🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. فضيلة الشيخين من لسان على - رضي الله عنهم - .
حضرت علیؓ کی زبان سے شیخین (ابو بکر و عمر) کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4479
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان الواسِطي، حدثنا أبو نُعيم وخَلّاد بن يحيى، قالا: حدثنا مِسْعَر، عن أبي عَون الثقَفي، عن أبي صالح الحَنَفي، عن علي قال: قال لي النبيُّ ﷺ ولأبي بكر:"مع أحدِكُما جبريلُ، ومع الآخرِ ميكائيلُ، وإسرافيلُ مَلَكٌ عظيمٌ يَشهَدُ القتالَ ويكون في الصَّفِّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4430 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں سے ایک کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے کے ساتھ سیدنا میکائیل علیہ السلام ہیں۔ اور سیدنا اسرافیل علیہ السلام ایک عظیم فرشتہ ہے جو جہاد میں آتا ہے اور (مسلمانوں کی) صفوں میں شریک ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4479]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4479 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح أبو نُعيم: هو الفضل بن دُكَين، ومِسعر: هو ابن كِدام، وأبو عون الثقفي: هو محمد بن عُبيد الله بن سعيد، وأبو صالح الحنفي: هو عبد الرحمن بن قيس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم: یہ فضل بن دکین ہیں۔ مسعر: یہ ابن کدام ہیں۔ ابو عون الثقفی: یہ محمد بن عبیداللہ بن سعید ہیں۔ ابو صالح الحنفی: یہ عبدالرحمن بن قیس ہیں۔
وأخرجه أحمد 2 / (1257) عن أبي نُعيم، بهذا الإسناد. لكنه قال: عن علي قال: قيل لعلي ولأبي بكر … وليس صريحًا في الرفع، لكن مثله له حكم الرفع، فالظاهر أن الحاكم هنا ساق لفظ رواية خلاد بن يحيى، وقد وافق خلّادًا على التصريح بالرفع أبو أحمد الزُّبيري عند البزار (729) وغيره، وكذلك جعفر بن عَون كما سيأتي عند المصنف برقم (4704)، وكذلك شريك النَّخَعي عند الضياء المقدسي في "المختارة" 2/ (634).
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 2/ (1257) نے ابو نعیم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ لیکن انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی اور ابوبکر سے کہا گیا۔۔۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ رفع (نبی ﷺ کے فرمان ہونے) میں صریح نہیں ہے، لیکن اس جیسی بات کا حکم ’’مرفوع‘‘ کا ہی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حاکم نے یہاں خلاد بن یحییٰ کی روایت کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ 🧩 متابعات و شواہد: خلاد کی رفع کی تصریح پر موافقت ابو احمد الزبیری نے بزار (729) میں کی ہے، اور جعفر بن عون نے بھی (جیسا کہ نمبر 4704 پر آئے گا)، اور اسی طرح شریک النخعی نے ضیاء المقدسی کی ’’المختارۃ‘‘ 2/ (634) میں کی ہے۔