المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. الخلافة بالمدينة والملك بالشام .
نبوی خلافت تیس سال رہے گی پھر بادشاہت ہو گی
حدیث نمبر: 4491
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الصَّقْر، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا عَبد الله بن عمر بن حفص، عن نافع، عن ابن عمر قال: لما دخَل رسولُ الله ﷺ عامَ الفتحِ رأى النساءَ يَلْطُمْن وجوهَ الخِيلِ بالخُمُر، فتبسّم إلى أبي بكر وقال:"يا أبا بكر"، كيف قال حسانُ بن ثابتٍ؟"، فأنشده أبو بكر: عَدِمتُ بُنَيَّتي إن لم تَرَوها … تُثيرُ النَّقعَ مِن كَنَفَي كَدَاءِ (1) يُنازِعنَ الأسِنَّةَ مُسرِعاتٍ … يُلطّمُهنَّ بالخُمُرِ النساءُ فقال رسول الله ﷺ: ادخُلُوا من حيثُ قال حسّانُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4442 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4442 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: فتح مکہ کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ عورتیں اپنے دوپٹوں کے ساتھ گھوڑوں کے چہروں سے غبار صاف کر رہی ہیں۔ تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب مسکرا کر دیکھا اور فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا کہا؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ میں نے پیاری بیٹی کو کھو دیا ہے اگر تم اس کو نہ دیکھو، (ہمارا لشکر) مکہ کے بالائی علاقے کداء سے غبار اڑا رہا ہے۔ لگاموں کی رسیاں ایک دوسری سے الجھ رہی تھیں اور عورتیں اپنے دوپٹوں کے ساتھ گھوڑوں کے چہروں سے غبار صاف کر رہی تھیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: داخل ہو جاؤ جس طرح حسان نے کہا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4491]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4491 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
ويشهد له مرسل عروة بن الزُّبير ومرسل الزُّهْري عند البيهقي في "الدلائل" 5/ 49 و 49 - 50.
🧩 متابعات و شواہد: اس کے لیے عروہ بن زبیر اور زہری کی مرسل روایات (بیہقی الدلائل 5/ 49-50) بطورِ شاہد ہیں۔
والخُمُر جمع خِمار: وهو ما تغطي به المرأة رأسها.
📝 نوٹ / توضیح: ’’الخُمُر‘‘: یہ خمار کی جمع ہے، اور یہ وہ کپڑا ہے جس سے عورت اپنا سر ڈھانپتی ہے (اوڑھنی)۔
والنقع: الغُبار.
📝 نوٹ / توضیح: ’’النقع‘‘: غبار (مٹی)۔
وكَنَفا كداء: جانباها، وكَداء: تُعرف اليوم برِيع الحَجُون، يدخل طريقُه بين مقبرتي المَعْلاة، ويُفضي من الجهة الأخرى إلى حي العتيبيّة وجَزْول.
📝 نوٹ / توضیح: ’’کنفا کداء‘‘: کداء کے دونوں پہلو (اطراف)۔ ’’کداء‘‘: آج کل اسے ’’ریع الحجون‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا راستہ مقبرہ معلاۃ کے درمیان سے داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف محلہ عتیبیہ اور جزول تک جاتا ہے۔
ويُنازِعْن الأسِنَّة، أي: يضاهين الأسنّة التي هي الرّماح في قَوامها واعتدالها.
📝 نوٹ / توضیح: ’’ینازعن الاسنۃ‘‘: یعنی وہ نیزوں کی انیوں (سنِ نوک) کا مقابلہ کرتی ہیں، یعنی اپنی ساخت اور سیدھے پن میں نیزوں کی مانند ہیں۔
وقد روت عائشة ﵂ شعر حسان هذا ضمن قصيدته التي قالها في هجاء المشركين، أخرج مسلم روايتها برقم (2490).
🧾 تفصیلِ روایت: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حسان (بن ثابت) کا یہ شعر ان کی اس نظم کے ضمن میں روایت کیا ہے جو انہوں نے مشرکین کی ہجو میں کہی تھی۔ مسلم نے ان کی روایت (2490) تخریج کی ہے۔
(1) قال الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 4/ 296: أهل العربية يروون البيت على ذلك: تثير النقع موعدها كَداءُ، حتى تستوي قافية هذا البيت مع قافية البيت الذي بعده.
📝 نوٹ / توضیح: طحاوی (شرح معانی الآثار: 4/ 296) نے کہا: ’’اہل عربیت (زبان کے ماہرین) اس شعر کو یوں روایت کرتے ہیں: تثیر النقع موعدھا کداء۔ تاکہ اس شعر کا قافیہ اس کے بعد والے شعر کے قافیے کے ساتھ برابر ہو جائے۔‘‘
(2) إسناده حسن في الشواهد من أجل عَبد الله بن عُمر بن حفص: وهو العُمري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبداللہ بن عمر بن حفص (العمری) کی وجہ سے شواہد میں ’’حسن‘‘ ہے۔
وأخرجه الفاكهي في "أخبار مكة" (172)، والطبري في "تهذيب الآثار" في قسم مسند عمر 2/ 664، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 4/ 296، والبيهقي في "دلائل النبوة" 5/ 66، وشُهدة الكاتبة في "مشيختها" (66)، وعبد المؤمن بن خلف الدِّمْياطي في "جزء مصافحات مسلم" ص 263 - 264 من طرق عن إبراهيم بن المنذر الحِزَامي بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے فاکہی (اخبار مکہ 172)، طبری (تہذیب الآثار: مسند عمر 2/ 664)، طحاوی (4/ 296)، بیہقی (دلائل النبوۃ 5/ 66)، شہدہ الکاتبہ (مشیختھا 66)، اور دمیاطی (جزء مصافحات مسلم 263-264) نے ابراہیم بن المنذر الحزامی سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔