المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ذِكْرُ شَجَاعَةِ عَلِيٍّ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَسِمَاكِ بْنِ خَرَشَةَ فِي غَزْوَةِ أُحُدٍ
غزوۂ اُحد کا ذکر اور نبی کریم ﷺ کی دعا
حدیث نمبر: 4354
أخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثّقفي، حدثنا أبو هاشم زياد بن أيوب، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، حدثنا عبد الواحد بن أيمن المكي، عن عُبيد بن رفاعة بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه قال: لما كان يومُ أُحدٍ انكفأ المشركون، قال رسول الله ﷺ:"استووا حتى أُثني على ربّي ﷿"، فصاروا خلفه صفوفًا، قال:"اللهم لك الحمد كلَّه، اللهم لا قابضَ لما بَسطت، ولا باسِطَ لما قبضت ولا هادي لمن أضلَلْتَ، ولا مُضلَّ لمن هَدَيتَ، ولا معطي لما مَنعْتَ، ولا مانع لما أنطيت، ولا مقرب لما باعَدْتَ، ولا مُباعِدَ لما قربت، اللهم ابسُط علينا من بركاتِك ورحمتك وفضلك ورزقك، اللهم إني أسألك النعيم المقيم الذي لا يَحُول ولا يَزُول، اللهم إني أسألك الأمن يوم الخوف، اللهمَّ عائِذٌ من شَرَّ ما أعطيتنا وشرّ ما مَنعْتَنا، اللهم حبب إلينا الإيمان وزيّنه في قلوبنا، وكره إلينا الكفر والفسوق والعصيان، واجعلنا من الراشدين. اللهم توفَّنا مسلمين، وأحينا مُسلِمين، وألْحِقْنا بالصالحين، غيرَ خَزَايا ولا مَفتُونِين، اللهمَّ قاتِل الكفرة الذين يُكذِّبون رُسُلَك، ويَصُدُّون عن سبيلك، واجعل عليهم رِجْزَك وعذابك، إله الحقِّ، آمين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4308 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4308 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب غزوہ احد کا دن ہوا اور مشرکین (واپس) لوٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سب سیدھے (صف بستہ) ہو جاؤ تاکہ میں اپنے رب عزوجل کی ثناء و تعریف بیان کروں۔“ پس صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفوں میں کھڑے ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ عَاِئذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، إِلَهَ الْحَقِّ، آمِينَ» ”اے اللہ! تمام تعریفیں صرف تیرے ہی لیے ہیں، اے اللہ! جس چیز کو تو پھیلا دے اسے کوئی سمیٹنے والا نہیں اور جسے تو سمیٹ لے اسے کوئی پھیلانے والا نہیں، جسے تو گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور جسے تو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، جو تو روک لے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور جو تو عطا فرما دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، جسے تو دور کر دے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں اور جسے تو قریب کر دے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اے اللہ! ہم پر اپنی برکات، اپنی رحمت، اپنا فضل اور اپنا رزق کشادہ فرما دے، اے اللہ! میں تجھ سے ایسی دائمی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی بدلیں نہ کبھی ختم ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے خوف کے دن امن و سلامتی کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو تو نے ہمیں عطا فرمایا اس کے شر سے اور جو تو نے ہم سے روک لیا اس کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ایمان کو ہماری نظروں میں محبوب بنا دے اور اسے ہمارے دلوں میں مزین فرما دے، اور کفر، گناہ اور نافرمانی کو ہماری نظروں میں ناپسندیدہ بنا دے اور ہمیں راہِ راست پر چلنے والوں میں شامل فرما۔ اے اللہ! ہمیں اسلام کی حالت میں موت عطا فرما اور ہمیں اسلام کی حالت میں زندہ رکھ، اور ہمیں رسوائی اور فتنے میں مبتلا کیے بغیر نیکوکاروں کے ساتھ ملا دے، اے اللہ! ان کافروں کو نیست و نابود فرما جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے سے روکتے ہیں، اور ان پر اپنا عذاب اور سختی نازل فرما، اے سچے معبود! (میری یہ دعا) قبول فرما۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4354]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح كما تقدم بيانه برقم (1889).» [ترقيم الرساله 4354] [ترقيم الشركة 4331] [ترقيم العلميه 4308]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4354 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح كما تقدم بيانه برقم (1889).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے جیسا کہ پہلے (رقم 1889) پر بیان ہو چکا ہے۔
وأخرجه النسائي (10370) عن زياد بن أيوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (10370) نے زیاد بن ایوب کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15492) عن مروان بن معاوية، عن عبد الواحد، عن عبيد الله بن عبد الله الزُّرَقي، عن أبيه. وقال الفزاري مرة: عن ابن رفاعة الزُّرَقي، عن أبيه، وقال غير الفزاري: عُبيد بن رفاعة الزُّرَقي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15492) نے مروان بن معاویہ عن عبدالواحد عن عبیداللہ بن عبداللہ الزرقی عن ابیہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: فزاری نے ایک بار کہا: "عن ابن رفاعہ الزرقی عن ابیہ"، اور فزاری کے علاوہ نے کہا: "عبید بن رفاعہ الزرقی"۔
قلنا: كذلك سماه الفزاري أيضًا في رواية علي بن المديني وزياد بن أيوب وغيرهما عنه، وكذلك سماه خلاد بن يحيى في روايته عن عبد الواحد بن أيمن كما تقدم عند المصنف برقم (1889). وأخرجه النسائي (10371) من طريق أبي نعيم الفضل بن دُكين، عن عبد الواحد بن أيمن، عن عبيد بن رفاعة الزرقي، مرسلًا. فسماه أيضًا عبيد بن رفاعة لكنه أرسله عنه.
📝 نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں: فزاری نے بھی علی بن المدینی اور زیاد بن ایوب وغیرہ کی روایت میں ان کا یہی نام لیا ہے، اور خلاد بن یحییٰ نے بھی عبدالواحد بن ایمن سے روایت میں یہی نام لیا ہے (دیکھیں رقم 1889)۔ نسائی (10371) نے اسے ابو نعیم الفضل بن دکین عن عبدالواحد بن ایمن عن عبید بن رفاعہ الزرقی سے مرسلًا روایت کیا ہے۔ انہوں نے بھی نام عبید بن رفاعہ لیا لیکن اسے مرسل کر دیا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4354 in Urdu