوراخ ہے جسے کیڑے مکوڑے اور درندے اپنے لیے کھودتے ہیں۔
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: اليمني، وانظر ترجمته في "طبقات المحدثين بأصبهان" لأبي الشيخ 3/ 390 الترجمة (423).
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الیمنی" ہوگیا ہے۔ اس کا ترجمہ (حالاتِ زندگی) ابوالشیخ کی "طبقات المحدثین باصبہان" (3/ 390، ترجمہ نمبر 423) میں دیکھیں۔