🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. قتل امرأة من بني قريظة
بنی قریظہ کی ایک عورت کا قتل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4381
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني محمد بن جعفر بن الزُّبير، عن عُرْوة بن الزبير، عن عائشة أنها قالت: ما قَتَلَ رسول الله ﷺ امرأةً من بني قُريظةَ إلَّا امرأةً واحدةً، والله إنها لَعِنْدي تَضحَكُ ظَهْرًا لِبَطنٍ (3) ، وإن رسول الله ﷺ لَيقتُلُ رجالَهم بالسُّيوف، إذ يقول هاتفٌ باسمِها: أين فُلانةُ؟ فقالت: أنا واللهِ، قلت: وَيلَكِ ما لكِ؟ فقالت: أُقتَلُ والله، فقلتُ: ولِمَ؟ قالت: لحَدَثٍ أحدثْتُه، فانطُلِقَ بها فضُرِبَتْ عُنقُها، فما أَنسَى عَجَبًا منها طِيبةَ نفسِها وكثرةَ ضَحِكِها، وقد عَرَفَت أنها تُقتَلُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4334 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی کسی عورت کو قتل نہیں کیا۔ سوائے ایک عورت کے۔ خدا کی قسم! وہ بہت زیادہ ہنس رہی تھی اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے کہ ایک غیبی آواز نے اس کا نام لے کر پکارا: فلانہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: میں ہوں خدا کی قسم! میں نے کہا: تیرے لئے ہلاکت ہو۔ تجھے کیا ہوا ہے؟ (تو نے اپنے آپ کو خود ہی ظاہر کیوں کر دیا؟) اس نے کہا: مجھے قتل کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: ایک نئے کام کی وجہ سے جو میں نے سرانجام دیا ہے۔ پھر اس کو لے جا کر قتل کر دیا گیا۔ میں آج تک اس تعجب کی وجہ سے اس کو بھلا نہیں سکی کہ باوجود یہ کہ وہ جانتی تھی کہ اس کو قتل کر دیا جائے گا پھر بھی وہ بہت خوش تھی اور خوب ہنس رہی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4381]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4381 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) أي: تتقلّب من شدة الضحك.
📝 نوٹ / توضیح: (استغربت ضحکاً کا معنی ہے): وہ ہنسی کی شدت سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔
(1) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) کی وجہ سے۔
وأخرجه أحمد 43 / (26364) من طريق إبراهيم بن سعد الزُّهْري، وأبو داود (2671) من طريق محمد بن سلمة الحَرَّاني، كلاهما عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (43/ 26364) نے ابراہیم بن سعد الزہری کے طریق سے، اور ابو داؤد (2671) نے محمد بن سلمہ الحرانی کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وقد فسَّر ابن هشام في "السيرة النبوية" 2/ 242 قول المرأة اليهودية لحدثٍ أحدثتُه، قال: هي التي طَرَحَت الرَّحى على خلّاد بن سويد، فقتلتْه.
📝 نوٹ / توضیح: ابن ہشام نے "السیرۃ النبویۃ" (2/ 242) میں اس یہودی عورت کے قول "لِحَدَثٍ اَحدَثتُہُ" (ایک جرم کی وجہ سے جو میں نے کیا) کی تفسیر بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: "یہ وہ عورت ہے جس نے خلاد بن سوید ؓ پر چکی کا پاٹ گرایا تھا، جس سے وہ شہید ہو گئے تھے۔"
وقال الخطابي في "معالم السنن" 2/ 281: يقال: إنها كانت شتمت النبي ﷺ، وفي ذلك دلالة على وجوب قتل من فعل ذلك.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: خطابی "معالم السنن" (2/ 281) میں فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس عورت نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی تھی۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص ایسا کرے (نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے) اس کا قتل کرنا واجب ہے۔