المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. توضيح معنى ( من يعمل سوءا يجز به ) .
آیت "جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا" کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 4499
أخبرني أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن أبي بكر بن أبي زهير، عن أبي بكر الصِّديق، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، كيف الصلاحُ بعدَ هذه الآية: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [النساء:123] ، فكلُّ سوء عملناهُ جُزينا به؟ قال:"غَفَرَ اللهُ لك يا أبا بكر - قاله ثلاثًا - يا أبا بكر الستَ تَمرضُ؟ ألستَ تَحزَنُ؟ الستَ تَنْصَبُ؟ الستَ تُصيبُك الَّلأواءُ؟"، قلت: نعم، قال:"فهو ما تُجزَون به في الدنيا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4450 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4450 - صحيح
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس آیت مَنْ یَعْمَلْ سُوْءاً یُجْزَبِہِ (النسا: 123) ” جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا “ تو ہم نے جتنے بھی برے عمل کئے ہیں، سب کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا تم بیمار نہیں رہے؟ کیا تم پریشان نہیں رہے؟ کیا تمہیں تھکایا نہیں گیا؟کیا تجھے مصیبتیں نہیں پہنچیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تو ہے جو دنیا میں بدلہ دیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4499]