المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. من صلى فى قباء كان كعدل عمرة
مسجدِ قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے
حدیث نمبر: 4326
أخبرنا أحمد بن محمد العنزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا علي بن عبد الله المديني، حدثنا حماد بن أسامة، حدثنا هاشم بن هاشم، قال: سمعتُ عامر بن سعد وعائشة بنت سعد، يقولان: سمعنا سعدًا يقول: لأن أصلّي في مسجد قباءٍ أحبُّ إليَّ من أن أُصلِّيَ في مَسجدِ بيتِ المَقدِس (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4280 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4280 - على شرط البخاري ومسلم
عامر بن سعد اور عائشہ بنت سعد بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا سعد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کے مقابلے میں، مسجد قبا میں نماز ادا کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4326]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4326 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح موقوف.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے اور یہ روایت موقوف ہے۔
وأخرجه البيهقي 5/ 249 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (5/ 249) نے ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شَيْبة 2/ 373 عن أبي خالد الأحمر، عن هاشم بن هاشم، عن عائشة بنت سعد وحدها، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (2/ 373) نے ابو خالد الاحمر عن ہاشم بن ہاشم عن عائشہ بنت سعد (تنہا) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه عمر بن شبة في "أخبار المدينة" 1/ 42 من طريق صخر بن جويرية، عن عائشة بنت سعد، عن أبيها، قال: لأن أُصلّي في مسجد قباء ركعتين أحبُّ إليَّ من أن آتي بيت المقدس مرتين، لو يعلمون ما في قباءٍ لضربوا إليه أكباد الإبل. وصحح إسناده الحافظ في "فتح الباري" 4/ 432.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عمر بن شبہ نے "اخبار المدینہ" (1/ 42) میں صخر بن جویریہ عن عائشہ بنت سعد عن ابیہا (حضرت سعد) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: "مسجد قبا میں دو رکعتیں پڑھنا مجھے بیت المقدس دو بار جانے سے زیادہ پسند ہے۔ اگر لوگ جانتے کہ قبا میں کیا (فضیلت) ہے تو وہ اونٹوں کے کلیجے مارتے (یعنی لمبا سفر کرکے) وہاں آتے۔" ⚖️ درجۂ حدیث: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (4/ 432) میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔