المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ بِتَأْيِيدِ عُمَرَ بَعْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - .
نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت عمرؓ کی تائید سے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت قائم ہوئی
حدیث نمبر: 4474
حدثنا عبد الله بن جعفر الفارسي، حدثنا يعقوب بن سفيان، حدثنا سعيد بن عُفير، حدثنا الليث بن سعد، عن عُقيل، عن ابن شِهَاب، عن عبد الرحمن بن مالك المُدلِجِيّ - وهو ابن أخي سُرَاقة بن جُعْشُم - أن أباه أخبره أنه سمع سُراقةَ أنَّ ابن جُعْثُم يقول: جاءتنا رسُلُ كُفَّارِ قُريشٍ يَجعلُون في رسول الله ﷺ دِيَةً، ولمن قتلهما في كلِّ واحدٍ منهما ديةً، أو أسَرَهما (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4425 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4425 - على شرط مسلم
سیدنا سراقہ بن جعشم کے بھتیجے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سراقہ بن جعشم کو فرماتے سنا: ”کفارِ قریش کے قاصد ہمارے پاس آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر (میں سے ہر ایک) کے لیے ایک ایک دیت (سو سو اونٹ) کے برابر انعام مقرر کیا جو انہیں قتل کر دے یا قیدی بنا لے“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4474]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح سعيد بن عُفير هو سعيد بن كثير بن عُفير، وعُقيل: هو ابن خالد الأيلي.» [ترقيم الرساله 4474] [ترقيم الشركة 4451] [ترقيم العلميه 4425]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح سعيد بن عُفير هو سعيد بن كثير بن عُفير
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4474 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح سعيد بن عُفير هو سعيد بن كثير بن عُفير، وعُقيل: هو ابن خالد الأيلي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سعید بن عفیر: یہ سعید بن کثیر بن عفیر ہیں۔ عقیل: یہ ابن خالد الایلی ہیں۔
وأخرجه مطولًا بقصة سراقة بتمامها البخاريُّ (3906) عن يحيى بن بُكير، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3906) نے سراقہ کے قصے کے ساتھ مکمل طوالت میں یحییٰ بن بکیر > لیث بن سعد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: پس حاکم کا اسے (بطورِ مستدرک) لانا ان کا بھولپن ہے۔
وقد تقدَّم مطولًا بذكر قصة سراقة تامةً برقم (4315) من طريق معمر بن راشد عن الزُّهْري.
📝 نوٹ / توضیح: سراقہ کے مکمل قصے کے ذکر کے ساتھ یہ طوالت میں (نمبر 4315) پر معمر بن راشد > زہری کے طریق سے گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4474 in Urdu