المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. استنشاده - صلى الله عليه وآله وسلم - فى مدح الصديق
نبی کریم ﷺ کا حضرت صدیقؓ کی مدح میں اشعار پڑھنا
حدیث نمبر: 4464
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة أخبرته: أنَّ أبا بكر حين حَضَرتْه الوفاةُ قال: في كم كفَّنتمُ النبيَّ ﷺ؟ فقلت: في ثلاثة أثواب بيضٍ يمانيةٍ جُدُدٍ ليس فيها قميصٌ ولا عِمامة، قال: اغسِلُوا ثوبي هذا - وفيه رَدْعُ زَعْفَرانٍ ومِشْقٍ - فاجعلُوه مع ثوبَين جديدَين، فقلت: إنه خَلَقٌ، فقال: الحيُّ أحقُّ بالجديد من الميت، إنه للمُهْل (1) .
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت آیا تو انہوں نے فرمایا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: تین یمنی سفید کپڑوں میں، جو بالکل نئے تھے۔ ان میں قمیص اور عمامہ شامل نہیں تھا، آپ نے فرمایا: میں نے جو کپڑا پہنا ہوا ہے، اس میں زعفران کی خوشبو کا اثر ہے۔ اس کو دھو کر دو نئے کپڑوں کے ساتھ ملا لینا۔ میں نے کہا: وہ تو پرانا ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا: مردوں کی بہ نسبت زندہ لوگ نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق ہیں۔ ٭٭ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4464]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4464 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قويّ من أجل عبد الرحمن بن صالح الأزدي، وقد توبع في الطريق السابقة.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عبدالرحمن بن صالح الازدی کی وجہ سے ’’قوی‘‘ ہے، اور پچھلے طریق میں ان کی متابعت کی گئی ہے۔
والمِشْق، بكسر الميم وسكون الشين، وزان حِمْل هو صبغ أحمر.
📝 نوٹ / توضیح: ’’المِشْق‘‘ (میم کے نیچے زیر اور شین ساکن، حِمْل کے وزن پر): یہ سرخ رنگ کی ایک ڈائی (رنگ) ہے۔
والمُهْل: الصديد والقيح.
📝 نوٹ / توضیح: ’’المُہْل‘‘: پیپ اور لہو (زخم کا پانی)۔
والخَلَق، بفتحتين: هو البالي.
📝 نوٹ / توضیح: ’’الخَلَق‘‘ (خ اور ل دونوں پر زبر): پرانا (بوسیدہ)۔