🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. خلاص أسارى المسلمين بمعاوضة امرأة جميلة من الكفار
کافروں کی ایک خوبصورت عورت کے بدلے مسلمانوں کے قیدیوں کی رہائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4382
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدَّثنا أبو الوليد، حدَّثنا عِكْرمة بن عمّار. وحدثنا محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي - واللفظ له - حدَّثنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو عامر، حدَّثنا عِكْرمة بن عمّار، عن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، قال: أمَّر رسول الله ﷺ أبا بكر فغَزَونا ناسًا من بني فَزَارة، فلما دَنَونا من الماء أمَرَنا أبو بكر فَعَرَّسْنا، فلما صلَّينا الصبحَ أمرنا أبو بكر فشَنَنّا الغارَةَ، قال: فورَدْنا الماءَ فقتَلْنا به مَن قَتلْنا، قال: فانصرف عُنُقٌ من الناس، وفيهم الذَّراريُّ والنساء قد كادُوا يَسبِقُون إلى الجبل، فطرَحْنا سهمًا بينهم وبين الجبل، فلما رأَوا السهمَ وقَفُوا، فجئتُ بهم أسُوقهم إلى أبي بكر، وفيهم امرأةٌ من بني فَزَارة عليها قَشْعٌ من أَدَمٍ معها ابنةٌ لها من أحسنِ العرَبِ، قال: فنفَّلَني أبو بكر ابنتَها، قال: فقدِمْتُ المدينةَ، فلقِيَني رسولُ الله ﷺ بالسُّوق، فقال لي:"يا سلمةُ، لله أبوكَ هَبْ لي المرأةَ" فقلت: والله يا رسول الله ما كشفتُ لها ثَوبًا، وهى لكَ يا رسولَ الله، فبعثَ بها رسولُ الله ﷺ إلى مكةَ، ففادَى بها أُسارى من المسلمين كانوا في أيدي المُشركين (1) . قد أخرجه مسلم بغير هذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4335 - خرجه مسلم بفظ آخر
سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر فرما دیا۔ ہم نے بنی فزارہ کے چند لوگوں کے ساتھ جہاد کیا، جب ہم ان کے قریب پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہم نے وہیں پڑاؤ ڈالا، اور نماز فجر پڑھنے کے بعد ہم نے چاروں جانب سے ان پر حملہ کر دیا۔ پھر پانی پر آ ٹھہرے اور جتنے لوگوں کو قتل کیا، کر دیا۔ کچھ لوگ وہاں سے پہاڑ کی جانب نکل گئے۔ ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ ہم نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر برسائے، جب انہوں نے تیر دیکھے تو وہیں رک گئے پھر میں ان کے پاس گیا اور ان سب کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، ان میں بنی فزارہ کی ایک خاتون بھی تھی۔ اس پر چمڑے کی پرانی پوستین تھی، اس کے ہمراہ اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ جو کہ عرب کی حسین ترین لڑکی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی مجھے دے دی، پھر میں مدینہ میں آ گیا۔ بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوسلمہ! اللہ آپ پر رحم فرمائے، یہ عورت مجھے تحفہ دے دو، میں نے کہا: خدا کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس کا کوئی کپڑا نہیں اتارا، میں نے یہ آپ کو دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مکہ میں بھیج دیا تو مشرکین کی قید میں جو مسلمان تھے اس کو ان کے بدلے میں دے دیا۔ ٭٭ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ہے لیکن یہ سند بیان نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4382]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4382 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناد صحيح. أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وأبو عامر: هو عبد الملك بن عمرو العَقَدي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / تعیینِ راوی: "ابو الولید" سے مراد ہشام بن عبدالملک الطیالسی ہیں، اور "ابو عامر" سے مراد عبدالملک بن عمرو العقدی ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (4860) عن الفضل بن الحباب، عن أبي الوليد الطيالسي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (4860) نے فضل بن الحباب سے، انہوں نے ابو الولید الطیالسی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16502) و (16505)، ومسلم (1755)، وأبو داود (2697)، وابن ماجه (2846)، والنسائي (8612) من طرق عن عكرمة بن عمار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (27/ 16502 اور 16505)، مسلم (1755)، ابو داؤد (2697)، ابن ماجہ (2846) اور نسائی (8612) نے عکرمہ بن عمار سے مختلف طرق کے ساتھ اسی طرح روایت کیا ہے۔
وانظر ما تقدم برقم (2548).
📝 نوٹ / توضیح: اس حوالے سے وہ روایت بھی ملاحظہ کریں جو نمبر (2548) پر گزر چکی ہے۔
التعريس: نزول المسافر آخر الليل نزلة النوم والاستراحة.
📝 نوٹ / توضیح: "التعریس": مسافر کا رات کے آخری پہر سونے اور آرام کرنے کے لیے پڑاؤ ڈالنا (اترنا)۔
وقوله: عُنق من الناس، أي: طائفة منهم.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "عُنق من الناس": یعنی لوگوں کی ایک جماعت (گروہ)۔
والقَشْع: الفَرْو الخَلَقُ.
📝 نوٹ / توضیح: "القَشْع": پرانی کھال یا پوستین۔
والأدم: بفتح الهمزة والدال أو بضمهما، جمع الأديم، وهو الجلد المدبوغ.
📝 نوٹ / توضیح: "الأدَم": (ہمزہ اور دال کے فتحہ/ زبر کے ساتھ، یا دونوں کے ضمہ/ پیش کے ساتھ)، یہ "ادیم" کی جمع ہے، اور اس سے مراد "دباغت دیا ہوا چمڑا" ہے۔
والتنقيل: هو الزيادة على سهام الغنيمة، ويكون من خُمس الخمس، يُعطيها الإمام أو من ينوبُ عنه لمن أبلى بلاءً حسنًا وسعى سعيًا حميدًا.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "التنقیل": (نفل دینا) اس سے مراد غنیمت کے عام حصوں سے ہٹ کر اضافی مال دینا ہے۔ یہ "خمس کے خمس" میں سے ہوتا ہے، جسے امام یا اس کا نائب اس شخص کو دیتا ہے جس نے جنگ میں بہترین کارکردگی دکھائی ہو اور قابلِ ستائش کوشش کی ہو۔