المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. شهادة جعفر وحزن النبى صلى الله عليه وآله وسلم عليه
حضرت جعفرؓ کی شہادت اور نبی کریم ﷺ کا ان پر غمگین ہونا
حدیث نمبر: 4397
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: حدَّثنا عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عائشة، قالت: لما أتاهُ وفاةُ جعفرٍ عَرفْنا في رسول الله ﷺ الحُزن، فدخل عليه داخِلٌ فقال: يا رسول الله، إنَّ النساء قد فَتَنَّنا أو غَلَبْنَنا، قال:"فارجِعْ إليهنَّ فَأَسكِتْهُنَّ" فذهبَ ثم رجع إليه، فردَّه ثلاثَ مراتٍ، قال:"فارجِعْ إليهنَّ، فإِن أَبَينَ فَاحْثُ فِي وُجُوهِهِنَّ الترابَ" قالت عائشة: فقلتُ في نفسي للرجُلِ: أَبعَدَكَ اللهُ، إني لأعلمُ ما أنت بمطيعٍ لرسولِ الله ﷺ، وما تركتَ نفسَك حين عرفتَ أنك لا تستطيع أن تَحثِيَ في أفواهِهِنَّ الترابَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4349 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4349 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت (کی خبر) پہنچی تو آپ کے چہرے پر رنج کے آثار نمایاں تھے۔ آپ کے پاس کوئی آنے والا آیا اور بولا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتیں تو ہمارے لئے آزمائش بن چکی ہیں۔ یا (شاید کہا کہ) ہم پر غالب ہو چکی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: جا کر ان کو چپ کراؤ۔ وہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوبارہ (سہ بارہ) آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تین مرتبہ ہی واپس بھیج دیا اور (بالآخر) فرمایا: اگر وہ نہ مانیں تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنے دل میں اس آدمی سے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے دور کرے۔ میں جانتی ہوں کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل نہیں کر سکے گا اور تو نے اپنے آپ کو نہ چھوڑا حتی کہ میں جان گئی کہ تو ان کے منہ میں مٹی ڈالنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4397]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4397 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار وهو متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) ہیں، اور ان کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26363) من طريق إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (43/ 26363) نے ابراہیم بن سعد کے طریق سے، محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 40 / (24313)، والبخاري (1305) و (4263)، ومسلم (935)، وأبو داود (3122)، والنسائي (1986)، وابن حبان (3147) و (3155) من طريق عمرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24313)، بخاری (1305، 4263)، مسلم (935)، ابو داؤد (3122)، نسائی (1986) اور ابن حبان (3147، 3155) نے اسی مفہوم کے ساتھ عمرہ بنت عبدالرحمن کے طریق سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف ذكر حزنه ﷺ على جعفر مفردًا برقم (5000) من طريق يحيى بن محمد بن عباد الشجري عن ابن إسحاق.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کے ہاں حضرت جعفر ؓ پر نبی کریم ﷺ کے غم کا الگ سے ذکر عنقریب نمبر (5000) پر یحییٰ بن محمد بن عباد الشجری عن ابن اسحاق کے طریق سے آئے گا۔
وسيأتي برقم (5017) من طريق عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة ذكرُ حزنه ﷺ على القادة الثلاثة في غزوة مؤتة.
📝 نوٹ / توضیح: اور غزوہ موتہ کے تینوں سالاروں پر آپ ﷺ کے غم کا ذکر نمبر (5017) پر عمرہ بنت عبدالرحمن عن عائشہ کے طریق سے آئے گا۔
(2) يعني من طريق القاسم، وإلّا فقد أخرجاه من طريق عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة كما تقدَّم.
📝 نوٹ / توضیح: (مصنف کی) مراد یہ ہے کہ (شیخین نے اسے) "قاسم" کے طریق سے (نہیں نکالا)، ورنہ انہوں نے اسے عمرہ بنت عبدالرحمن عن عائشہ کے طریق سے نکالا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔