🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. خلافة أبى بكر بتأييد عمر بعد النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - .
نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت عمرؓ کی تائید سے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت قائم ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4474
حدثنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا سعيد بن عُفير، حدثنا الليث بن سعد، عن عُقيل، عن ابن شِهَاب، عن عبد الرحمن بن مالك المُدلِجِيّ - وهو ابن أخي سُرَاقة بن جُعْشُم - أن أباه أخبره أنه سمع سُراقةَ أنَّ ابن جُعْثُم يقول: جاءتنا رسُلُ كُفَّارِ قُريشٍ يَجعلُون في رسول الله ﷺ دِيَةً، ولمن قتلهما في كلِّ واحدٍ منهما ديةً، أو أسَرَهما (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4425 - على شرط مسلم
سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس کفار کے قاصدین آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قتل پر انعام کا (یوں) اعلان کرتے جو شخص ان دونوں کو قتل کرے گا یا ان کو گرفتار کرے گا، اس کو ان میں سے ہر ایک کے بدلے ایک دیت (100 اونٹ) انعام دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4474]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4474 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح سعيد بن عُفير هو سعيد بن كثير بن عُفير، وعُقيل: هو ابن خالد الأيلي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سعید بن عفیر: یہ سعید بن کثیر بن عفیر ہیں۔ عقیل: یہ ابن خالد الایلی ہیں۔
وأخرجه مطولًا بقصة سراقة بتمامها البخاريُّ (3906) عن يحيى بن بُكير، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3906) نے سراقہ کے قصے کے ساتھ مکمل طوالت میں یحییٰ بن بکیر > لیث بن سعد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس حاکم کا اسے (بطورِ مستدرک) لانا ان کا بھولپن ہے۔
وقد تقدَّم مطولًا بذكر قصة سراقة تامةً برقم (4315) من طريق معمر بن راشد عن الزُّهْري.
📝 نوٹ / توضیح: سراقہ کے مکمل قصے کے ذکر کے ساتھ یہ طوالت میں (نمبر 4315) پر معمر بن راشد > زہری کے طریق سے گزر چکی ہے۔