المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى النَّبِيِّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ .
نبی کریم ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب حضرت ابو بکرؓ تھے، پھر حضرت عمرؓ، پھر حضرت ابو عبیدہؓ
حدیث نمبر: 4494
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِب، قال: قالت عائشةُ: لما ماتت خَديجةُ جاءت خَولةُ بنت حَكيم إلى رسولِ الله ﷺ فقالت: ألا تَزَوَّجُ؟ قال:"مَن؟" قالت: إن شئتَ بِكرًا، وإن شئتَ ثيّبًا، قال: ومَنِ البِكرُ ومَن الثيّبُ؟ قالت: أما البكرُ، فابنهُ أحبِّ خلقِ الله إليك، عائشةُ بنت أبي بكر، وأما الثيّبُ فسَوْدةُ بنت زَمْعة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4445 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4445 - على شرط مسلم
یحییٰ بن عبد الرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی تو خولہ بنت حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کس سے؟“ انہوں نے عرض کیا: اگر آپ چاہیں تو کنواری سے اور اگر چاہیں تو بیوہ (یا مطلقہ) سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کنواری کون ہے اور بیوہ کون؟“ انہوں نے عرض کیا: جہاں تک کنواری کا تعلق ہے تو وہ اللہ کی مخلوق میں آپ کے سب سے محبوب شخص کی صاحبزادی عائشہ بنت ابی بکر ہیں، اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4494]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4494]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 4494] [ترقيم الشركة 4471] [ترقيم العلميه 4445]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4494 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو - وهو ابن علقمة الليثي - ومن أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو العُطاردي - فهما صدوقان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) اور احمد بن عبدالجبار (العطاردی) کی وجہ سے ’’حسن‘‘ ہے، کیونکہ یہ دونوں صدوق ہیں۔
وقد تقدَّم هذا الحديث برقم (2738) من طريق يحيى بن سعيد الأموي عن محمد بن عمرو.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث (نمبر 2738) پر یحییٰ بن سعید الاموی > محمد بن عمرو کے طریق سے گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4494 in Urdu