🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. مؤاخاة رسول الله بين أصحابه
رسول اللہ ﷺ کا اپنے صحابہؓ کے درمیان مؤاخات قائم کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4335
حدَّثَناهُ أبو سهل أحمد بن محمد بن زياد النحوي ببغداد، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا إسحاق بن بشر الكاهلي، حدثنا محمد بن فُضيل، عن سالم بن أبي حفصة، عن جُميع بن عُمير التّيمي، عن ابن عمر، قال: إنَّ رسول الله ﷺ آخى بين أصحابه، فآخى بين أبي بكر وعمر، وبين طلحة والزبير، وبين عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف، فقال عليّ: يا رسول الله، إنك قد آخيت بين أصحابك، فمن أخي؟ قال رسول الله ﷺ:"أما ترضى يا عليُّ، أن أكون أخاك؟"، قال ابن عمر: وكان عليّ جَلْدًا شُجاعًا، فقال عليّ: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"أنتَ أخي في الدُّنيا والآخرة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4289 - جميع بن عمير أتهم وإسحاق بن بشر الكاهلي هالك
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے تمام صحابہ کو بھائی بھائی بنا دیا، میرا بھائی کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا بھائی میں ہوں؟ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ بہت طاقتور اور دلیر آدمی تھے۔) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دنیا اور آخرت میں میرا بھائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4335]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4335 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف من أجل إسحاق بن بشر الجاهلي - وهو ابن مقاتل - فهو هالك كما قال الذهبي في "تلخيصه"، قد كذَّبه غير واحد من أهل المعرفة كما في "الميزان" للذهبي، وقد أعله أيضًا في "تلخيصه" بجميع بن عُمير، وقال عنه بأنه اتُّهم، والتحقيق من خلال أقوال أهل العلم فيه أنه ضعيف فيه نظر، ولا ينزل إلى درجة من يُتّهم، والله أعلم. ويبقى الشأن هنا في إسحاق بن بشر الكاهلي، وقد روي هذا الحديث باللفظ المذكور من طرق عن جميع بن عُمير كلها ضعاف.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ سند اسحاق بن بشر الجاہلی (ابن مقاتل) کی وجہ سے تالف (تباہ شدہ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: وہ "ہالک" (انتہائی جھوٹا/متروک) ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں کہا ہے۔ اہلِ معرفت (محدثین) کی ایک جماعت نے اس کی تکذیب کی ہے جیسا کہ ذہبی کی "المیزان" میں ہے۔ ذہبی نے "التلخیص" میں جمیع بن عمیر کو بھی علت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ "متہم" ہے، لیکن اہلِ علم کے اقوال کی روشنی میں تحقیق یہ ہے کہ وہ "ضعیف" اور "فیہ نظر" ہے لیکن "متہم" کے درجے تک نہیں گرتا، واللہ اعلم۔ یہاں اصل مسئلہ اسحاق بن بشر الکاہلی کا ہے۔ یہ حدیث مذکورہ الفاظ کے ساتھ جمیع بن عمیر سے کئی اور طرق سے بھی مروی ہے لیکن وہ سب کے سب ضعیف ہیں۔