🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. أحاديث فضائل الشيخين .
شیخین کی فضیلت سے متعلق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4500
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل وأبو محمد عبد الله بن محمد الصَّيدلاني وأبو محمد عبد الله بن إسحاق البغوي ببغداد وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، قالوا: حدثنا أبو بكر محمد بن سليمان بن الحارث الواسطي، حدثنا أبو إسماعيل حفص بن عمر الأُبلِّي، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبعيّ بن حِرَاش، عن حُذيفة بن اليَمَان، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"اقتَدُوا باللَّذَين من بَعدي أبي بكر وعُمرَ، واهتَدُوا بهَدْي عمّارٍ، وتَمسَكُوا بِعَهْد ابن أمِّ عَبْدٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4451 - صحيح
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرنا، عمار رضی اللہ عنہ سے رہنمائی حاصل کرنا اور ابن ام معبد رضی اللہ عنہ کے عہد کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4500]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4500 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد واهٍ بمرّة من أجل حفص بن عمر الأُبُلِّي، فهو متروك وكذَّبه بعضهم على أنَّ الحديث روي من غير طريقه، فقد رواه عن مسعرٍ أيضًا أبو يحيى عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِمّاني كما سيأتي بعده، ووكيع بن الجراح وسفيانُ بن عُيينة كما سيأتي بالرقمين (4502) و (4504)، فالحديث صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند حفص بن عمر الابلی کی وجہ سے ’’انتہائی کمزور‘‘ (واہ بمرۃ) ہے، وہ متروک ہے اور بعض نے اسے جھوٹا کہا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: البتہ یہ حدیث دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔ اسے مسعر سے ابو یحییٰ عبدالحمید الحمانی نے (جو بعد میں آئے گا)، وکیع بن جراح اور سفیان بن عیینہ نے (نمبر 4502، 4504) بھی روایت کیا ہے، لہٰذا حدیث صحیح ہے۔
وأخرجه أبو الحسين بن المهتدي في "مشيخته" (48) من طريق عثمان بن أحمد الدقاق، عن محمد بن سليمان بن الحارث، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الحسین بن المہتدی (مشیختہ: 48) نے عثمان بن احمد الدقاق > محمد بن سلیمان بن الحارث سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 33/ 114 من طريق الهيثم بن خالد بن يزيد البغدادي، عن حفص بن عمر الأُبُلِّي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے ’’تاریخ دمشق‘‘ 33/ 114 میں ہیثم بن خالد بن یزید البغدادی > حفص بن عمر الابلی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقد رواه عن عبد الملك بن عُمير جماعة آخرون غيرُ مسعرٍ كما في الأحاديث التالية عند المصنف.
🧾 تفصیلِ روایت: مسعر کے علاوہ ایک اور جماعت نے بھی اسے عبدالملک بن عمیر سے روایت کیا ہے، جیسا کہ مصنف کی اگلی احادیث میں ہے۔
ومنهم أيضًا عند غيره زائدةُ بنُ قُدَامة عن عبد الملك فيما أخرجه أحمد 38/ (23245)، والترمذي (3662)، والطحاوي في "مشكل الآثار" (1226 - 1229)، وغيرهم. ولكن أكثرهم اقتصر على ذكر الأمر بالاقتداء بأبي بكر وعمر. وقال الترمذي: هذا حديث حسن. وكذا حسّنه ابن عبد البر في "جامع بيان العلم وفضله" (2306)، والذهبي في "تاريخ الإسلام " 2/ 138، وابنُ حجر في "موافقة الخُبر الخَبَر" 1/ 143، وصححه الجُوزقاني في "الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير" (141)، وقال العُقيلي في "الضعفاء" 3/ 504: إسناده جيد ثابت.
📖 حوالہ / مصدر: ان میں زائدہ بن قدامہ (احمد 23245، ترمذی 3662، طحاوی 1226-1229 وغیرہ) بھی شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر نے صرف ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی اقتدا کرنے کے حکم پر اکتفا کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ترمذی نے اسے ’’حسن‘‘ کہا۔ اسی طرح ابن عبدالبر (جامع بیان العلم 2306)، ذہبی (تاریخ الاسلام 2/ 138)، ابن حجر (موافقۃ الخبر الخبر 1/ 143) نے اسے حسن قرار دیا۔ جوزقانی (الاباطیل 141) نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا۔ اور عقیلی (الضعفاء 3/ 504) نے کہا: اس کی سند ’’جید اور ثابت‘‘ ہے۔
وسيأتي ذكر رواية زائدة بن قدامة أيضًا عند الرواية رقم (4503).
📝 نوٹ / توضیح: زائدہ بن قدامہ کی روایت کا ذکر (نمبر 4503) پر بھی آئے گا۔
ولم ينفرد عبدُ الملك بن عُمير برواية هذا الحديث، فقد رواه بتمامه أيضًا سالمٌ أبو العلاء المُرادي، عن عمرو بن هَرِم، عن ربعي، عن حذيفة. أخرجه من طريقه أحمد (23386)، والترمذي (3663)، وابن حبان (6902). وسالمٌ المرادي مُختَلف فيه، وأعدل الأقوال فيه قول أبي حاتم الرازي أنه يُكتَب حديثُه؛ يعني للاعتبار، وقد توبع فحديثه حسن في المتابعات والشواهد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبدالملک بن عمیر اس حدیث کی روایت میں منفرد نہیں ہیں، بلکہ سالم ابو العلاء المرادی نے بھی اسے مکمل طور پر: عمرو بن ہرم > ربعی > حذیفہ سے روایت کیا ہے (احمد 23386، ترمذی 3663، ابن حبان 6902)۔ سالم المرادی کے بارے میں اختلاف ہے، اور سب سے منصفانہ قول ابو حاتم رازی کا ہے کہ ’’اس کی حدیث لکھی جائے‘‘ (یعنی بطورِ اعتبار)۔ چونکہ ان کی متابعت کی گئی ہے، لہٰذا ان کی حدیث متابعات اور شواہد میں ’’حسن‘‘ ہے۔
ويشهد له حديث العرباض بن سارية الذي تقدَّم عند المصنف برقم (333) وما بعده بلفظ: "عليكم بسُنّتي وسنّة الخلفاء الراشدين من بعدي، عَضُّوا عليها بالنواجذ"، وهو حديث صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: اس کا شاہد عرباض بن ساریہ کی حدیث ہے جو مصنف کے ہاں (نمبر 333 اور بعد) گزر چکی ہے، جس کے الفاظ ہیں: ’’میری سنت اور میرے بعد خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے تھام لو‘‘۔ اور یہ حدیث ’’صحیح‘‘ ہے۔
قوله: اهتدوا بهدي عمار: أي: سيروا بسيرته.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول ’’اہتدوا بہدی عمار‘‘: یعنی ان (عمار) کی سیرت پر چلو۔
وقوله: "وتمسّكوا بعهد ابن أم عبد": هو عبد الله بن مسعود، أي ما يعهد إليكم ويوصيكم به.
📝 نوٹ / توضیح: اور ان کا قول ’’وتمسکوا بعہد ابن ام عبد‘‘: یعنی ابن مسعود، یعنی جو وہ تمہیں نصیحت اور وصیت کریں۔