المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. استنشاده - صلى الله عليه وآله وسلم - فى مدح الصديق
نبی کریم ﷺ کا حضرت صدیقؓ کی مدح میں اشعار پڑھنا
حدیث نمبر: 4461
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن إبراهيم، حدثنا عمرو بن زياد، حدثنا غالب بن عبد الله القَرْقَساني، عن أبيه، عن جده حَبيب بن حَبيبِ، قال: شهدت رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت:"قلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ" قال: قلت: وثانيَ اثنينِ في الغارِ المُنِيف وقد … طافَ العدوُّ به إذ صاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به بَدَلا فتبسَّم رسولُ الله ﷺ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4413 - عمرو بن زياد يضع الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4413 - عمرو بن زياد يضع الحديث
غالب بن عبداللہ القرفسانی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (کی شان) میں کچھ کہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: مجھے بھی سناؤ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ بلند پہاڑ کے غار میں دو میں سے دوسرے تھے، اور جب وہ پہاڑ پر چڑھ رہے تھے تو دشمن ان کا گھیراؤ کر رہا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی ان کا ہم پلہ نہیں ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4461]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4461 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالف، عمرو بن زياد - وهو الباهلي - يضع الحديث، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وغالبٌ المذكور مجهول وكذا أبوه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’تالف‘‘ (برباد / انتہائی خراب) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمرو بن زیاد (الباہلی) حدیث گھڑتا تھا (جیسا کہ ذہبی نے تلخیص میں کہا)۔ نیز مذکورہ راوی ’’غالب‘‘ مجہول ہے اور اسی طرح اس کا باپ بھی۔
وأخرجه الواحدي في "التفسير الوسيط" 2/ 497 عن عبد الرحمن بن محمد الوراق، عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے ’’التفسیر الوسیط‘‘ 2/ 497 میں عبدالرحمن بن محمد الوراق > ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيتكرر برقم (4511).
📝 نوٹ / توضیح: یہ عنقریب (نمبر 4511) پر دوبارہ آئے گی۔
وله شاهد من مرسل الزُّهْري عند ابن سعد 3/ 159، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 56، وابن عدي في "الكامل" 2/ 160، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2428)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 90 و 91. لكنه انفرد به عن الزُّهْري رجلٌ اسمُه أبو العَطُوف جرّاح بن مِنْهال الجزري، وهو متروك الحديث. وقد وصله بعضُ من أنُّهم بسرقة الحديث بذكر أنس بن مالك فيه عند ابن عدي 2/ 160 ومن طريقه ابن عساكر 30/ 91، وقال ابن عدي: هذا الحديث موصولُه ومرسلُه منكر، والبلاء فيه من أبي العَطُوف.
🧩 متابعات و شواہد: زہری کی مرسل روایت سے اس کا ایک شاہد (ابن سعد 3/ 159، بلاذری 10/ 56، ابن عدی 2/ 160، لالکائی 2428، ابن عساکر 30/ 90، 91 میں) موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن زہری سے اس کو بیان کرنے میں ایک آدمی منفرد ہے جس کا نام ’’ابو العطوف جراح بن منہال الجزری‘‘ ہے، اور وہ ’’متروک الحدیث‘‘ ہے۔ بعض راویوں نے جو حدیث چوری کرنے میں متہم ہیں، اس روایت میں انس بن مالک کا ذکر کر کے اسے متصل (موصول) کر دیا ہے (ابن عدی 2/ 160، ابن عساکر 30/ 91)۔ ابن عدی نے کہا: ’’یہ حدیث موصولاً اور مرسلاً دونوں طرح منکر ہے، اور اس میں ساری مصیبت ابو العطوف کی وجہ سے ہے۔‘‘