🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. مخاطبة الصحابة أبا بكر بـ " يا خليفة رسول الله " .
صحابہ کرامؓ کا حضرت ابو بکرؓ کو "یا خلیفۃ رسول اللہ" کہہ کر خطاب کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4519
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس، قال: طُفْنا بغُرفةٍ فيها أبو بكر حين أصابَه وَجَعُه الذي قُبض فيه، فاطّلع علينا اطِّلاعةً، فقال: أليس تَرضَون بما أصنَعُ؟ قلنا: بلى يا خليفةَ رسولِ الله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4469 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم اس حجرے میں گئے جہاں پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت موجود تھے، جب وہ اس درد میں مبتلا تھے جس میں ان کا انتقال ہوا، آپ نے ہم سے راز کی باتیں کہیں، پھر فرمایا: کیا تم ان امور پر راضی نہیں ہو جو میں نے سرانجام دئیے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4519]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4519 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم بن علي - وهو الواسطي - وقد توبع. فقد أخرجه ابن سعد في "طبقاته الكبرى" 3/ 176 عن عمرو بن عاصم الكلابي، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 77 عن سعدَويه الواسطي، كلاهما عن سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن أنس قال: أطفنا بغرفة أبي بكر الصّدّيق في مرضته التي قُبض فيها، قال: فقلنا: كيف أصبح أو كيف أمسى خليفةُ رسول الله؟ قال: فاطلع علينا اطّلاعةً، فقال: ألستم تَرضون بما أصنع؟ قلنا: بلى قد رضينا. هذا لفظ عمرو بن عاصم، ولفظ سعدويه فيه اختصار.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے، اور یہ موجودہ سند "حسن" ہے کیونکہ اس میں عاصم بن علی (الواسطی) ہیں، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔ 🧩 متابعات: ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 176) میں عمرو بن عاصم الکلابی سے، اور بلاذری نے "انساب الاشراف" (10/ 77) میں سعدویہ الواسطی سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (عمرو اور سعدویہ) اسے سلیمان بن مغیرہ سے، وہ ثابت سے اور وہ حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ: "ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات والے مرض کے دوران ہم ان کے کمرے کے گرد جمع ہوئے اور پوچھا: خلیفۂ رسول اللہ کی صبح یا شام کیسی گزری؟ تو انہوں نے ہم پر جھانکا اور فرمایا: کیا تم میرے فیصلوں پر راضی نہیں ہو؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! ہم راضی ہیں۔" یہ عمرو بن عاصم کے الفاظ ہیں جبکہ سعدویہ کے الفاظ میں اختصار ہے۔