المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. هجرة أبى بكر إلى المدينة مع جميع أمواله
حضرت ابو بکرؓ کا اپنا سارا مال لے کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا
حدیث نمبر: 4313
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزبير [عن أبيه] (1) عن أسماء بنت أبي بكر، قالت: لما توجه رسول الله ﷺ من مكة إلى المدينة ومعه أبو بكر، حَمَل أبو بكر معه جميع ماله خمسة آلافٍ أو ستة آلاف درهم، فأتاني جَدّي أبو قحافة وقد ذهب بصره، فقال: إنَّ هذا والله قد فَجَعَكم بماله مع نفسه، فقلتُ: كلا يا أبتِ، قد تَرَكَ لنا خيرًا كثيرًا، فَعَمَدتُ إلى أحجارٍ فَجَعَلتُهن في كُوّة البيت، وكان أبو بكر يَجعَلُ أمواله فيها، وغَطّيت على الأحجار بثوب، ثم جئتُ فأخذت بيده فوضعتها على الثَّوب، فقال: أما إذا ترك هذا فنَعَمْ، قالت: ووالله ما ترك لنا قليلًا ولا كثيرًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4267 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4267 - على شرط مسلم
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کا سفر اختیار کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال جو کہ پانچ یا چھ ہزار دراہم تھے، اپنے ساتھ لے گئے، بعد میں میرے دادا ابوقحافہ میرے پاس آئے، یہ ان دنوں نابینا ہو چکے تھے، یہ بولے: اس نے تو اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے مال کے ذریعے بھی تمہیں مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ میں نے کہا: ہرگز نہیں۔ ابا جان! وہ تو ہمارے لیے بہت سارا مال چھوڑ کر گئے ہیں۔ تو میں نے کچھ پتھر کمرے کے ایک کونے میں جمع کر کے ان کے اوپر کپڑا ڈال کر ان کو ڈھانپ دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اپنا مال اسی طرح رکھا کرتے تھے پھر میں نے ان (ابوقحافہ) کا ہاتھ پکڑ کر اس کپڑے پر لگایا تو وہ بولے: اگر وہ اتنا مال چھوڑ کر گیا ہے تب تو ٹھیک ہے۔ حالانکہ خدا کی قسم انہوں نے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی مال نہیں چھوڑا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4313]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4313 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، واستدركناه من رواية أبي طاهر المخلّص عند ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 13 حيث رواه من طريق أحمد بن عبد الجبار، وهو ثابت أيضًا في سائر الروايات عن ابن إسحاق، على أنه لا يُعرف ليحيى رواية عن جدة أبيه أسماء.
📝 نوٹ / توضیح: (1) بریکٹ میں دی گئی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (69/ 13) میں موجود ابو طاہر المخلص کی روایت سے مکمل (استدراک) کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے احمد بن عبدالجبار کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ ابن اسحاق سے مروی دیگر روایات میں بھی ثابت ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ یحییٰ کی اپنے والد کی دادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت معروف نہیں ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار صاحب "السيرة". وقد صرّح بسماعه عند أحمد.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ سند ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار، صاحبِ سیرت) کی وجہ سے حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اور انہوں نے مسند احمد میں اپنے "سماع" کی صراحت کر دی ہے (لہٰذا تدلیس کا شبہ نہیں رہا)۔
وأخرجه أحمد 44 / (26957) عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد عن أبيه، عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (44/ 26957) نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد عن أبیہ عن ابن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔